پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کی گفتگو ہو اور اساتذہ کی تربیت کا ذکر نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔ ہر منصوبہ، ہر پالیسی، ہر اصلاحی خاکہ اس امید پر کھڑا ہوتا ہے کہ بہتر تربیت بہتر تدریس کو جنم دے گی۔ اسی تناظر میں کیسكیڈ ٹریننگ ماڈل کو برسوں سے اپنایا جا رہا ہے—ایک ایسا ماڈل جس میں علم اوپر سے نیچے منتقل ہونا ہوتا ہے، بالکل ایسے جیسے پانی پہاڑ سے وادی کی طرف بہتا ہے۔
نظری طور پر یہ ماڈل مؤثر، منظم اور کم لاگت ہے۔ ماسٹر ٹرینر تیار کیے جاتے ہیں، وہ گائیڈ ٹیچر کو تربیت دیتے ہیں، پھر سبجیکٹ کوآرڈینیٹر، اور آخر میں کلاس روم ٹیچر۔ کاغذ پر سب کچھ ترتیب میں ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہ ترتیب کلاس روم کے دروازے پر آ کر ٹھٹھک جاتی ہے۔
تربیتی ہال میں داخل ہوں تو ایک مختلف دنیا نظر آتی ہے۔ چارٹس آویزاں ہیں، پاورپوائنٹ سلائیڈز میں سٹوڈنٹ سینٹرڈ لرننگ، ایکٹیو انگیجمنٹ اور فارمیٹو اسیسمنٹ جیسے دلکش الفاظ جگمگا رہے ہوتے ہیں۔ گروپ ورک ہوتا ہے، ریفلیکشن ایکٹیویٹیز ہوتی ہیں، اور ہر ٹیچر اس یقین کے ساتھ سر ہلاتا ہے کہ اب تعلیم واقعی بدلنے والی ہے۔
لیکن یہی استاد جب اگلے دن اسکول پہنچتا ہے تو حقیقت اس کے استقبال کے لیے تیار کھڑی ہوتی ہے۔ پچاس سے زائد طلبہ، محدود وقت، نامکمل سہولیات، اور ساتھ ہی رجسٹر، رپورٹنگ اور ڈیٹا انٹری کا دباؤ۔ ایسے ماحول میں وہی جدید تدریسی طریقے، جو ٹریننگ ہال میں ممکن لگتے تھے، عملی طور پر ایک اضافی بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔
کیسكیڈ ٹریننگ کا ایک خاموش مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر مرحلے پر علم سُکڑتا جاتا ہے۔ جو بات تفصیل سے ماسٹر ٹرینرسمجھاتا ہے، وہ گائیڈ ٹیچر کے پاس خلاصہ بن جاتی ہے، سبجیکٹ کوآرڈینیٹر کے لیے نکات میں ڈھل جاتی ہے، اور کلاس روم تک پہنچتے پہنچتے محض ایک ہدایت رہ جاتی ہے۔ یوں علم نیچے پہنچنے سے پہلے ہی کئی فلٹرز سے گزر کر اپنی اصل تاثیر کھو دیتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کلاس روم میں تبدیلی کے بجائے نمائشی مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ مشاہدہ ہو تو ماڈل کلاس، چیک لسٹ مکمل ہو تو سب ٹھیک۔ لیکن مستقل فالو اپ، کوچنگ اور زمینی معاونت کے بغیر تدریسی رویے ویسے ہی رہتے ہیں جیسے برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔ طالب علم کا سوال بھی نہیں بدلتا: “سر، یہ امتحان میں آئے گا؟”
یہ صورتحال ہمیں ایک بنیادی نکتے کی طرف لے جاتی ہے۔ مسئلہ اساتذہ کی نیت یا قابلیت کا نہیں، بلکہ اس توقع کا ہے کہ چند دن کی تربیت، بغیر نظامی تبدیلی کے، کلاس روم کو بدل دے گی۔ جب تک استاد کو عملی سپورٹ، وقت، اور اعتماد نہیں دیا جاتا، تربیت محض ایک رسمی سرگرمی بن کر رہ جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تربیت کو ایک مسلسل عمل کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ ایک ایونٹ کے طور پر۔ کیسكیڈ کے ساتھ ساتھ مضبوط کوچنگ، محدود مگر گہری تربیت، اور حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کیے جائیں۔ بصورت دیگر ہم ہر سال نئی ٹریننگ تو کراتے رہیں گے، مگر وہی سوال دہراتے رہیں گے: علم آخر کہاں رُک گیا؟
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نیچے دیکھنے کے بجائے اس پائپ لائن پر غور کریں، جس سے ہم علم کو گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ اگر پانی آخر تک نہیں پہنچ رہا، تو الزام وادی کا نہیں—راستے کا ہوتا ہے۔

Great! worth reading
Worth reading!