تعلیم کے میدان میں آج کل ایک لفظ بہت مقبول ہے: “انٹرایکٹو”۔  ہر تربیت، ہر ورکشاپ، ہر پالیسی دستاویز میں یہ لفظ نئی کتاب پر چمکتا ہوا کورجیسا چمکتا ہے ۔مگر کبھی ہم نے خود سےسوال کیا  ہے۔

کیا ہم واقعی انٹرایکٹو ہیں؟

یا صرف سلائیڈز انٹرایکٹو ہیں؟

تربیتی سیشن کا آغاز بڑے جوش سے ہوتا ہے:”آج ہم مل کر سیکھیں گے۔”  ہم بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ واہ! آج تو بولنے کا موقع ملے گا۔ پھر سلائیڈ نمبر 1 آتی ہے۔ پھر 12… پھر 25… اور ہم خاموشی سے نوٹس لیتے رہتے ہیں۔بالکل ویسے ہی جیسے ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے کلاس میں بیٹھیں۔

کبھی کبھی  میں سوچتا ہوں، کہ اگر “انٹرایکٹو” کا مطلب صرف یہ ہے کہ آخر میں پوچھ لیا جائے “کوئی سوال؟” تو پھر قبرستان بھی کافی انٹرایکٹو جگہ ہے وہاں بھی سب خاموش ہوتے ہیں۔

ہم اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر سوال نہیں آئے تو سب سمجھ گئے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سوال نہ آنا اکثر اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ: وقت کم ہے، ماحول رسمی ہے یا سوال پوچھنا “غیر ضروری” سمجھا جاتا ہے اور پھر ہم اسی خاموشی کو کامیابی سمجھ کر اگلی سلائیڈ پر چلے جاتے ہیں۔

ہم اکثر تربیتی ہال میں کھڑے ہو کر پورے اعتماد سے اساتذہ کو نصیحت کرتے ہیں کہ بچوں کو بولنے دیں، سوال کرنے دیں، سوچنے دیں۔ ہم کہتے ہیں کہ کلاس روم میں خاموشی نہیں، مکالمہ ہونا چاہیے۔ بچے متحرک ہوں، ہاتھ اٹھائیں، بحث کریں، اختلاف کریں، اپنی رائے پیش کریں۔ لیکن جب وہی اساتذہ ہماری تربیت میں شریک ہوتے ہیں تو منظر کچھ مختلف ہوتا ہے۔ ہم بولتے ہیں، وہ سنتے ہیں۔ ہم سلائیڈ بدلتے ہیں، وہ نوٹس لیتے ہیں۔ ہم وقت کی کمی کا حوالہ دے کر سوالات اگلے سیشن تک موخر کر دیتے ہیں۔ اور جب آخر میں پوچھتے ہیں “کوئی سوال؟” تو خاموشی کو اطمینان سمجھ لیتے ہیں۔

کبھی کبھی دل میں ایک چبھن سی اٹھتی ہے کہ کیا ہم واقعی وہی ماحول تخلیق کر رہے ہیں جس کا درس دیتے ہیں؟ کیا ہم مکالمہ پیدا کر رہے ہیں یا محض ہدایات منتقل کر رہے ہیں؟

یہ منظر کچھ یوں لگتا ہے جیسے ہم بچوں کو دوڑنے کی تربیت دے رہے ہوں، مگر خود کبھی کرسی سے نہ اٹھیں۔ ہم حرکت کی بات کرتے ہیں، مگر خود ساکت رہتے ہیں۔ ہم سوال کی اہمیت پر لیکچر دیتے ہیں، مگر سوال سننے کے لیے ٹھہرتے نہیں۔

شاید اصل عکاسی(غوروفکر)  کا لمحہ یہی ہے — جب ہمیں احساس ہو کہ تدریس کا ماڈل صرف الفاظ سے نہیں، رویے سے منتقل ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ کلاس روم زندہ ہو، تو تربیت بھی زندہ ہونی چاہیے۔ ورنہ ہم صرف دوڑنے کی تھیوری پڑھا رہے ہوں گے، دوڑنا نہیں سکھا رہے ہوں گے۔

پاورپوائنٹ بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سلائیڈ سیکھنے کے عمل پر حاوی ہو جائے اور مکالمہ پس منظر میں چلا جائے۔ جب سرگرمیاں وقت کی کمی کے باعث مختصر کر دی جائیں، عکاسی محض آخری چند منٹوں تک محدود رہ جائے، اور تربیت کے بعد کوئی عملی رہنمائی یا فالو اَپ موجود نہ ہو، تو “انٹرایکٹو” صرف ایک دلکش اصطلاح بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے میں لفظ تو باقی رہتا ہے، مگر اس کا عملی اثر کلاس روم تک نہیں پہنچ پاتا۔

میں نے اکثر فلیڈ میں جا کر دیکھا ہے جہاں  اساتذہ سنجیدگی سے تبدیلی کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ تربیت میں سیکھی گئی نئی حکمتِ عملیوں کو کلاس روم میں آزمانے کی کوشش کرتے ہیں، طلبہ کو گروپ ورک میں شامل کرتے ہیں اور سوالات کے ذریعے سوچنے کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن عملی حالات اکثر ان کوششوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وسیع اور بھاری نصاب، محدود وقت، بڑی جماعتیں اور امتحان پر مبنی نظام بتدریج تدریس کو دوبارہ روایتی لیکچر طرز کی طرف لے جاتے ہیں۔

یہ صورتِ حال کسی ایک استاد کی کمزوری نہیں بلکہ ایک وسیع انتظامی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں انفرادی کوششیں ساختی دباؤ کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہیں۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایمانداری سے خود احتسابی کریں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہماری تربیت واقعی وہی نمونہ پیش کرتی ہے جس کی ہم اساتذہ سے توقع رکھتے ہیں، یا ہم صرف الفاظ دہرا رہے ہیں۔ کیا ہمارے سیشن حقیقتاً مکالمے اور مشترکہ سیکھنے کا ماحول پیدا کرتے ہیں، یا وہ اب بھی معلومات کی یک طرفہ ترسیل تک محدود ہیں؟ کیا ہم معیار کو اس بنیاد پر پرکھتے ہیں کہ کتنے لوگ موجود تھے، یا اس بنیاد پر کہ ان کی تدریسی روش میں کیا حقیقی تبدیلی آئی؟

ہلکے طنز کے ساتھ مگرہمیں سنجیدگی سے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اگر “انٹرایکٹو” محض ایک اعلان رہے اور اس کا عملی اظہار نہ ہو، تو ہم الفاظ تو سکھا رہے ہوتے ہیں، مگر رویے نہیں بدل رہے ہوتے۔

آخرکاریہ  سوال کسی ایک ٹرینر، استاد یا ادارے کا نہیں۔ ہم سب اس نظام کا حصہ ہیں — سیکھانے والے بھی، سیکھنے والے بھی، اور فیصلے کرنے والے بھی۔ اگر ہمیں واقعی تبدیلی چاہیے تو اس کا آغاز باہر سے نہیں، اپنے طرزِ عمل سے ہوگا۔ اگلی بار جب ہم کسی سیشن کا آغاز یہ کہہ کر کریں کہ “آج ہم انٹرایکٹو ہوں گے”، تو ایک لمحہ رک کر خود سے سوال کریں: کیا ہم واقعی سننے، سوال برداشت کرنے اور مختلف رائے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں؟

تعلیم کی اصلاح ہنسی اور طنز سے ہمیں آئینہ ضرور دکھا سکتی ہے، مگر حقیقی پیش رفت سچائی، عکاسی اور عمل سے ہی ممکن ہے۔مجھے لگتاہے کہ  اصل انٹرایکشن سلائیڈز کی تعداد میں نہیں، بلکہ مکالمے کی گہرائی میں پوشیدہ ہے — جہاں بات صرف کہی نہیں جاتی، سنی بھی جاتی ہے۔

Muhamamd Yusuf

By Muhamamd Yusuf

Muhammad Yusuf is an education reform specialist, teacher trainer, and policy advisor with extensive experience in foundational learning and continuous professional development (CPD). He has contributed to large-scale education initiatives focused on improving classroom practices, assessment systems, and institutional capacity. His work bridges research, policy, and field implementation, supporting sustainable improvements in teaching and learning. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *