Fri. Jun 14th, 2024
Muhammad Yusuf Co-founder & Head Marketing

دُنیاکے تقریباً تمام اساتذہ اور تحقیقاتی مطالعہ کے نتائج اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی دو بچے ایک طرح سے سوچتے اور سیکھتے  نہیں ہیں۔ اساتذہ نے اپنے تدریسی تجربہ میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ طالب علموں کو سبق  سکھانے کے لیے اکثر اوقات مختلف طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔متعدد ذہانتوں کا نظریہ ہمارے ان تجربات کی تصدیق کرتا ہے کہ تمام بچے ایک جیسا سوچتے اور سیکھتے نہیں   ہیں۔ متعدد ذہانتوں کا نظریہ ہم اساتذہ کو ایک فریم ورک اور ٹولز مہیا کرتا ہے جو ہمیں  ہر کمرہ جماعت میں موجود مختلف طرح سے سیکھنے والوں کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

اِسطرح اگر ہم لوگوں سے بات چیت کے دوران جب ذہین لوگوں کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں “فلاں بچہ یا  شخص بہت ذہین ہے کیونکہ اُس کی ریاضی یا سائنس یا وہ بہت سی زبانیں جانتا ہے۔”بدقسمتی سے آج اکیسویں صدی میں بھی  ہمارے بہت سے اسکول  انہیں صلاحیتوں کو ذہانت و قابلیت سمجھتے ہوئے اپنے نصاب کو ترتیب دیتے ہیں۔ اور طلباء کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ لیکن جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ تعلیمی طریقہ کار اور نظریہ مسلسل ارتقاء میں  ہیں۔ اور تعلیمی عمل میں بہتری ان تعلیمی تحقیقات  کے نتائج اور نظریہ کو  کمرہ جماعت میں استعمال سے ہی ممکن بنائی  جاسکتی ہے۔ اِسی طرح کی ایک متعدد ذہانتوں کا نظریہ ہمیں بتاتا ہے کہ تمام بچے ایک جیسا سوچتے اور سیکھتے  نہیں ہیں۔ اور جب بچے مختلف طریقوں سے سوچتے اور  سیکھتے ہیں تو ہم کیوں ایک ہی طریقہ سے تمام بچوں کو سکھاتے ہیں ؟ کیا ہمارے تدریسی تجربات اس نظریہ کو تقویت دیتے ہیں کہ ہمارا ایک ہی طریقہ سے   سیکھانا بچوں کے مفید  ہوتاہے؟ ہمیں سنجیدگی سے ان سوالات  پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

اگر ہم اسکولوں  میں بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہمارے روایتی تعلیمی نظام میں وہی بچے نمایاں نظر آتے ہیں جو زبان اور ریاضی سیکھنے کی ذہانت رکھتے ہیں۔ اور ان کی صلاحیت بہتر سے بہتر ہوتی چلی جاتی ہیں لیکن  اس کے برعکس جن کی ذہانت یا رجحان  موسیقی، آرٹ یا نیچر کو سمجھنے میں بہتر ہوتی ہے  کمرہ جماعت میں ان کی کارکردگی غیر نمایاں نظر آتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمرہ جماعت اور زندگی میں ان کی کارکردگی کا گراف نچلی سطح پر جاتا نظر آتا ہے ۔اس لیے ہم اساتذہ کو چاہئے کہ متعدد ذہانت کے نظریہ کو سمجھنے اور اس کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اسباق میں ایسی  سرگرمیوں کو ترتیب دے جو ہمیں بحثیت استاد کمرہ جماعت کے ہر بچے تک اس کی ذہانت کے لحاظ سے پہچنے میں مدد دے سکیں اور اُن کی اپنی مخصوص ذہانت کو تقویت دے سکے۔ اِس طرح بچے بھی اپنی افرادی سیکھنے کے عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے پُرلطف انداز میں سیکھ  سکتے ہیں۔

اساتذہ کو چاہیے کہ وہ متعدد ذہانتوں کے نظریہ کو استعمال کرتے ہوئے معلومات کو اِس طرح پیش کریں جو معلومات کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے مختلف راستوں اور ٹولز کا استعمال کرنے کا موقع دیں سکیں۔ اِس طرح ہم  ہمارے طلباء کے سیکھنے کے عمل میں مثبت اثر ڈال سکتےہیں۔ مثال کے طور پر سبق کے اندر رول پلے، گروپ میں مل کر کام کرنا،   تصویریں بنابا، فیلڈ ٹرپ، پزل ، بحث و مباحثہ، ویڈیویا آڈیو پروگرام تیار کرنا جیسی سرگرمیاں شامل کی جاسکتی ہے۔ اِس طرح کی سرگرمیاں نہ طلباء کو سیکھنے میں سہولت فراہم کرتی ہے بلکہ سبق اور اس کے مفہوم کو سمجھنےکا یکساں موقع فراہم کرتی ہے۔

اسطرح ہمیں چاہیے کہ طالب علموں کو ان کی مختلف ذہانتوں کو دریافت کرنے اور تقویت دینے کا موقع  دیں تاکہ تدریس کے عمل سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اور کمرہ جماعت میں ہونے والی سرگرمیوں میں شامل ہو کر اور فعال طالب علم بن کر اپنی خداداد صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں۔ اِسطرح ہم اساتذہ بچوں کو ان کی پسند کے میدان میں پُراعتماد، کامیاب اور معاشرے کے کارآمد فرد بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ورنہ  مجھے خطرہ ہے کہ ہم پہلے کی طرح بہت اچھے کاریگر، موسیقار، پینٹر ، قائد وغیرہ کی بڑی تعداد کو کھوتے چلے جائیں گے۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *