گلگت بلتستان کے  سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی  کے چیلنج میں بہتری کا امکان اس وقت سے  نظر آنا شروع ہوا ،  جب جولائی 2024 میں ایک نیا تعلیمی پروجیکٹ “ایجوکیشن فیلوز” کے نام سے شروع ہوا، جو گلگت بلتستان کے سرکاری اسکولوں  اور کالجوں میں تعلیمی معیار کی بہتری کا  ایک منظم منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری   AKUکی قیادت میں ایک کنسورشیم نے سر انجام دیا، جس میں LUMS, KIU اور  KP شامل تھے۔ اس منصوبے کا مقصد علاقے کے تمام دس اضلاع  کے سرکاری تعلیمی اداروں میں  افرادی قوت کو بہتر بناتے ہوئے، معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ اس کے اہداف میں 1248 ایجوکیشن فیلوز کا انتخاب، انکی پیشہ ورانہ تربیت،ضرورت کے مطابق  اداروں  مثلاً  اسکولوں، کالجوں، تکنیکی، اور خصوصی تعلیم  کے اداروں میں انکی  تعیناتی، مسلسل  پیشہ ورانہ نگرانی  اور  معاونت شامل تھیں۔

اس سفر کا آغاز ایک مشکل مرحلے سے ہوا، جس میں معیاری  صلاحیتوں کے حامل امیدواروں  کاشفاف  انتخاب کر کے  اسکولوں اور کالجوں میں    ان کی  تعیناتی تھی۔  ابتدائی طور پر 21358 درخواست دہندگان کے ڈیٹا سے 2375 امیدواروں کو  انکی  زیادہ سے زیادہ تعلیمی قابلیت اور حاصل کردہ نمبرات کے بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ اس کے بعدایجوکیشن فیلوز کی انتخاب کے لیے  ایک موثر اور جامع جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا گیا، جس کے مدد سے ایسے  افراد کی شناخت اور نشاندہی   کی جا سکے۔ جن میں تعلیم  و تدریس کا حقیقی جذبہ اور اہلیت موجود ہو۔ اشتہارات  کے زریعے پہلے ہی انتخاب کے  معیار کو واضح کیا گیا تھا ، جن میںHEC سے منظور شدہ جامعات سے کم از کم 16 سالہ تعلیمی ڈگری  رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دی گئی،  اورمضامین میں ریاضی، طبیعیات، کیمیا، حیاتیات، انگریزی، اور کمپیوٹر سائنس شامل تھے۔ کچھ علاقوں میں ضرورت کے پیش نظر 14 یا 12 سالہ تعلیم والے امیدواروں کو بھی شامل کیا گیا ، خاص طور پر پسماندہ اور کم سہولیات والے دیہاتوں   میں جہاں زیادہ تعلیم کے امیدوار نہیں تھے، وہا ں کم تعلیم کے حامل امیدواروں کو بھی موقع دیا گیا۔

 ایجوکیشن فیلوز کے انتخاب کے عمل میں PDCNکے زیر نگرانی 11 انٹرویوپینلز، جن میں 22 افراد شامل تھے، نے ٹیسٹ-اور-انٹرویوز کا اہتمام کیا۔ انٹرویو پینل میں LUMS, KIU ،AKU اور سول سوسائٹی سے آئے ہوئے دیگر تعلیمی ماہرین شامل تھے۔ PDCN کے مرکزی کنٹرول روم نے پوری کارروائی کی آن لائن نگرانی کی، جس میں آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ انٹرویو میں جس معیار کا ٹول استعمال کیا گیا وہ جامع تھا، جو کہ تین اہم حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلہ حصہ؛  جس کے زریعے امیدوار کا تدریسی   جذبہ، وابستگی، اہلیت،  اور تجزیاتی صلاحیتوں، اورموثر انداز بیان کی صلاحیت کا جائزہ لیا گیا۔دوسرے حصے میں  امیدواروںسے ایک مخصوص ٹیسٹ لیا گیا ، جس میں وہ  جوابات  یا تو بورڈ  پر وضاحت کرکےبتا  سکتے تھے، یا کاغذ پر سوالات حل کر کے دے سکتے تھے۔ اس کےبعد  تیسرے حصے میں تدریسی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھا گیا، جس سے  انٹرویوپینلز نے سبق کی منصوبہ بندی (لیسن  پلان)،  تدریس کے طریقوں، مضمون کی سمجھ، اور موثر انداز  بیان  کی جانچ کی۔ ہر امیدوار کا جائزہ، بشمول انٹرویو، مواد کا ٹیسٹ، اور تدریسی  صلاحیت کا مظاہرہ، 35 سے 45 منٹ میں مکمل کیا گیا۔ان تمام مراحل سے گزارنے کے بعد آخر کار 1248 ایجوکیشن فیلوز کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔

ایجوکیشن فیلوز کے انتخاب کے بعد انہیں فوری طور پر مختلف سکولوں میں تعینات نہیں کیا گیا، بلکہ ان کی صلاحیتوں کو ایک جامع  پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام  کے ذریعے  مذید نکھارا گیا۔یہاں تک کہ LUMS, KIUاورAKU کے ماسٹر ٹرینرز نے بھی نالج پلیٹ فارم سے ستمبر 2024 میں کھیل کھیل میں سکھانے کے طریقوں  پر ابتدائی تربیت حاصل کی، جس سے ان کے اپنے سیکھنے اور سکھانے کے انداز کو   ایک مظبوط بنیاد  فراہم ہوئی۔  انہی ماسٹر ٹرینرز کے زیر نگرانی ایجوکیشن فیلوز کو 18 دنوں کی تربیت  دی گئی، جس میں ریاضی، سائنس، انگریزی، اور عمومی تدریسی طریقوں پر توجہ مرکوز کی گئی، جبکہ کالج کے ایجوکیشن فیلوز کے لیے PDCN میں 6 دنوں کی  تربیت کا اہتمام کیا گیا۔  اور اس طرح نئے منتخب ہونے والے ایجوکیشن فیلوز نے بھی  PDCN گلگت  اور اسکردو میں تربیت حاصل کی، جو  ایجوکیشن فیلوز کو تدریسی طریقوں  سے آگاہ کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی ، اور خاص طور پرکھیل کھیل میں سیکھنے کا عمل  اور تعلیمی سرگرمیوں پر  مبنی سیکھنے کےطریقوں کے  ذریعے تدریسی منصوبہ بندی کرنے کاقابل بنایا گیا۔  ان کی بہتر ہنرمندی  اور تربیت کے بعد گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں 600 سے زائد اسکولوں، کالجوں، اور دیگر تعلیمی اداروں میں ان کی  تعیناتی ہوئی۔ تعیناتی کا منصوبہ ایک مخصوص حکمت عملی کے تحت  مکمل کیا ، جس کی  سرکاری طور پر نشاندہی کی گئی تھی ،جو ضلع  ، تحصیل اور  یونین کونسل کے سطع پر اساتذہ کی ضرورت  کو مدنظر رکھ کر ترتیب  دیا گیا تھا۔ جن میں اسکول ایجوکیشن کے لیے 1054، کالج ایجوکیشن کے لیے 161، خصوصی تعلیم کے لیے 15، اور تکنیکی تعلیم کے اداروں کے لیے 18 عہدوں پر 1248 ایجوکیشن فیلوز کی تعیناتی کا ہدف پورا کیا گیا۔

ایجوکیشن فیلوز کی مسلسل کارکردگی کو یقینی بنانے  اور انہیں پیشہ ورانہ مدد دینے کے لیے ایک منظم نگرانی کا نظام متعارف کیا گیا۔ اس میں دس فیلڈ بیسڈ پروفیشنل ڈیولپمنٹ ٹیچرز (پی ڈی ٹیز) نے ضلع کے سطح پر سکولوں کے دوروں کا اہتمام کیا۔ ان دوروں میں  ایک اہم پہلو اسکول انچارجز کی رہنمائی اور فیڈبیک  شامل تھا۔چونکہ انچارجز کو ان  کی اپنی ذمہ داریوں  کے حوالے سے  بھی آگاہ کیا گیا تھا، جس سے نگرانی کا نظام  مضبوط ہوا۔ حاضری کا ریکارڈ  روزانہ، ہفتہ وار، اور ماہانہ  کے بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ نگرانی کے عمل میں کلاس روم کا مشاہدہ، سبق کی منصوبہ بندی کا جائزہ، پروفیشنل پورٹ فولیو کا جائزہ وغیرہ شامل تھے ،اور Kobotoolbox، واٹس ایپ، اور فیس بک گروپ جیسے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔

مسلسل تعلیمی مدد اور نگرانی  اس منصوبے کا ایک اہم ستون تھا۔ پروجیکٹ ٹیم نے اس پورے عرصے کے دوران  ہفتہ وار بنیادوں پر ایجوکیشن فیلوزکے ساتھ تعلیمی مواد شیئر کیا، جو ان کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی میں مددگار ثابت ہوا۔ ایجوکیشن فیلوز نے سرمائی تعطیلات میں  تدریسی  کیمپوں کا اہتمام کیا، جن میں 779 ایجوکیشن فیلوز نے 10109 طلبہ و طالبات کو تعلیم دی ، جس سے گریڈز 5، 8، 9، اور 10 کے نصابی  درس و تدریس میں نمایاں بہتری آئی اور بچوں کو بورڈ کے امتحانات کے لیے اچھی تیاری کروائی گئی۔ اسطرح  ایجوکیشن فیلوزکو اپنے پروفیشنل پورٹ فولیو مسلسل اپ ڈیٹ کرنے، مطالعہ کرنے، اپنی تجربات کو قلمبند کرنے، اور ریفلیکشن کے عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دی گئی، حتیٰ کہ انہوں نے اخبارات اور سوشل میڈیا پر بھی  اپنی خیالات  کا بھر پور اظہار کیا، اور تعلیمی مواد کو شائع کیا۔

اسی طرح کے مضبوط بنیادوں پر مشتمل تعلیمی پروجیکٹ نے گلگت بلتستان کے اسکولوں کے کلچر میں ناقابل یقین تبدیلیاں پیدا کیں۔ گلگت بلتستان کے اسکولوں کی تاریخ میں پہلی بار اساتذہ کی طرف سے باقاعدہ سبق کی منصوبہ بندی (لیسن پلاننگ)  ایک معیاری  اور روزانہ کے عمل کے طور پر سامنے آئی ، جس پر  اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی اپنے مستقل اساتذہ کے لیے  لیسن پلان بنانے پر زور دیا ۔ اس طرح ایجوکیشن فیلوز کا غور و فکر کرنےکا  عمل یعنی  Reflection سوشل میڈیا، اخبارات، اور افیشیل فیس بک گروپ کے ذریعےبہت زیادہ  پروان چڑھا،تعلیمی سرگرمیوں پر مبنی تدریس  اور کھیل کھیل کے زریعے  سیکھنے اور سکھانے  پر زیادہ  توجہ ایجوکیشن فیلوز کی  ایک نمایاں خصوصیت  اور پہچان بنی، جس کے تمام ثبوت  ہر ایک کے پاس موجود پروفیشنل پورٹ فولیوز میں محفوظ ہیں۔  اور ان کے چھوٹے چھوٹے ویڈیوز بنا کر گروپس میں شیئر کیے گئے۔ اس  طرح کی سرگرمیوں کے آغاز سے تعلیم کی معیار میں نمایاں اضافہ،  بچوں کا سکول سے لگاؤ بڑھانے، اساتذہ کو بااختیار بنانے، اور علاقے کے تعلیمی شعبے کے مجموعی ترقی میں حصہ ڈالنے کا باعث بنا۔

تاہم، پروجیکٹ  اسکولوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کا اس تعلیمی سفر میں کئی دشواریوں سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ مثلاً ایجوکیشن فیلوز کے  انتخاب، تعیناتی، اور تبادلوں سے متعلق بیرونی دباؤ، وسائل کی کمی (اسٹاف، وقت، مواد)، محدود کمیونٹی  کی شمولیت،  اسکول  کا ناقص ڈھانچہ، انٹرنیٹ کی عدم فراہمی  اور جغرافیائی رکاوٹیں صبرآزما مسائل کے طور پرسامنے آ گیے۔

ان رکاوٹوں کے باوجود، اس تعلیمی  منصوبے نے  طلبا و طالبات کے لیے بے مثال سیکھنے کے مواقع پیدا کیے۔ ایجوکیشن فیلوز کے انتخاب کا ماڈل  کافی مؤثر ثابت ہوا، جو مسلسل خالی ہونے والی  عہدوں کی کمی کوپورا کرنے کے لیے ڈیٹا پول سے مدد لی گئی۔ تربیت کا  مرکز کھیل کھیل میں بچوں   کو سکھانا اور سرگرمیوں  پر مبنی سیکھنے سکھانے کے طریقہ کار  پرمحیط تھا، جو تدریسی طریقوں میں حقیقی تبدیلی کا باعث بنا۔ مسلسل نگرانی بھی اہم رہی، جس میں پی ڈی ٹیز کے دوروں اور ڈیجیٹل ٹولز کے امتزاج نے موثرنگرانی کے عمل کو یقینی بنایا، اس عمل میں  اسکولوں کے انچارج صاحبان کی شمولیت  اور انکی رائے نے مزید مضبوطی اور تقویت  بخشی۔

آنے والے سالوں میں اس  منصوبےکی مستقل کامیابی کے لیے ایک حکمت عملی واضع طور پر سامنے آیا ہے ، چنانچہ یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اس کا تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے طویل  مدتی معاہدوں  پر منبی منصوبہ بندی کی جائے،  صلاحیت کی تعمیر کے لیے  اور زیادہ موثر ماڈیولز جیسے ڈیجیٹل خواندگی اور شمولیت پر مبنی تعلیم اور سمعی و بصری معاونات  کا بہتر استعمال وغیرہ کی تربیت دی جائے،  علاوہ ازیں سرکار اور این جی اوز کے تعاون سے  خستہ حال اسکولوں کا عمارات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے ۔ نیز پروگراموں میں  استحکام  پیدا کرنے کے لیے طویل مدتی  اور سالانہ فنڈنگ کی توسیع اور کمیونٹی آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے۔

گلگت بلتستان میں ایجوکیشن فیلوز کا منصوبہ جولائی 2024 سے جون 2025 تک کے صرف نو مہینوں میں اپنی افادیت ثابت کر چکا ہے اور متعدد بار یہ دکھایا ہے کہ یہ نہ صرف اسکولوں کی بہتری کا پروگرام ہے، بلکہ  سرکار اور پرائیویٹ اداروں کی منظم اور مشترکہ کوششوں کی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔ جو اسکولوں کی بہتری کے  تمام اہداف کو پورا کرتا ہے۔ منصوبے کے پہلے سال کے اختتام پر، اس  اہم پروجیکٹ نے واضع طور پر اپنے مقاصد حاصل کیے،  اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک روشن مستقبل کی امید کو اجاگر کیا ہے۔

یہ امر ذہن میں رکھنا  انتہائی ضروری ہے کہ پراثر تبدیلی کا عمل ادارہ جاتی کلچرپر اثر انداز ہونے اور اسےمثبت انداز میں  تبدیل کرنے کے لیے خاصا وقت  درکار ہوتا ہے۔ اس منصوبے کو دوسرے اور تیسرے سال تک بڑھانے  سے ایجوکیشن فیلوز کی تدریسی ہنرمندی کو وسعت دینے، ڈیٹا  اور ٹیکنالونی پر مبنی نگرانی کے عمل کو مذید نکھارنے، اور کثیرالجہتی  پائیدارئ  نظام کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔نیز مسلسل معاونت  اور نگرانی کے ساتھ، سیکھنے اور سکھانے  کے  عمل میں باقی ماندہ خلا کو پر کر کے گلگت بلتستان کو پورے پاکستان کے لیے ایک روشن مثال بنایا جا سکتا ہے۔  آئیں ہم سب مل کر اپنے بچوں کا مستقبل تابناک بنانے کے لیے اس منصوبے سے حاصل ہونے والیےمثبت اثرات کواور گہرا اور وسیع کرنے کا عزم کریں۔

دے جزا  اللہ، اس باغبان علم کو

جس نے غنچوں کو کھلایا، اور گل تر کر دیا۔

Darvesh Karim

By Darvesh Karim

The author is an educationist and working as a Senior Instructor at the Aga Khan Univeristy.

0 thoughts on “ایجوکیشن فیلوز کاگلگت بلتستان کےسرکاری تعلیمی اداروں  میں پہلا سال”
  1. Great initiative of the school education department that helps in revolutionizing the education qualitu in the narrow and far apart valleys of gilgit baltistan.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *