توجہ حاصل کرنے کی عادت عام طور پر ان بچوں میں  ہوتی ہیں  جو بچپن سے تنہائی اور نظراندازی کا شکار رہے ہوتے ہیں ۔ان میں توجہ حاصل کرنے کی طلب اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ اس کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے تیار ہوتےہیں ۔

بچپن کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے معصوم رہنے دیا جائے،جبکہ تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ایک صبر آزما اور وقت طلب ہوتی ہے۔اس لیے یہ ذمہ داری والدین، استاتذہ ،خاندان ہمسائے سب کی ہے کیونکہ یہ بچے پورےمعاشرے کا مستقبل ہیں۔کیونکہ ہر بچے کی اپنی ایک خاص جگہ ہے ۔توجہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے بچوں کو   حال  میں رکھیں گے ۔ماضی یا مستقبل  میں رکھ کر ہم ان کی اس نفسیاتی ضرورت کا احاطہ نہیں کرسکتے ہیں ۔

بطور استاد جب ٹیچر  کلاس میں جاتے ہیں تو کیا وہ ایک توجہ دینے والا استاد ہے ؟ کیا ان کی نظروں میں ہر بچہ ایک ہے؟اورتمام بچوں کو  برابری کا پیار اور عزت دیتا ہے؟ دوسری اہم بات بطور والدین کیا ہم اپنے بچے کو پوری توجہ کے ساتھ کوالٹی ٹائم دے رہے ہیں؟کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بچہ اپنی بات کہہ رہا ہوتا ہے اور والدین اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔یعنی کہ والدین بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے  اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اور بچے کو مکمل توجہ نہیں مل پاتا ہے ۔مثال کے طور پر بچہ جب اسکول سے گھر آتا ہے تو اس کے دماغ میں سارا دن کی مصروفیات یا روٹین چل رہی ہوتی ہے مثلا  اسکول میں آج یہ  ہوا ،دوستوں کی باتیں پڑھائی کی باتیں ،یا  فلاں بچے نے اس سے یہ کہا یہ تمام باتیں بچہ اپنی ماں یا والد سے شیئر کرنا چاہتا ہے  مگر آپ مکمل توجہ کے ساتھ آپ اسے وقت نہیں دے پا رہے ہوتے تو وہ بچہ کنفیوز ہو جائے گا کہ میں اپنی بات کہوں   یانہ کہوں ؟جس سے اس کی اٹینشن بھی جاتی ہے اور  کئی بار بچےایک بیماری کا شکار بھی ہو جاتے ہیں جسے attention deficit disorder کہتے ہیں جو بچے کی  تعلیمی زندگی  میں اور  بعد میں پیشہ وارانہ رندگی میں کافی نقصان  پہنچاتی ہے۔اور بچے  اٹینشن سیکر بن جاتے ہیں.لہذا ہمیں اپنے بچے کے لیے اتنا وقت نکالنا ضروری ہوتا ہے کہ انکو توجہ ملے اور وہ بھی اپنے اندر توجہ دینے کا عنصر پیدا کریں۔ تاکہ وہ بھی جب کسی کو سنیں  تو توجہ کے ساتھ سنیں ۔

