تصور کریں کہ آپ برسوں کی محنت، ڈگریوں اور تجربے کے ساتھ ایک سرکاری یا نجی ادارے کا حصہ بنتے ہیں۔ آپ کی نیت صاف ہے اور مقصد ملک و قوم کی خدمت۔ لیکن جیسے ہی آپ کام شروع کرتے ہیں، آپ کو ایک ایسی نادیدہ دیوار کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اینٹ پتھر کی نہیں بلکہ ‘لفظوں کی جادوگری’ اور ‘ڈیجیٹل فریب’ سے بنی ہے۔ آپ کی ایمانداری آپ کا جرم بن جاتی ہے اور آپ کی خاموشی کو آپ کی کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ پرانے دور سے لے کر آج کے اس جدید دفتر کا نقشہ ہے جہاں آج کل ‘مصنوعی ذہانت’ (AI) کو انسانی دشمنی کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل گیس لائٹنگ: ایک خاموش وبا
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹولز نے کام کو بظاہر آسان بنا دیا ہے۔ لیکن اسی ٹیکنالوجی کی اوٹ میں ایک نئی قسم کی عداوت جنم لے رہی ہے جسے ہم “ڈیجیٹل گیس لائٹنگ” (Digital Gaslighting) کہہ سکتے ہیں۔ گیس لائٹنگ دراصل نفسیاتی تشدد کی وہ قسم ہے جس میں کسی شخص کو اس حد تک ذہنی اذیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی ہی عقل، یادداشت اور سچائی پر شک کرنے لگے۔
پہلے دور میں سازشیں آمنے سامنے ہوتی تھیں، مگر اب یہ کمپیوٹر سکرینز اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ لوگ ChatGPT یا DeepSeek جیسے ٹولز سے بنی بنائی رپورٹس تیار کر کے اور “مصنوعی اعتماد” (Artificial Confidence) اوڑھ کر خود کو بہتر ثابت کرتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ مخلص ملازمین جو اپنی محنت اور دیانت پر یقین رکھتے ہیں، انہیں “ٹیکنالوجی سے نابلد” یا “نااہل” ثابت کر کے کونے سے لگا دیا جاتا ہے۔
سرکاری شعبے میں اس کے اثرات: نااہلی کی جیت اور میرٹ کا قتل
سرکاری دفاتر میں جب “فیورٹزم” اور چاپلوسی کا کلچر پروان چڑھتا ہے، تو وہاں سب سے پہلا قتل میرٹ کا ہوتا ہے۔ اس زہریلے نظام میں مخلص اور اہل افسران (Capable Officers) کو جان بوجھ کر سائیڈ لائن کر دیا جاتا ہے۔ کئی کئی سال تک ان سے کام چھین کر انہیں بے کار بٹھائے رکھنا اور پھر اچانک کسی پیچیدہ کام کا بوجھ ڈال کر ان کی کردار کشی کرنا دراصل ایک سوچی سمجھی دفتری غنڈہ گردی (Office Bullying) ہے۔ یہ ہتھکنڈے صرف اس لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ایک دیانتدار ملازم کے خود اعتمادی کو توڑ کر اسے ذہنی طور پر مفلوج کر دیا جائے۔ جب ایک قابل شخص کو مسلسل نیچا دکھایا جائے اور چاپلوس ٹولہ مل کر اسے “نااہل” ثابت کرنے کی مہم چلائے، تو اس کی کارکردگی اور ذہنی صحت دونوں تباہ ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف ایک فرد کی جنگ نہیں، بلکہ پورے ادارے کی تباہی کا پیش خیمہ ہے، جہاں فائلیں نہیں بلکہ انسانوں کی صلاحیتیں دفن ہوتی ہیں۔ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کی گواہی دیتے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 22 فیصد ملازمین نے کام کی جگہ پر تشدد یا ہراسانی کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان میں صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں 70 سے 90 فیصد خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔ اس عذاب سے مرد بھی محفوظ نہیں؛ تقریباً 30 سے 40 فیصد مرد بھی دفتری سیاست اور ‘گیس لائٹنگ’ کا شکار ہوتے ہیں، لیکن معاشرتی انا کی وجہ سے وہ کبھی آواز نہیں اٹھاتے۔ سب سے لرزہ خیز بات یہ ہے کہ یہ ہراسانی صرف ذہنی بیماری نہیں بلکہ موت کا سبب بھی بنتی ہے۔ بین الاقوامی تحقیقات کے مطابق، دفتری غنڈہ گردی (Workplace Bullying) کا شکار ہونے والے تقریباً 30 فیصد لوگ خودکشی (Suicide) کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جب انسان کو اس کی اپنی نظروں میں گرا دیا جائے اور اس کے رزق کے راستے مسدود کر دیے جائیں، تو وہ اکثر موت کو زندگی پر ترجیح دیتا ہے۔
خوشامد کی ثقافت اور ‘مہمان نوازی’ کا فریب
آج کل دفاتر میں ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے: “خوشامد کے ذریعے برتری”۔ کچھ لوگ اپنی پیشہ ورانہ کمزوریوں کو چھپانے کے لیے مینیجرز سے لے کر غیر ملکی وفود (Delegations) تک کو اپنے گھروں پر بلا کر شاہانہ ضیافتیں دیتے ہیں۔ اسے “مہمان نوازی” کا نام دیا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اعلیٰ حکام کے کان بھرنے اور مراعات حاصل کرنے کا ایک سیاسی حربہ ہے۔ باہر سے آنے والے وفود بھی اکثر ان چرب زبان لوگوں کے جال میں آ جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک حقیقی محنتی ملازم کو “نااہل” اور ان خوشامدیوں کو “ہارڈ ورکر” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ افسرانِ بالا کے جوتے چاٹنے تک کو تیار رہتے ہیں تاکہ محض چند ٹریننگز یا ذاتی مفادات حاصل کر سکیں۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ ایک غلیظ ٹرینڈ ہے، مگر اسے تبدیل کوئی نہیں کرتا، کیونکہ ‘پاور’ میں بیٹھے لوگ بھی اکثر اسی خوشامد کے بھوکے ہوتے ہیں۔
دفتری مافیا اور ‘برین واشنگ’ کا جال
خاص طور پر سرکاری اور نجی اداروں میں، مخصوص گروہ ‘اوپر’ کی سرپرستی میں میرٹ کا قتل کرتے ہیں:
- کردار کشی (Character Assassination): قابل ملازم کو افسران کے سامنے “نفسیاتی مریض” یا “جھگڑالو” مشہور کر دینا۔
- پیشہ ورانہ رکاوٹ (Professional Sabotage): کسی کی محنت سے تیار کردہ رپورٹ کو دانستہ غلط ثابت کر دینا۔
- ٹیکنالوجی کا استحصال: اپنی نااہلی چھپانے کے لیے AI ٹولز کا سہارا لینا اور دوسروں کی حقیقی تخلیق کو نظر انداز کروانا۔
جب کوئی مظلوم ملازم اعلیٰ عہدیداروں کے سامنے اپنی فریاد لے کر جاتا ہے، تو اسے انصاف ملنے کے بجائے مزید ڈیگریڈ (Degrade) کیا جاتا ہے۔ سسٹم ان طاقتور خوشامدی گروہوں کو بچانے کے لیے فریادی کو ہی قصور وار ٹھہراتا ہے، جو اس کے خود اعتمادی پر براہِ راست حملہ ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کوئی بھی سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت انسانی دیانت (Integrity) اور خلوص کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ جس معاشرے میں “الفاظ کی جادوگری” اور “ذاتی دعوتوں” کو سچی محنت پر ترجیح دی جائے، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ تحریر ان تمام مرد و خواتین کے نام ہے جن کا ‘خاموش قتل’ روزانہ ان کے دفاتر کی چمکتی میزوں پر ہوتا ہے۔ وہ جو گھٹن میں جیتے ہیں اور جنہیں خود ان کی اپنی نظروں میں گرا دیا جاتا ہے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ آپ کی خاموشی ان “ڈیجیٹل دہشت گردوں” کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
آج اگر آپ نے آواز نہ اٹھائی، تو کل آپ کی جگہ کوئی اور اخدکشی کر رہا ہوگا۔ انتخاب آپ کا ہے: خاموشی سے مٹ جانا، یا بول کر جی اٹھنا۔
