آج کے بچے کے سوالات بدل چکے ہیں۔ اب وہ صرف یہ نہیں پوچھتے کہ امتحان کب ہے یا نتیجہ کب آئے گا، بلکہ ایک ایسا سوال پوچھنے لگے ہیں جو پورے تعلیمی نظام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے:
“یہ سلیبس میں ہے یا لائف میں؟”
بظاہر یہ ایک معصوم جملہ ہے، مگر حقیقت میں یہ سوال ہمارے نصاب، ہماری تدریس، اور ہماری ترجیحات پر گہرا طنز ہے۔ یہ سوال کسی ایک بچے کا نہیں، بلکہ اس نسل کی نمائندگی کرتا ہے جو اسکول تو جاتی ہے، مگر زندگی کے لیے غیر تیار واپس آتی ہے۔
ہمارے تعلیمی اداروں میں بچوں کو بہت کچھ سکھایا جاتا ہے۔ ریاضی میں اشکال کے رقبے، سائنس میں کیمیائی فارمولے، زبان میں قواعد و املا، اور سماجی علوم میں تعریفیں اور تاریخیں۔ مگر اسی کلاس روم میں کچھ بنیادی انسانی مہارتیں مسلسل نظرانداز ہو جاتی ہیں—ناکامی کو قبول کرنے کا ہنر، اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت، غصے پر قابو پانے کی تربیت، اور مشکل حالات میں صبر اختیار کرنے کا سلیقہ۔
یہ تمام چیزیں عجیب طور پر ہمیشہ “آؤٹ آف سلیبس” قرار پاتی ہیں۔
والدین کی گفتگو میں ایک جملہ بہت عام ہے:”ہم چاہتے ہیں ہمارا بچہ کچھ بنے۔” یہ جملہ نیک نیتی پر مبنی ہے، مگر اس کے اندر ایک گہرا ابہام چُھپا ہے۔ جب یہ سوال اٹھایا جائے کہ “کچھ” سے مراد کیا ہے—ایک اچھا انسان، ایک ذمہ دار شہری، یا صرف زیادہ نمبر لینے والا طالب علم—تو جواب اکثر واضح نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ “کچھ بننا” نصاب میں ایک سادہ تصور ہے، مگر زندگی میں یہ ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔
تعلیمی نظام میں استاد کا کردار بھی اسی تضاد کا شکار ہے۔ کلاس روم میں ہر سوال امتحانی بن جاتا ہے، ہر سرگرمی نمبر سے جڑ جاتی ہے، اور ہر سبق کا مقصد اگلے پیپر کی تیاری رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً تعلیم ایک فطری عمل کے بجائے ایک دوڑ بن جاتی ہے، جس میں منزل صرف امتحان ہوتا ہے۔ حالانکہ زندگی، جو اصل امتحان ہے، کبھی تاریخ بتا کر نہیں آتی۔ وہ ہمیشہ اچانک آتی ہے—سرپرائز ٹیسٹ کی طرح۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو مہارتیں واقعی زندگی میں کام آتی ہیں، وہ اکثر امتحانی پرچوں میں شامل ہی نہیں ہوتیں، اور جو پرچوں میں شامل ہوتی ہیں، وہ زندگی میں کم ہی کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔
اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے منعقد کی جانے والی ورکشاپس بھی اسی خلا کی عکاسی کرتی ہیں۔ سلائیڈ پر بڑے فخر سے “زندگی کی مہارتیں” لکھا ہوتا ہے، مگر چار گھنٹے صرف پاورپوائنٹ پریزنٹیشن چلتی رہتی ہے۔ زندگی سکھانے کے نام پر، زندگی کو کمرے سے باہر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عملی مثالیں، حقیقی تجربات، اور انسانی پہلو اکثر رسمی سرگرمیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔
اسی ماحول میں جب کوئی بچہ یہ سوال پوچھ لیتا ہے کہ “یہ رٹ کر لکھنا زندگی میں کب کام آئے گا؟”تو یہ سوال ہمیں پریشان کر دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ ہمیں جواب معلوم نہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمیں جواب معلوم ہے—اور وہ جواب خوشگوار نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رٹنے کی یہ مہارت زیادہ تر صرف اسی نظام کو آگے بڑھانے کے کام آتی ہے جس میں ہم خود پرورش پاتے آئے ہیں۔
آج کا بچہ والدین کے نمبروں کے دباؤ، اساتذہ کے سیکھنے کے دعوؤں، اور معاشرتی توقعات کے درمیان کھڑا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ انسان بن رہا ہے، مگر اس کے ذہن میں یہ سوال مسلسل گونجتا رہتا ہے کہ انسان بننا آخر کس پیریڈ میں آتا ہے؟
اصل مسئلہ نصاب کا مشکل ہونا نہیں، اور نہ ہی اساتذہ یا والدین کی نیت پر سوال ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ زندگی بغیر نصاب کے آتی ہے، اور ہم بچوں کو صرف گائیڈ بکس پکڑا دیتے ہیں۔ ہم انہیں امتحان کے لیے تو تیار کرتے ہیں، مگر زندگی کے لیے نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس سوال کو محض مزاح کے طور پر نہ لیں، بلکہ اسے ایک سنجیدہ انتباہ سمجھیں۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ جو ہم بچوں کو سکھا رہے ہیں، کیا وہ واقعی انہیں زندگی کے لیے تیار کر رہا ہے، یا صرف اگلے امتحان کے لیے؟
کیونکہ جو سبق زندگی میں آنا چاہیے تھا، اگر وہ سلیبس میں کبھی شامل ہی نہ ہوا، تو یہ سوال—”یہ سلیبس میں ہے یا لائف میں؟”—ہمیں بار بار شرمندہ کرتا رہے گا۔

Salam .bilkul student ka sawal qeemati Hy .hum unhe aany waly exam m kami peashi na ho us k Leye tyar kr ri hn .na k zindgi KY mushkile rasto ko sambhalny k Leye .bhot acha Laga aaenda in bato pr gore Kary gy .thanku sir Muhammad yoousif sahib
Really, we have never thought about this question. But this question exists.