آپ جب بچے کی بات سن رہے ہو تو مکمل طور پر اس لمحے اپنے بچے کےساتھ ہوں،توجہ کے ساتھ ہوں ،اس میں حصہ لیں اس کی بات میں حصہ دار بنیں۔ فوراًنتائج تک نہ پُہنچے  ۔مثال کے طور ہم  پر بچے کی بات کا پہلا جملہ سنتے ہیں اور جب ہی ہم اس کو جج کرنے لگ جاتے ہیں اس کو آگے بولنے سے روک دیتے ہیں یہ بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہوتا  ہے ایسا بالکل نہ کریں۔بچہ جب اپنی بات کہہ رہا ہے تو اس وقت کچھ خاص وقت کے لئے اپنا موبائل لیپ ٹاپ یا ٹی وی یا اپنی دوسری مصروفیات سے دھیان ہٹا کر تھوڑی دیر کے لیے اسی لمحے میں آجائیں اور اپنے بچے کی پوری بات سن لیں ۔اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ بچہ نے اسکول سے گھر آکر یہ دیکھا ہے کہ امی تو مصروف ہیں،اور شام تک مصروف ہیں۔اور ایسی بہت ساری باتیں جو وہ اپنی ماں سے شیئر کرنا چاہتا ہے جو اس کے دماغ میں چل رہی ہوتی ہیں اور جو اس نے سوچی ہوتی ہیں ماں کی مصروفیت کی وجہ سے کہہ نہیں پا رہا کیونکہ بچے زیادہ دیر تک باتیںاپنے اندر نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ زیادہ تر باتیں رکھنے سے دماغ میں جگہہ بھرجاتی ہے۔جو کہ بچے کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے لہذا یہ نوبت آنے ہی نہ دیں ۔ لہذا بچہ گھر آئے اور آتے ہی  اپنی مصروفیات میں سے 10 یا 15 منٹ نکال کر بچے کی پوری بات سنیں ۔ فوراًنتائج تک نہ پُہنچے  ۔درمیان میں اپنی کوئی بات نہ رکھیں۔کیونکہ بچہ اپنی بات شیئر کرنا چاہتا ہے جو بھی اس کے دماغ میں بھرا ہوا ہے اسے خالی کرنے کا اس سے اچھا طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا ۔ بچہ آپکی زندگی کا بہت ہی پیارا حصہ ہے۔اس سے بڑا حصہ آپ کے لئے کوئی اور نہیں ہوسکتاہے۔اپنے بچے کو انجوائے کریں، اس سے بھی بڑی سیریل ،اس سے بھی بڑی کہانی ،جوآپ کا بچہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس کہانی کا پارٹ بھی آپ بنتے ہیں اور  اس کہانی میں ہیرو یا ہیروئن بھی آپ ہوتے ہیں کیونکہ بچہ آپکو اسی  زاویہ سے دیکھتا ہے۔جس زایہ سے آپ اس کو دیکھتے ہیں یا  اُسے دیکھاتے ہیں۔کیونکہ بچہ سب سے زیادہ آپ دیکھ کریا آپ کے ساتھ رہ کر سیکھ رہا ہوتا ہے ۔ لہذا مکمل طور پر مکمل توجہ اور مکمل بھرپور وقت   اپنے بچے کو دیں تاکہ اس کی بھر پور نشوونما ہو سکیں۔

جس لمحے میں بچہ آپ کے ساتھ بات کر رہا ہے یا آپ کے ساتھ مصروف ہو ،  بچے کو ایسامحسوس ہوناچاہیے کہ آپ کا دماغ کہیں اور نہیں چل رہا اور درمیان درمیان میں بچے سے پوچھتے رہیں اچھا پھر کیا ہوا؟ یہ کیسے ہوا؟ پھر تم نے کیا کیا ؟ درمیان میں اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔ “اچھا بہت خوب! “،”اور بتاؤ! “اسی طرح جب آپ بچے سے بات کرتے ہیں تو بچہ آپ کے سامنے کھل کر آ جائے گا اور اپنے دماغ کو فری کر پائے گا اور آپ کی مکمل توجہ  کا فائدہ لیتے ہوئے اپنی توجہ بڑھا پائے گا۔

مختصراً اِن بچوں میں مسلسل دوسروں کی توجہ طلب کرنے کی جستجو ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے وہ ہرممکن کوشش  یا منفرد سرگرمیاں کرتےہیں۔ اس لئے بطور استاد یا والدین ہمیں بچوں کی اس نفسیاتی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے ان کو سننا چاہیے اور ان کی انفرادی کامیابیوں کو سرہانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *