Tue. Jun 25th, 2024
Babar Khan

دنیا میں تعلیمی نظام کی ترقی و بہتری ,کئی عوامل پر مبنی ہے۔جن میں چند ایک قابل  ذکر ہیں جیسا کہ، موئثر تعلیمی پالیسی ،  نصاب کی سائنسی بنیادوں پرتیاری اوراس کا جدید تقاضوں سےہم آہنگ ہونا، نصاب میں علم،  مہارت اور رویوں کی تدریس کے لیے   واضح ہدایات موجود ہونا ۔ اسی طرح  بہتر اساتذہ کی تعیناتی اور ان کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت   کا انتظام  ہونا،  سکولوں میں بہتر بنیادی سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ اور طلبہ میں مثبت رویے ،  ابتدائی جماعتوں سے ہی سوچنے اور تحقیق کرنے کا رجحان پیدا کرنا، طلبہ میں یہ احساس  پیدا کرنا کہ وہ اپنے معاشرے کا ایک اہم اور منفرد حصہ ہیں  اور یہ جاننا کہ معاشرے کی بہتر ی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔  یہ چند پہلو ہیں جو کسی بھی  ملک کے معیار تعلیم  کا عکاس ہوتے ہیں ۔   

               پاکستان میں ان دنوں یکساں نصاب کے حوالے سےبہت شور برپاہے۔  ہر طبقےکے لوگ بشمول  ماہرین تعلیم، اساتذہ، اور  منصوبہ ساز  اس تصور کے حق میں بات کرتے ہیں جبکہ  کئی  افراد  اس کی  مخالفت کرتےبھی نظرآتے  ہیں  اور کہتے نظر آتے ہیں کہ   یہ کوئی بہتر اور جدید نصاب نہیں  بلکہ اوراق اور رنگوں کا رد و بدل ہے۔لیکن یہاں،  میں قطعی  اس تحریر  کے ذریعے یکساں  نصاب کی حمایت یا مخالفت کا ارادہ  نہیں رکھتا بلکہ ایک طالب علم  کی حثییت سے خود سے  اورتعلیم  کے شعبہ سے وابستہ  افراد سے  چند سوالات پوچھنا چا ہتاہوں اور ساتھ ہی اپنا  نقطہ  نظر بھی  سامنے رکھناچاہتا ہوں کہ تعلیمی نظام اور  معیار  میں  بہتری  کے لیے  ہر پانچ سال  بعد  نصاب  کو بدلنا    ہی کافی ہے کیا؟    اس کے علاوہ تعلیمی  اصلاحات   کے دوسرے پہلوؤں پر توجہ دینا   بھی  کیاضروری نہیں ہے ؟  میں  تمام قارئین  سے گزارش  کرتا ہوں کہ درج ذیل   سوالات   پر غور کریں ۔ 

کیا صرف نصاب میں تبدیلی ہی معیار تعلیم کی ضمانت ہے؟

  تبدیل شدہ یا بہتر کردہ نصاب کو کمرہ جماعت تک کیسے  پہنچایا جائے گا؟

نصاب تو تبدیل ہوگیا مگر اساتذہ  کب  تبدیل  ہوں گے؟

کیا تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے بہترین  اساتذہ،  اچھے سکولوں  ،  تدریسی سہولیات اور بہتر نگرانی کی ضرورت نہیں ہے؟

 کیا محکمہ تعلیم    کو چلانے والے افسران بالا تعلیم کے مقاصد، طریقہ کار، حاصلات تعلیم  اور نگرانی  کے اصولوں سے واقف ہیں؟   اگر واقف  ہیں تو گزشتہ 50 سالوں میں تعلیم میں بہتری کیوں نہیں آئی؟

کیا ہم پاکستان کے بہتر ین  دماغوں  کو تعلیم اور تدریس میں لانے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں؟

کیا ہم تعلیمی بجٹ کو 1.8   فیصد سے  6 فیصد تک  بڑھانے کا  ارادہ رکھتے ہیں اور کب یہ  اضافہ متوقع ہے؟

کیاہماری جامعات میں  تحقیق کا رجحان اور معیار بڑھے گا؟

معیار تعلیم کے مسائل  کو سمجھنے کے لیے کیا ہمار ی جامعات سکولوں کے ساتھ  روابط  اور اشتراک  کے لیے تیار ہیں؟

یہ وہ جواب طلب سوالات ہیں جو ہمارے مملکت  خداداد پاکستان کے تعلیمی نظام  میں بہتری  کے لیے اہم ہیں ۔  میرے تجربے اور فہم کے مطابق  صرف  نصاب میں تبدیلی ہی تعلیمی بہتری کے لیے کافی نہیں اور نہ ہی   قوم کی سوچ اور عمل میں اس وقت تک کوئی تبدیلی  آ سکتی  جب تک نصاب کو اس کی  اصل روح کے مطابق  من وعن کمرہ   جماعت میں  لاگو نہ کیا جائے۔    نصاب کو عملی جامع پہنانے کے لیے بہترین اساتذہ،  جن کے لیے بہترین مراعات، معاشرتی حثییت  اور وقار میسر ہو۔  ان اساتذہ کو فکر معاش نہ ہو بلکہ قوم اور نوجوان نسل کی تربیت اور بہتری کا درد ہو۔ یہ اساتذہ سیاسی وابستگیوں سے آزاد تحقیق و  تدریس  کے ماہر ہوں۔ ان کا ہرلفظ سونے و موتی کا بھاؤ  ہو،ان کو سننے کے لیے  نوجوان ترس  رہے  ہوں،ان کی تدریس قرآن  وسنت کے تابع ہو۔  وہ مکارم اخلاق کے نمونے ہوں ،  ایمانداری اور دیانت کی اعلی مثال ہوں!۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یکساں  نصاب  کو عملی جامع پہنانے کے لیے ایسے اساتذہ میں کہاں سے ڈھونڈ لاؤں؟ 

               ہمارے ہاں  ” جو کچھ نہیں کرسکتا، وہ تدریس کرسکتا ہے”  یہ میرا جملہ نہیں  بلکہ مشہور  دانشور برنرڈ شو کا   کہا ہوا جملہ ہے جو ہمارے معاشرے کی مناسبت سے درست بات ہے۔  یہاں پر یہ بات میں واضح کرنا چاہوں گا کہ میرا مقصد اساتذہ پر تنقید نہیں ہے بلکہ ان کی تعیناتی،    تربیت ،  نگرانی اور تدریس کے معیار کی یقین دہانی کے طریقوں پر اعتراض ہے۔  ہم بڑے  وثوق   سے اس پیشے کی اہمیت اور رتبے کی وضاحت تو کرتے ہیں  لیکن عملاً  اس کی بے توقیری کررہے ہوتے ہیں۔  اس  لیے اگر ہم نظام تعلیم کو بہتر کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں نصاب کے ساتھ ساتھ سکولوں میں بنیادی سہولیات میں بہتری، عمدہ اساتذہ کی تعیناتی،  تعلیم کو کاروبار کے شکنجے سے نکال کر خدمت کے معیار پر لانا ہوگا،  سکولوں کو  دکان کے بجائے  درس گاہ بنانا ہوگا۔  بچے کو طوطا   یعنی معلومات کو رٹنے والی مشین  کے بجائے  معاشرے کا ضامن اور ذمہ دار حصہ بنانا  ہوگا۔  طلبہ کو نمبروں  کی دوڑ سے نکال کر سیکھنے کے بنیادی اصولوں کی طرف موڑنا ہوگا جہاں وہ عقل و دانش کے طریقوں پر  گامزن ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ کب ہوگا میری دھرتی میں ۔۔۔ خدا جانے؟؟؟

               ہمیں تعلیم کو ایک ہمہ جہت  تصور کے طور  پرسمجھنے کی اشد ضرورت ہے اور  متذکرہ   تمام پہلوؤں کو ایک ساتھ لیکن مرحلہ وار بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔  میرے تجربے کے مطابق تعلیمی   نظام  میں بہتری کے لیے سب سے اہم اور بنیادی پہلو  اساتذہ کی تعیناتی  اورپیشہ ورانہ  تربیت ہے(یہ تربیت   قبل از ملازمت   اور دوران   ملازمت  ہو)کیونکہ اساتذہ جب تیار ہوں گے تو نصاب میں تبدیلی، بہتری اور عمل درآمد کے مقاصد کو بآسانی  حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لہذا تعلیمی منصوبہ سازوں، نصاب کے ماہرین اور دیگر متعلقہ حکام   کوسرجوڑ کر ایک تفصیلی خاکہ ترتیب دینا ہوگا اور ان تمام بنیادی پہلوؤں کے ربط کو بہتر کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ  حقیقی معنوں میں  تعلیمی اصلاحات  کی جاسکیں۔

By Babar Khan

Mr Babar is an Educational Professional with a hallmark experience in education, particularly in Teacher Education, and contributes to the enhancement of capacity and productivity of the organization, with an excellent set of leadership skills and commitment.

11 thoughts on “یکساں نصا ب ایک اچھا قدم مگر”
    1. Dear Saadat Meer, Your both comments are valid, therefore, I have started writing on these aspects to highlight gaps, cosmetic changes without realizing core dimensions of education, teaching and learning. I wish this ministry is lead by Educationist (a true one) who knows these fundamental and engage best brains to formulate realistic, research and evidence based policies, curriculum, teachers development strategy and above all robust mechanism of policy implementation and tracking. lastly, I would say, along with government, no one in our country is sincere because we all “elect” these people to hold these position and make such decisions. lets put our cent, may be it works sometime.

  1. پہلی بات تو یہ کہ جب آپ تعلیمی نظام اور نصاب کو پولیٹیسائز کریں گے تو آپ کی تعلیم کے ساتھ خلوص اور دیانتداری یہاں پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔
    دوسری بات نصاب کی تخلیق ہمیشہ عمیق اور حقائق پر مبنی بے لحاظ تحقیق کی بنیاد پر ہونی چاہئے ورنہ ایک اور رونگ نمبر ثابت ہوگا۔

  2. Well analysed. Specially, force (teachers) should b trained before using the instrument (cricula).

    Moreover, speciall attention should b given to budget increase for education, according to the need of primary, secondary, higher secondary and university education.

  3. Very well articulated, I hope provincial governments should consider hiring of Educationist in the Education departments. shayed kay uter jaey Teray dil may meri baat……

  4. Very crucial and valid questions Babar Khan! Unfortunately, the answers are very disappointing.

      1. پہلی بات تو یہ کہ جب آپ تعلیمی نظام اور نصاب کو پولیٹیسائز کریں گے تو آپ کی تعلیم کے ساتھ خلوص اور دیانتداری یہاں پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔
        دوسری بات نصاب کی تخلیق ہمیشہ عمیق اور حقائق پر مبنی بے لحاظ تحقیق کی بنیاد پر ہونی چاہئے ورنہ ایک اور رونگ نمبر ثابت ہوگا۔

  5. Sir Baber you have nicely articulated the real face of teaching and learning, I endorse your point

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *