پاکستان میں اسکول امتحانات کسی مہم جوئی سے کم نہیں۔ یہ ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں طلبہ، والدین اور اساتذہ سب ہی کسی نہ کسی طرح متاثر ہوتے ہیں۔ طلبہ کے لیے امتحان کا مطلب نیند کی قربانی، والدین کے لیے مسلسل دعا اور اساتذہ کے لیے پچھلے سال کے پرچے دوبارہ چھاپنا ہوتا ہے۔

اصولی طور پر، امتحانات کا مقصد طلبہ کی حقیقی سمجھ بوجھ کا جائزہ لینا ہونا چاہیے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ جانچ اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ طالب علم نے پچھلے پانچ سال کے سوالات کتنے اچھی طرح رٹ لیے ہیں۔ اکثر امتحانی سوالات ایسے ہوتے ہیں جیسے: *”پچھلے سال کا سوال نمبر 3 دہرائیں۔”* گویا تخلیقی صلاحیت کا کوئی وجود ہی نہیں۔

اساتذہ بھی جانتے ہیں کہ طلبہ رٹّا لگا رہے ہیں، طلبہ بھی جانتے ہیں کہ اساتذہ جانتے ہیں، اور بورڈ کے ممتحن بھی جانتے ہیں کہ سب جانتے ہیں! مگر تبدیلی کوئی نہیں آتی۔

پاکستان میں امتحانات میں نقل کی روایت کچھ ایسی ہے جیسے کرکٹ کا جنون۔ بس فرق یہ ہے کہ کرکٹ میں مقابلہ کھلے عام ہوتا ہے، جبکہ امتحان میں “خفیہ” انداز میں۔ نقل روکنے کے لیے ہر سال نئی حکمت عملی بنائی جاتی ہے، لیکن نقل کے ماہرین بھی نئی اختراعات لے آتے ہیں۔

ایک بار ایک طالب علم نے امتحانی ہال میں چھوٹے چِٹیں جرابوں میں چھپا لی تھیں۔ مگر بدقسمتی سے، جیسے ہی وہ پرچہ لکھنے  لگا، نگران نے کہا، “بیٹا، جوتے اور جرابیں اتار کر بیٹھو۔” وہ طالب علم اس وقت خود کو ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے کسی نے اُس کا پورا نصاب ضبط کر لیا ہو!

یہاں مارکنگ سسٹم بھی کسی طلسماتی کہانی سے کم نہیں۔ کئی طالب علم پرچے میں شاعری لکھ کر بھی پاس ہوجاتے ہیں، اور کئی لوگ بہترین جوابات کے باوجود “رزلٹ کارڈ” دیکھ کر ایسے حیران ہوتے ہیں جیسے ان کا شناختی کارڈ کسی اور کے نام نکل آیا ہو۔

سب سے زیادہ افسوسناک صورتحال وہ ہوتی ہے جب 95% نمبر لینے والے طلبہ یونیورسٹی کے انٹری ٹیسٹ میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے امتحانات یادداشت کا امتحان لیتے ہیں، ذہانت کا نہیں۔

خوش قسمتی سے کچھ تعلیمی ادارے، جیسے آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، جدید طریقے اپنا رہے ہیں۔ آن لائن اسیسمنٹ، ای-مارکنگ، اور تفہیمی سوالات جیسے اقدامات بہت ضروری ہیں۔ مگر سرکاری سطح پر اب بھی “کاپی پیسٹ” سسٹم چل رہا ہے۔

ہمیں اپنے امتحانی نظام میں ایسی اصلاحات کرنی چاہئیں جو طلبہ کو صرف رٹّا لگانے کے بجائے تخلیقی سوچ اور حقیقی سیکھنے کی طرف راغب کریں۔ اساتذہ کو بھی چاہیے کہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ صرف نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں نہ لگیں، بلکہ علم کو بہتر طریقے سے سمجھیں اور استعمال کریں۔

آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ امتحانات کا اصل مقصد بچوں کو دباؤ میں ڈالنا نہیں، بلکہ انہیں ذہنی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ امتحانات کو ایسا ہونا چاہیے کہ طلبہ کے چہرے پر مسکراہٹ ہو، نہ کہ آنکھوں میں نیند اور دل میں خوف!

Muhamamd Yusuf

By Muhamamd Yusuf

Muhammad Yusuf is an education reform specialist, teacher trainer, and policy advisor with extensive experience in foundational learning and continuous professional development (CPD). He has contributed to large-scale education initiatives focused on improving classroom practices, assessment systems, and institutional capacity. His work bridges research, policy, and field implementation, supporting sustainable improvements in teaching and learning. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

One thought on “پاکستان میں اسکول امتحانات: علم یا صرف رٹّا ؟”
  1. یہ مضمون ہمارے تعلیمی نظام کی ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں امتحانات کا مقصد علم کی حقیقی جانچ کے بجائے صرف نمبروں کی دوڑ بن چکا ہے۔ مضمون میں نقل کے مسئلے کو نہایت دلچسپ اور طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو ہمارے تعلیمی نظام کی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔
    یہ مضمون ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں اپنے امتحانی نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم نمبروں کی دوڑ سے باہر نکل کر حقیقی سیکھنے پر توجہ نہیں دیں گے، ہمارا تعلیمی معیار بہتر نہیں ہو سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *