Tue. Jun 25th, 2024
Uzman Rehman

کسی بھی انسان کا بچپن اس کی شخصیت  سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا میں آنے والے ہر بچے کا ذہن ایک خالی سلیٹ یا کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔اس کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے اس کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے یہی نہیں جس ماحول میں اس کی تربیت ہوتی ہے اس کا مزاج بھی اسی رنگوں میں ڈھل جاتا ہے ۔ ہر ماں باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کے مثالی ماں باپ بنیں۔ اس کی ہر ضرورت پوری کریں۔ اور اس کی زندگی کو زیادہ بہتر اور بامقصد بنائیں۔ یہ سوال ہر ماں اور باپ کو درپیش رہتا ہے کہ اس سلسلہ میں کیا وہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقہ سے ادا کر رہے ہیں؟ کیا بچے کے لیے انکا  کا رویہ صحیح ہے؟ اور کیا ان کا بچہ ان سے خوش ہے؟ اس فکر مندی کے باوجود صحیح بات یہ ہے کہ اکثر والدین وہ صحیح نظر اور رویہ نہیں رکھتے جس کی بچے کو ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بحیثیت والدین اور استادہ ہم بچوں کے جذبات کو دانستہ یا انجانے میں کس طرح زخم دے رہے ہوتے ہیں جو کہ بڑے ہو کر بچوں کی شخصیت کو کس طرح متاثر کرتی ہیں آج میں چند ایسی باتوں کا ذکر کروں گی جو والدین یا اساتدذہ کو تو نارمل لگتی ہیں لیکن بچوں کے لئے ساری زندگی کا ناسور بن جاتی ہیں۔اور وہ معاشرے کا کارآمد  فرد بننے کے بجائے اپنے آپ کو دوسروں کے لئے اور خود اپنے لئے ایک بہت بوجھ کی طرح محسوس کرتے ہیں۔

والدین کا اپنے بچوں سے کبھی بھی خوش نہ ہونا۔   بچے چاہے جتنی اچھی کارکردگی دکھائیں لیکن والدین ہمیشہ مزید بہتری کا رونا روتے رہتے ہیں۔اس طرح بچہ ہمیشہ یہی سمجھتا ہے کہ چاہے وہ جتنی بھی کارکردگی دکھائے جتنا بھی اچھا کرلے لیکن ان کے والدین ان سے کبھی بھی خوش نہیں ہوں گے۔اورہرمعاملے میں سختی ہونے کی توقع سے بچے بہت ساری باتیں اپنے والدین سے چھپانے لگتے ہیں اور باہر کی دنیا میں سہارا ڈھونڈتے ہیں  اور یہ سلسلہ بڑے ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے ۔

بچوں پر طنز کرنا یا کم تر محسوس کروانا ۔ایسے والدین یا اساتذہ بڑی آسانی سے بچوںکے منہ پر بھی کہ دیتے ہیں کہ تم کسی قابل نہیں ۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کبھی بھی کچھ نہیں کر سکتے تم کبھی بھی پڑھ نہیں پاؤ گے۔ یا تمہارا کبھی بھی کچھ نہیں بنے گا ۔اگر بچے کا کبھی  اچھا کام کر بھی دے تو ان پر پھر بھی طنز کرتے ہیں ۔جیسےان الفاظ میں طنز کرنا کہ  آج تو بڑی بات ہے بغیرکہے ہی  تم نے یہ کام کر دیا۔یعنی جس کام پر بچہ تعریف کی توقع کرتا ہےاس پر بھی وہ طنزہی سنتا ہے ۔اور اکثر اوقات والدین یا اساتذہ ایسی بات بھی کر دیتے ہیں جس سے بچوں کی پرسنلٹی ٹوٹ پھوٹ یا ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار ہو جاتی ہے۔

مار پیٹ کرنا  . اکثر والدین بچوں کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں پر اور استاد بچوں کو کام نہ کرنے پر بری طرح پیٹ کر رکھ دیتےہیں۔ بچوں کا موقف جانے بغیر وہ بچوں کو تھپڑوں، جوتے، ہینگر، بیلٹ یا لاتوں سے بھی پیٹ کے رکھ دیتے ہیں   ۔مارپیٹ بچوں میں شدت پسندی اور ضدی پن پیدا کرتی ہے ۔

دوسرے بچوں  کے ساتھ موازنہ کرنا۔

اکثر بچے نصابی سرگرمیوں میں اچھے ہوتے ہیں ۔ اور اکثر بچے غیر نصابی سرگرمیاں میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ایسے میں والدین دوسرے بچوں جیسا کہ کلاس میں موجود ہم جماعت بچوں اور اکثر بہن بھائیوں کے درمیان بھی مقابلے کی ایسی فضا قائم ہوتی ہے کہ  صرف لائق بچے کی ہی تعریفیں کی جا رہی ہوتی ہیں۔ایسے میں دوسرا بچہ کمتری کا شکار ہو رہا ہوتا ہے۔   

5-بچوں کا مذاق اڑانا۔ بچے کی شکل و صورت، رنگت، قد، موٹا ہونے پتلا ہونے پر ہم جو مذاق اڑاتے ہیں اس کو عام سی بات نہ سمجھیں۔ہم بچوں کو اس طرح بہت تکلیف دیتے ہیں۔ جو بچوں کے ننھے ذہنوں کے لیے انتہائی ظالمانہ رویہ ہے ایسے بچے دوسرے بچوں سے حسد کرنے لگتے ہیں یا پھر شدید احساس کمتری میں گھر جاتے ہیں اور بعض اوقات بڑے ہونے کے بعد بھی لاشعور سے یہ باتیں نہیں نکل پاتیں۔  

  بچوں کو جذباتی طور پر اکیلا یا تنہا کرنا۔

– بے وجہ روک ٹوک اور تنقید کرنا۔

اچھے کاموں پر اچھا رسپانس نہ ملنے سے بچےاچھے کاموں کو اہمیت دینا بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔غلطیوں پر تو بچوں کو سزا دیتے ہیں۔ لیکن ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں یا اچھی باتوں کو نارمل یا روٹین کا حصہ سمجھنےکی بات سمجھتے ہیں اور تعریف کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہر کام میں کیڑے نکالے جانے اور بار بار والدین یا اساتذہ کی تنقید سننے کے بعد بچوں میں یہ خیال پختہ ہو جاتا ہے، کہ وہ کوئی بھی کام سیدھا کرنے کے قابل نہیں ایسے بچے کبھی بھی کلاس میں بھی ہاتھ کھڑا نہیں کرتے کیونکہ وہ ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان سے کچھ غلط ہو جائے گا ایسے بچے بےاعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں اور وہ خود کو دوسروں کے قابل کا نہیں سمجھتے۔

اسکول میں بلنگ کا سامنا کرنا اور والدین کا سنجیدہ نہ لینا۔

لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق کرنا۔   کئی لوگ لڑکوں کے مقابلے میں بچیوں کو کمتر سمجھتے ہیں ۔ جیسے لڑکا تازہ روٹی ہی  کھائے گا۔اور لڑکی اگرباسی بچی  ہوئی روٹی کھالے تو کوئی مضائقہ نہیں  ہے اور اسی طرح لڑکیوں کا کام ہانڈی روٹی ہے تو میٹرک کافی ہے بھائی چاہے کچھ بھی کرے لیکن تم عزت  کے دائرے میں رہو۔ یا بھائی چوں کہ لڑکا ہے اسے تمہارا اور اس کا کوئی بھی مقابلہ نہیں ایسا کرنے سے بچوں میں خود اعتمادی  کی کمی ہو جاتی ہے۔لڑکی اپنی نسوانیت سے اتنا ڈر جاتی ہیں  کہ نہ تو وہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرسکتی ہیں اورنہ ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہیں۔

۔ والدین کا آپس میں جھگڑا کرنا تشدد کا ہونا یا کسی اپنے کوکھو دینا۔

 *اس سب کو ہینڈل کیسے کیا جائے*

بچے کی پریشانی کو سمجھیں، یہ مت سوچیں کہ وہ جان بوجھ کر تنگ کرتا ہے۔ 

بچے کی تحقیر مت کیجئے۔  وہ خود کو بے وقعت سمجھنا شروع کردے گا۔

بچے کو توجہ دیجئے۔

  ورنہ اس میں حسد پروان چڑھے گا۔      بچے سے اس کی عمر سے زیادہ،  پڑھائی کے لیول اور ان کی صلاحیت سے زیادہ توقع مت لگائیں۔

حد سے زیادہ روک ٹوک مت کریں کہ وہ سانس بھی آپ کی مرضی سے لیں۔

بچے کو اس کے دوستوں، کزنز، بہن بھائیوں سے کمپیئر نہ کیجئے۔ نہ ہی یہ کہیں کہ ہم تو اس عمر میں یہ یہ کیا کرتے تھے۔

آپ بچے کو بڑی محنت سے آداب،  سکھاتے ہیں، پڑھاتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ الٹ کر رہا ہے۔تب بھی آپ کو نہ اس کو مارنا ہے نہ ذہنی اور جذباتی ٹارچر کرنا ہے۔ بلکہ آپ کو پیرنٹنگ سیکھنی ہے، کیا وجہ ہے کہ وہ ایسے کر رہا ہے اور کیسے ہینڈل کروں۔

بچے کی عزت نفس کا کیا خیال رکھیں۔ کسی تیسرے شخص کے سامنے ایسی بات نہ کریں جس میں اس کی بے عزتی کا پہلو ہے۔ وہ تیسرا اس کی پھپھو، خالہ، ٹیچر، اس کا بہن بھائی ، دادا، دادی بھی ہو سکتے ہیں۔

حتی کہ ڈاکٹر کے سامنے بھی اس چیز کا خیال رکھیں۔ یا تو بچے کے سامنے بات نہ کیجئے یا الفاظ ٹھیک سے چنیں یا کوئی اردگرد نہ ہو۔

اگر آپ سنگل پیرینٹ ہیں آپ پر لوڈ ہے لیکن آپ کو بچے کو تکلیف دینے کا حق   نہ سمجھیں۔

کیا آپ پسند کریں گے دوسروں کے سامنے کوئی آپ کی ایسی بات بیان کرے جو  آپ کو پسند نہیں؟۔ لہذا بچوں کے جذبات زخمی کرنے سے پہلے ان کہ جذبات کا خاص خیال رکھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *