Tue. Jun 25th, 2024

کیا ہم حقیقتاً  ریاضی پڑھاتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ریاضی کے اساتذہ کو غور کرنا چاہیے۔ میں نے اپنی تمام پیشہ ورانہ زندگی میں بہت سے اساتذہ کو دیکھا ہے کہ وہ ریاضی کی ٹیکسٹ بک سے مشقی سوالات کا صفحہ کھولتے ہیں اور طالب علموں کو مشقی سوالات حل  کروانا شروع کر دیتے ہیں ۔ طالب علم استاد کے طریقہ کار پر قدم بہ قدم کاپی کرتے ہوئے سوال حل کرنے کی مشق کرتے ہوئے تمام مراحل کو یاد کر لیتے ہیں اس طرح استاد کامیابی سے مشق مکمل کروالیتا/لیتی  ہے اور اس کی جماعت کے  طالب علموں کی بڑی تعداد مشقی سوالات حل کرلیتے ہیں لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد طالب علم اور استاد  دونوں بھول جاتے ہیں اور ان سوالات کو دوبارہ حل کرنے کے لئے انہیں پھر سے پرانے حل کیے ہوئے سوالات کو دیکھنا پڑتا ہے یا  کسی دوسرے کی مدد لینی پڑتی ہے کیا آپ نے سوچا ہے کہ “ایسا کیوں ہوتا ہے؟”

اگر  آپ چھٹی جماعت کی  کسی  بھی اچھی  ٹیکسٹ بک  کا جائزہ لیں تو  ہمیں  صاف نظر آئے گا کہ اس کا ایک باب عموماً دس سے بیس صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور کے تین سے چار صفحات ایسے ہوتے ہیں جن پرباب سے متعلق مشقی سوالات درج ہوتے ہیں ۔ہم  اُن بیس   صفحات میں سے صرف تین سے چار صفحات  پر توجہ دیتے ہیں اور باقی صفحات کو چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے اُس  پڑھے گئے باب کے تصورات  اور طالب علموں کی علمی صلاحیت کے درمیان ایک خلا  پیدا ہوتا ہے اور یہی خلا ان کی ریاضی سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے آئیے دیکھتے ہیں کہ “ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟”

ایسا کیوں ہوتا ہے؟، ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات کو سمجھنے کے لئے ہمیں ریاضی سیکھنے سے متعلق اصطلاح  کو دوبارہ سے سمجھنے کی  ضرورت ہوگی ۔ اسکیمپ نے 1989 میں ریاضی کے سیکھنے کی وضاحت دو اقسام کی تعریف سے کی۔پہلی قسم پروسیجرل لرنگ ، جس میں طالب علم ریاضی کے اصولوں کو  رٹ  کر ان کی مدد سے سوالات کو حل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ دوسری قسم ریلیشنل لرنگ جس میں ریاضی کے اصولوں کو سمجھنا ،مختلف تصورات کے درمیان تعلق کو سمجھنا، دیگر مسائل پر ان تصورات کا اطلاق یا استعمال کرنا اور یہ  جاننا کہ  یہ اصول کیوں اور کیسے کام کرتے ہیں۔ اس طرح ہم اگر اس اسکیمپ کے کام کا جائزہ لیں تو ہمیں صاف پتہ چلتا ہے کہ ہماری تدریس ایک سطحی طرح کی فہم اور صلاحیت پیدا کر رہی ہیں جس سےطالب علم  صرف ریاضی کے اصول اور  متعلقہ مشق کو حل کرنے میں  اُس اصول کا استعمال کر پاتے ہیں۔ اس کے برعکس اکیسویں صدی میں طالب علموں  کو کامیاب ہونے کے لئے  ریاضی کے تصورات کو گہرائی میں سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ  طالب علم سیکھے گئے تصورات کو نئے کاموں کے مطابق ڈالتے ہوئے استعمال کرسکیں یا انہیں لمبے عرصے تک یاد رکھ سکیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ  ریاضی کے اسباق   کوا ِس طرح کے ٹاسکس سے شروع کیا جائے جو طالب علموں کو اپنے طور پر مسائل کو حل کرنے  کی دعوت دیں۔ یہ طریقہ کار متعدد  طریقوں سے حل کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسطرح  ہر طالب علم مسئلہ کو حل کرنے کے لئے پہلے سے سیکھے گئے تجربات کو  استعمال کرتا ہے ۔ ایسا کرکے وہ ریاضی کے مختلف  تصورات کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے اور اپنے ریاضیاتی علم اور مہارت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے ریاضی پڑھاتے ہوئے اس  بات کو یقینی بنانے کی ضرورت  ہے کہ  ریاضی کے اسباق کے دوران اساتذہ کے بجائے   طالب علموں کی سوچ، استدلال اور تصورات کے درمیان ربط کرنے کی صلاحیت کی مشق ہو۔

اسطرح تدریس ریاضی کے ذریعے طالب علموں کی تکنیکی صلاحیتوں بلکہ تخلیقی سوچ، تحقیق اور تلاش کرنے کی صلاحیت پروان چڑھیں گے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا  جب ہم ریاضی  کے اسباق میں صرف مشقی سوالات کو حل کرانے کے  بجائے  باب  کو مکمل اور اس کی روح کے ساتھ پڑھائیں    تاکہ  طالب علموں کے لئےریاضی سیکھنے کا عمل  زیادہ مثبت اور معنی خیز تجربہ بن جائے  ۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

5 thoughts on “کیا ہم حقیقتاً ریاضی پڑھاتے ہیں؟”
  1. Great work! The column is based on real experience and reflection. l do agree with you that mostly teachers just focus on limited or targeted excersise for syllabus coverage or examination purpose but not attempt for concept building or cement learning . This is in practice due to unavailability/less availability of Countinous Professional Development in our education system. Wish you good luck

  2. Your column is good but we hv not well trained teachers in mathematics and we need proper training in this subject ,if there are some they don’t ready to apply new technology and practical approach,we only focus on examination not on real life situations

  3. A good column but we hv lack of trained teachers in mathematics ,our teachers need training ,teachers should apply new technology and practical approach if not old method will continue

  4. !یوسف
    آپ کا آج کا کالم بھی پہلے کے کالم کی طرح عملی ارو معلوماتی تحریر ہے ۔
    آپ نے بلکل صیح نشاندہی کی ہے کہ “مضمون ریاضی” کو آج بھی کئی سال گزرنے کے بعد بھی تقریبا اسکولوں میں اب تک ویسی ہی پڑھایا جاتا ہے جیسا ہمارے استاد نے ہمیں پڑھایا تھا
    جسا کا نتیجہ یہ ہےکہ آج اکثر والدین اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی اپنے بچوں کو ریاضی پڑھنے سے قاصر ہے ا گر اس ہی طرح غیر تربیت یافتہ استاد تدریس کا کام کرتے رہے تو اگلے کئی سالوں تک یہ سلسلہ جاری رہےگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *