Fri. Jun 14th, 2024

“کیا اس کا سرٹیفکیٹ ملے گا؟” میں اکثر  اساتذہ  کے پیشہ وارنہ تربیت کے پروگرام میں  بطور    کورڈنیٹر کام کرتا رہا ہوں اور یہ  وہ جملہ ہے   جو میں پچھلے 25 سال سے سن رہا ہوں اور جب بھی سنتا ہوں  توبے چین ہو جاتا ہوں کہ   پیشہ وارانہ تربیت کے لیےسرٹیفکیٹ کا ہونا  کیوں ضروری ہے ؟اور وہ کون کون سے ادارے ہیں جو سرٹیفکیٹ دیکھ کر لوگوں کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتے ہیں ؟ میں  نے یہ بھی دیکھا  ہے کہ کہ بہت سے لوگ صرف سرٹیفکیٹ  نہ ہونے کی وجہ سے سیکھنے کے مواقع کھو دیتے ہیں حالانکہ  پیش کیے گئے پروگرام ان کی  پیشہ وارانہ ضروریات کے عین مطابق اور مفت ہوتے ہیں۔ اگر آپ گوگل کریں تو بہت سے ادارے کورسسز پیش کررہے ہوتے ہیں جن کو نامی گرامی یونیورسٹی کے اساتذہ پڑھاتےہیں  اوروہ کورسسز مفت ہوتے ہیں لیکن  ان ہی آن لائن کورسسز کے اختتام پرسرٹیفکیٹ کے خانے میں میں  فیس لکھی ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کا مواد اور سرگرمیاں انتہائی موزوں ہوتے ہیں۔

میں پچھلے پچیس سالوں سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو اور مقامی، ملکی اور غیر ملکی اداروں سے وابستہ رہاہوں اور ان  میں سے کسی نے بھی  مجھ سے مختصر دورانیہ کے پیشہ ورانہ تربیت کے سرٹیفیکیٹ نہیں مانگے ہیں بلکہ انٹرویو،  ٹیسٹ، تحریری اسائمنٹ، اور presentation کی مددمیری صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا کہ  میں  وہ کام کرسکتا ہوں یا نہیں۔ اسطرح کے تجربات میرے دوسرے بہت سے ساتھی رکھتے ہیں۔

میں اس مضمون کے ذریعے اپنے نئے اساتذہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ  کیریئر میں آگے بڑھنے کے لئے سرٹیفکیٹ   کی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ علم اور مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور اپنے آپ کو ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اچھے اور مناسب ورکشاپ اور آن لائن کورسسز کی مدد سے سیکھتے رہنا ضروری ہے ۔ اور صرف حاضری لگا کر سرٹیفکیٹ     جمع کرنا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ سرٹیفکیٹ      کا جمع کرنا  ایسا ہی ہے جیسے کہ آپ تالاب میں اترے بغیر تیرنے کا کورس کا  مواد پڑھ کر پاس کر لیتے ہیں اور A+کاسرٹیفکیٹ  حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن  جب آپ تیرنے کے لئے تالاب  میں جاتے ہیں تو آپ کا سرٹیفکیٹ تو تیر رہا ہوتا ہے لیکن آپ نہیں۔

اس لئے میں آپ کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنی پیشہ ورانہ تربیت کو جاری رکھنا چاہیے کسی ورکشاپ ،  ویبنار(webinar) یا آن لائن کورسسز میں سرٹیفکیٹ    کے بجائے ضروری ضروری سرخیاں جیسے کہ کورس کی وضاحت، مقاصد اورمہارتوں کا موازنہ کریں  کہ وہ آپ کی موجودہ یا آنے والی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں میں کس حد تک مددگار ہوگا اور پھرانتخاب کیجیے یا ردکردیجئے۔کیونکہ کورسسز کے دوران سیکھا گیا علم اور مہارت آپ کے موجودہ یا آنے والے  ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مددگار ہوگی نہ کہ آپ کا حاصل کیا گیا سرٹیفکیٹ۔

اسطرح بہت سے لوگ سرٹیفکیٹ جمع کرنے کے شوق میں ہر طرح کے پروگرام میں بغیر سوچے سمجھے  اپنا اندراج کرانا شروع کردیتے ہیں۔ شروع میں شوق اور نیا تجربہ  ہونےکی  وجہ سے محنت کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں لیکن چونکہ randomlyطور پر منتخب کیے گئے کور سسز ان کی موجودہ کام سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں  وہ جلد بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پیشہ ورانہ تربیت  کے پروگرام سے بے زارہو جاتے ہیں  اور اپنے آپ کو اس عمل سے دور کر لیتے ہیں   اس لیے ضروری ہے کہ  کسی پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرام میں میں شامل ہونے سے پہلے اپنی موجودہ صلاحیتوں کا موازنہ کریں  بلکہ بہتر تو یہ ہوگا کہ آپ سال کے شروع  میں اپنا SWOT(strength-weakness, opportunities & threats) کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں اور ملنے والے مواقع کے حساب سے  مقاصد کا تعین کریں اور ان مقاصد کے مطابق کورسسز  کا انتخاب کریں اس طرح نہ صرف آپ اپنے علم اور مہارتوں میں اضافہ کریں گے بلکہ ان کو سیکھنے میں آپ کی دلچسپی بھی برقرار رہے گی  ۔پیشہ ورانہ  ضرورت  سے مطابقت کی وجہ سے آپ کے کام میں نمایاں فرق نظر آئے گااور یہی نمایاں مثبت فرق  آپ کی کامیابی کی ضمانت بنے گا اور آپ کے کیرئیرکو آگے لے کر جائے گا۔ ورنہ آپ اپنا حاصل کیا گیا سرٹیفیکٹ کس کس کو دکھائیں گے  کہ میں نے یہ کورس مکمل کرلیا ہے ہے فیس بک میں بھی آپ کا شیئر کیا گیا سرٹیفکیٹ کچھ وقت کے بعد بعد بڑی مشکلوں سے نظر آتا ہے اور آپ کے  کچھ دوست آپ کا لحاظ کرتے ہوئے آپ  کے سرٹیفکیٹ کو بغیر پڑھے ہوئے لائیک کر دیتے ہیں ۔

اس لئے میں آپ کو اپنے کیرئیر کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے مشورہ دینا چاہتاہوں کہ سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں اور جب بھی جہاں سے  بھی آپ کو سیکھنے کا موقع ملے اس کو حاصل کریں اور سرٹیفکیٹ جمع کرنے کے شوق کو چھوڑ دیں بلکہ کسی پیشہ ورانہ تربیت کے  اشتہار کو دیکھے تو  اپنے آپ سے سوال کریں گے کہ ”  اس کور س سے میں کیا سیکھ سکتا ہوں؟ یہ میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور ضروریات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے؟” اور پھر اس کورس یا پروگرام  میں شمولیت کا فیصلہ کریں۔ 

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

13 thoughts on “کیا اس ورکشاپ کا سرٹیفکیٹ ملے گا؟”
  1. No one asked me to show up certificates of the online courses since I started these. However, institutes appreciated I was connected to learning as we often hear learning never stops. So, what Yusuf emphasized is to filter the course(s) that would increase professional knowledge and skills and implement where required.

  2. یوسف بھاٸی آپ نے بہت خوبصورت انداز میں سرٹیفکیٹ کی تمنا کرنے والوں کی نشاندہی کی ھے۔ کاش کہ استاد صأحبان اپنی صلاحییتی بڑھانے پر توجہ دیة۔
    ساتھ ساتھ جو لوگ پراٸیویٹ امیدوار کے طور پر بیچلر اور ماسٹرس اور پروفوشنل بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگریاں لیتے ہیں اد پر بھی کچھ لکہی

    اسکے علاوہ سرکاری استاد صاحبان جو ھمیشہ ٹی اے ڈی اے کی لالچ میں ٹریننک کے پہلے دن دیر سے آتے ہیں ٹریننگ کے دوران غاٸب رہتے ہیں آخری دن ٹی اےڈی اےلیکر چلتے بنتے ہیں اس پر بھی کبھی لکہی

  3. یوسف بھاٸی آپ نے بہت خوبصورت انداز میں سرٹیفکیٹ کی تمنا کرنے والوں کی نشاندہی کی ھے۔ کاش کہ استاد صأحبان اپنی صلاحییتی بڑھانے پر توجہ دیة۔
    ساتھ ساتھ جو لوگ پراٸیویٹ امیدوار کے طور پر بیچلر اور ماسٹرس اور پروفوشنل بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگریاں لیتے ہیں اد پر بھی کچھ لکہی

    اسکے علاوہ سرکاری استاد صاحبان جو ھمیشہ ٹی اے ڈی اے کی لالچ میں ٹریننک کے پہلے دن دیر سے آتے ہیں ٹریننگ کے دوران غاٸب رہتے ہیں آخری دن ٹی اےڈی اےلیکر چلتے بنتے ہیں اس پر بھی کبھی لکہی

    1. سر اپ نے بہت اچھا ارٹیکل لکھا ہے پڑھ کرر مزا ایا لیکں سر معزرت کے ساتھ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ پیشہ ورانہ تربییت کے ساتھ سرٹیفکٹ بھی ضروری ہےکیونکہ کوئ بھی شخص پیشہ ورانہ تربییت کیوں کرتا ہے ظاہر سی بات ہے کوئ نہ کوئ نوکری کے لے۔اور ہر ادارے میں انٹرویو کے دوران یہ سوال ضرور ہوتا ھے کہ پہلے کہیں کام کیا ہے اگر اپ کے پاس سرٹیفکٹ ہوگا تو اپ دکھاسکتے ہیں
      رہی بات مہارت کی تو وہ بھی بہت ضروری ہے اپ نے صحیح کہا کہ سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا چاہیئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *