Fri. Jun 14th, 2024
Uzman Rehman

آج کل بچوں کی تفریح کے لیے کارٹون سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ اور بچے کی گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کارٹون دیکھنا پسند کرتے ہیں ۔اور والدین اپنی  گھریلوں یا دوسری مصروفیات کے باعث بچوں کے لئے اسےآسان تفریح کا طریقہ منتخب کرتے ہیں ۔والدین کی نگرانی یا نگرانی کے بغیر بچے گھنٹوں ٹی وی پر کون سے کارٹون دیکھنا پسند کرتے ہیں اور اس کا ان پر کیا اثر ہوتا ہے یہ جاننا آپ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ اکثر والدین کو اس کی سنگینی کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا کارٹون کس طرح ہمارے بچوں کی ذہنی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کیونکہ بچے جو کچھ دیکھتے ہیں اُسی کی تقلید کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے بچوں کا دماغ تجسس سے بھرپور ہوتا ہے ۔اور ہمیشہ کچھ سیکھنے کے لیے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے عام طور پر بچہ اپنا وقت گھر میں، اسکول میں یا گھر میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ گزارتا ہے اور اُسے اپنے آس پاس کچھ انوکھا یا مزاحیہ نہیں دیکھتا اور اس کمی کو پورا کرنے کے کے وہ  گھر پر ٹی وی پر کارٹون دیکھنا پسند کرتا ہے.اور زیادہ تر والدین خود ہی بچوں کو ٹی وی یا موبائل پر کارٹون لگا  دیتے ہیں تاکہ بچہ ان کی مصروفیات میں دخل اندازی نہ کرے اور بچہ آرام وسکون سے مصروف ہوجائے۔ لیکن والدین کا یہ خیال یا عادت کس قدر  مناسب ہے یا نہیں آئیے آج ہم کچھ نظر اس طرف بھی ڈالتے ہیں ۔

کارٹون کے کردار بچوں پر دو طرح کے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

مثبت اثرات        منفی اثرات

اگر میں مثبت اثرات کہ بات کروں تو ۔

۔کارٹون بچوں کی تفریح کا ذریعہ ہیں ۔

۔ایسے کارٹون جن کے الفاظ کی ادائیگی انگلش میں ہوں تو بچے کی انگلش کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اور بچہ نئے انگلش کے الفاظ سیکھتا ہے۔ جو اس کی تعلیمی زندگی میں مدد گار ہوتی ہے۔

مثبت سوچ رکھنے اور سیکھنے  کا موقع ملتا ہے ۔

۔مسائل کو حل کرنا ،  ٹیم ورک کرنا 

۔چیزوں اور ماحول کا مشاہدہ کرنا ۔اور نئی چیزیں دریافت کرنا ۔

۔اچھی صحت کو قائم رکھنا یعنی بچوں کا موڈ ہنسنے کی تفریح فراہم کرنا ۔

۔رحم دلی، دوسروں کی مدد کرنا، دوستی کرنا اور نئے   دوست بنانا وغیرہ وغیرہ جیسی باتیں شامل ہیں ۔

آئیے! اب بات کرتے ہیں کارٹون دیکھنے کے منفی پہلوؤں پر ،اور یہاں میں آپ کو چند  ایسے مشہور  کارٹونز کی مثالیں  اور ان کے نام  بتاؤں گی جو کہ ہمارے بچے  آج کل شوق سے دیکھتے ہیں ۔اور ان کے کیا کیا منفی  اثرات ہمارے بچوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں۔

صحت کے مسائل ۔

تحقیق کے مطابق زیادہ گھنٹوں تک بچے کا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کارٹون دیکھنا جس سے بچے کی جسمانی فزیکل ایکٹیویٹی کم ہو جاتی ہے جس سے مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں جیسا کہ موٹاپا،ٹی وی  یا موبائل سے خارج ہونے والی خطرناک شعاعیں جن سے آنکھوں کی بینائی کا کم ہونا اور بچوں کے دماغ کا متاثر ہونا شامل ہیں۔

بچوں کو غیر صحت مند اور غیر متوازن غذا کی طرف راغب کرنے میں بھی کارٹونز کا بڑا ہاتھ ہے۔جو کہ بچوں کو جنک  فوڈ کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ۔مثال کے طور پر Dora the explorer،اس میں کارٹون کردارDora and Sponge Bob جو کہ زیادہ تر کینڈی، چپس ,اور دوسرے غیر متوازن  اسنیک کھاتے دکھائی دیتے ہیں ۔ایک اور کارٹون موٹو پتلو جس کے دو کرداروں کو جب بھی ان کو بھوک لگتی ہے یہ سموسے ،چائے ،نوڈلز وغیرہ جیسی چیزیں کھا کرفوراً چاق و چوبند ہو جاتے ہیں ۔

یہاں میں آپ کی توجہ ایک اور بات کی طرف دلانہ چاہتی ہوں کہ  ٹی وی یا  کارٹونز میں  آنے والے مشہور کردار بچوں کے کھانے کی مصنوعات کے پیکٹس پر بہت سالوں سے چسپاں ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس سے آپ باآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ  کس طرح یہ بچوں کی فوڈ چوائس پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔۔ فوڈ کمپنیز یہ جانتی ہیں کارٹون کردار کس طرح غذائی مصنوعات کو بیچتے ہیں جو ان کی کمائی کا ذریعہ ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ  یہی کردار کبھی بھی صحت مند غذا کے پیکٹس  پر چسپاں  نظر نہیں آئیں گے۔

پُرتشدد رویہ کا پیدا ہونا۔

میڈیا میں تشدد تو عرصہ دراز سے دکھایا جا رہا ہے،اور اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ پر  تشدد میڈیا کو دیکھنے سے بچوں کے پُرتشدد رویوں میں ملوث ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔2003 میں امریکہ میں شکاگو میں امریکن سائیکالوجیکل ایسوسی ایشن کی  پندرہ سالہ ریسرچ میں 329 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جس میں میڈیا پر دکھایا جانے والا تشدد اور بچوں کے جارحانہ سلوک کے مابین ایک مثبت ربط پایا گیا۔جو کہ یہ بات انتہائی پریشان کن ہے۔ اسطرح مختلف کارٹونز میں حیرت انگیز حد تک  تشدد دکھایا جاتا ہے۔ہر کردار ایک دوسرے کو مار پیٹ اور دھمکاتے ہوئے نظر آتا ہے۔ان کارٹونز کی وجہ سے نہ صرف ہمارے بچوں  کی طبیعت میں شدت پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتائج بے شمار ناپسندانہ رویہ اور واقعات کی صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ کردار بچوں کے دماغ میں چھا جاتے ہیں اور نوخیز بچے انہی کو اپنا آئیڈیل بنا کر زندگی گزارتے ہیں۔  حلانکہ ان  کارٹون سے بچوں کو کسی قسم کا اخلاقی سبق حاصل نہیں ہوتا۔اسطرح بچوں میں ایسا رویہ پروان چڑھتاہے کہ بچے کی بچوں کی زندگی میں اگر کبھی اصل میں ان کے سامنے تشدد ہورہا ہو تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی کوئی بےچینی یا دوسرے کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔وہ دوسرے کے دکھ اور تکلیف میں بے حس ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کارٹون  ٹوم اینڈ جیری، ڈیرگن بالز، موٹو پتلو، چھوٹا بیم ، بین ٹین وغیرہ

 نہ مناسب الفاظ کی ادائیگی

اور ان کارٹون میں استعمال ہونے والے الفاظ کی وجہ سے ہم اپنی تہذیب اور ثقافت کو کھو رہے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر انڈیا سے ہندی میں ڈب کرکے دیکھائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پران میں استعمال ہونے والے ہندی کے الفاظ ہمارے بچوں کے لیے انتہائی نامناسب ہیں۔ مثلا خوبصورت کو سندر کہنا،گردن کو منڈی کہنا، کسی کے نام کی جگہ” کالیا” کا لفظ استعمال کرنا ۔ دماغ کی جگہ “بدھی”  کا لفظ۔۔۔”پاب رے” ۔۔  لوگ کی جگہ “واسیو” ۔دل ۔۔۔”من” وغیرہ اور ایسے بہت سے الفاظ جو ہماری تہذیب کے منافی ہیں کارٹون میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

غیرمناسب لباس کافروغ پانا۔

ان میں موجود کردار عموما ایسے غیر معیاری  لباس پہنتے ہیں جس میں مخصوص اعضا ء کا ابھرنا ، ان کا نظرآنا، نمایاں ہونا، ایک عام بات ہے لیکن یہ رویہ  ہمارے معاشرے میں مکمل  لباس کی اہمیت کم رہا ہےاور غیرمناسب لباس کا کلچر فروغ پارہا ہے ۔ مثلاًروبوٹ چکن، ڈیسنی پرنس، فروزن، وغیرہ اس طرح کے کارٹون کی مثالیں ہیں۔

 غیر ذمہ داری

بعض اوقات کارٹون سے بچہ  غیر ذمہ داری اور کام سے فرار بھی سیکھتا ہے مثلاً بوب دا بلڈر اس کی ایک مثال ہیں۔

خوبصورتی کے بارے میں فکر مندی۔

 کارٹون کرداروں کی لڑکیوں یا بچیوں کو خوبصورتی کے بارے میں سوچتے ہوئے دیکھایا جاتا ہیں۔اسطرح بچیاں جیسا دیکھتی  ہیں ویسے ہی کپڑے پہننا اور ویسے یہ  دبلی پتلی اورخوبصورت دیکھنا چاہتی ہیں، ویسے ہی باتیں کرتی ہیں۔باربی ڈول، سنڈرریلا اور ٹانگا لیڈ اس کی بڑی مثالیں ہیں۔

یہاں  میں نے کچھ کارٹون کے   مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں روشنی ڈالی  ہیں جو میرے مشاہدے میں آئے ہیں ۔جبکہ حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ یاد  رکھئے!بچوں کو بڑا ہو کر بھی جس چیز میں دلچسپی زیادہ ہوتی ہے  وہ کرکے ہی رہتے ہیں اس لیے بچے  اگر بہت زیادہ انہماک  سے ٹی وی دیکھ رہے ہیں تو آپ  کچھ بھی کرلے بچے کارٹون دیکھنے سے باز نہیں آئیں گے۔ تو اس صورت حال میں میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیں بچوں کے لئے ایسے متبادل سرگرمیوں کی تلاش کی ضرورت ہے جس سے آپ کا بچہ مصروف ہو نے ساتھ ساتھ وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکے۔ مثلا  بچوں کو کارٹون دیکھنے کے لیے وقت مقرر کر دینا چاہیے۔ آپ اپنی مصروفیات میں بچوں کو بھی اپنے ساتھ مصروف رکھ سکتے ہیں جس میں اُنہیں کوئی اسٹوری بک بھی آپ دے سکتے ہیں۔ جس سے  بچے کی توجہ تقسیم ہو جائے گی۔ بچے ہمارا بہترین سرمایا ہیں  اور ان کی عمدہ تربیت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔لہذا اپنی خاص تر مصروفیات کے باوجود اپنے بچے پر نظر رکھیں۔ اور ان کی سرگرمیوں میں ان کے حصہ دار بنیں ۔

11 thoughts on “کارٹون اور بچوں پر اس کے اثرات”
  1. Bht hi serious issue hai ap ne bht hi gehra mushahida Kia hai waqai cartoon bchon ki jismani aur nafsysti sehat per asar andaz ho rhy hain hmain is masly ka hal talash krny ki koshish krna hogi.zbrdst article ?

  2. Keep up the good work high Mam. Ur piece of writing rearlly do justify with the facts. May u get more success in ur field. ?

  3. There is no doubt there are plenty of inappropriate content, culture and slang language in conversation being presented through entertaining cartoons for children, which obviously have adverse effects on their behaviour and over attitude in their daily life. The roles and responsibilities of parents writer pointed out in the article are rather crucial in term of monitoring their children activities. They are the decisive factor in their children life particularly at the initial stages of childhood. They can decide and facilitate how their child grow up with a strong personality to face the challenges of life in future.

  4. Dear Ms Uzma,
    You have highlighted key issue related with cartoon coming from neighbor countries with hindi/urdu translation.
    Regards

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *