Tue. Jun 25th, 2024

آپ سچ سچ بتائیں کہ آپ نے یہ جملہ کتنی مرتبہ اپنے بچوں سے بولا ہے اوراگر آپ ٹیچر ہیں تو کتنی مرتبہ اپنے کمرہ جماعت میں بولا ہے میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ اپنے بچپن کو یاد کریں کہ آپ سے یہ جملہ کتنی مرتبہ بولا گیا ہے اور جب آپ نے یہ جملہ سُنا تو آپ کا ردِ عمل کیا تھا۔

بچے بنیادی طور پر متجسس ہوتے ہیں اور اپنا یہ تجسس وہ اپنے قریبی لوگوں جیسے کہ والد، والدہ یا بڑے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ان پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے دن بھر کی مصروفیات اور مشاہدات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اسطرح وہ نہ صرف اپنے سوالات کے جوابات پانا چاہتے ہیں بلکہ وہ اپنے ممکنہ جوابات کی تصدیق بھی چاہتے ہیں لیکن ان کا یہ سارا تجسس اور آمادگی اس جملہ “چُپ ہوجاؤ” کو سُن سُن کرختم ہوجاتاہے اور وقت کے ساتھ وہ گفتگو کرنا اور سوال پوچھنا ہی بھول جاتے ہیں۔

اس کے برعکس کچھ والدین اپنے بچوں کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں ان کے سوالوں کے جوابات دیتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اپنے بچوں سے دوران ِ سفر یا کسی پروگرام سے متعلق اپنے مشاہدات پر بحث کرتے ہیں  اور  اس کے متعلق سوالات کرتے ہیں ۔ وہ بچے جن کو یہ ماحول ملتا ہے بڑے پرجوش اور بااعتماد ہوتے ہیں اور بحث و مباحثہ کے دوران تنقیدی سوالات اور مشاہدات پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ اور مسائل کے غیر روایتی حل پیش کرتے ہیں۔

بچوں کو اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا اسکول میں بھی کرنا پڑتا ہے جہاں نظم و ضبط کے نام پر انہیں چُپ بیٹھنے کی تربیت دی جاتی ہے اسطرح چُپ بیٹھ بیٹھ کر ان کی سوچنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے ، وہ بحث و مباحثہ میں شامل ہونے کے آداب نہیں سیکھ پاتےہیں اور ان میں اعتماد کی کمی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

اسطرح تدریس کے دوران بہت سےٹیچرز بچوں کے سوالات کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں بلکہ انہیں  “تم  بہت سوالات کرتے ہو” جیسے جملےبول کر چُپ کرادیتے ہیں۔ بچوں  پر زور دیا جاتا ہے کہ اگر وہ خاموشی سے اگلے 15سے 20 منٹ تک سنتے رہیں گے تو ان کو اساتذہ کی ساری باتیں سمجھ آجائے گی۔ نہ کہ ٹیچر سے سوال پوچھنے کے نتیجہ میں۔ ایسے بچے وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف سوالات پوچھنا بھول جاتے ہیں بلکہ سیکھنے سے بور ہوجاتے ہیں اور صرف  ٹیچرز کی جانب سے دیئے گئے سوالات کے جوابات تلاش کرنے یا اُن  کے بتائے ہوئے جوابات کو رٹنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔اس کے برعکس جو ٹیچرز اپنے بچوں کے سوالات کو سنتے ہیں اور سوال پوچھنے   پر اُن کی  حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو سیکھنے کے عمل میں ان کو بڑی آسانی سے شامل کرلیتے ہیں۔

بچوں کو سوال پوچھنے کی آزادی دینے سے ہوسکتاہے کہ وہ آپ سے ایسے سوالات پوچھ لیں جن کے جوابات کے بارے میں آپ پُراعتماد نہ ہو تو گھبرائیں نہیں بلکہ یہ بہتر ہوگا کہ انہیں کہ دیں کہ “ہم اس کا جواب نہیں جانتے ہیں لیکن ہم ڈھونڈ سکتے ہیں”۔ پھر آپ بچے کے ساتھ مل کر جواب کے لیے تحقیق کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اسطرح  آپ کا بچہ آپ کے بغیر بھی اپنے تجسس کو دور کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ وہ ٹیچر ہے جو بچوں کو سوالات پوچھنے کی پوری آزادی دیتے ہیں اور آپ  کوان کے سوالات کے جوابات آتے ہیں تب بھی فوراً جواب دینے سے خود کو روکیں اور بحث کا دروازہ کھولنے کی کوشش کریں اور بچوں کے ساتھ مل کر کہانی بنانے کی کوشش کریں۔ مثلاً اگر بچہ آپ سے پوچھتا ہے کہ رات کو اندھیرا کیوں ہوتا ہے؟ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ خود مشاہدات پر مبنی تحقیق کریں کہ وہ کیا چیز ہے جو رات کو دن سے مختلف کرکے اندھیرا کردیتی ہے۔ بچوں کو فوراً جواب دینے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر یا انھیں جواب تلاش کرنے کا عادی بنائیں۔

اگر ہم  اپنے بچوں کو پُر اعتماد، متجسس، سوالات کرنے  والے، اپنی آس پاس کی دنیا سے منسلک ہوسکنا، ناکام ہونے سے نہ ڈرنے والے اور اپنی غلطیوں سے سبق لینے والے دیکھنا چاہتے ہیں تو  ہمیں اپنے اسکول اور گھر میں ایسا ماحول بنانا پڑے گا جہاں ہم “چپ ہوجاؤ چلے جاؤ ” کہنے کے بجائے ان کی گفتگو کو سُنیں، ان پر بحث کریں اور اُن سے کہیں کہ “آؤ مل کر تلاش کرتے ہیں”۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

9 thoughts on “چُپ ہوجاؤ”
  1. ٹیچرز تو ٹیچرز میں نے اکثر والدین کو بھی یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ خاموش ہو جاؤ !چپ ہو جاؤ! اتنا بولتے ہو سر میں درد کر دیا ہے بول بول کر وغیرہ وغیرہ ۔لیکن حقیقت میں یہ ایک بہت غیر مناسب رویہ ہوتا ہے ہمارے استاد ذہ اور والدین کی طرف سے ۔ریسرچ کے مطابق اگر بچوں پر مسلسل چلایا جائے یا بات بات پر خاموش کروا دیا جائے تو بچے کے اندر مستقبل میں جاکر بہت بدترین اور جارحانہ انداز اور رویے ابھر کر سامنے آ سکتے ہیں ۔لہذا یہ ذمہ داری والدین اور ٹیچرز دونوں کی ہے کہ وہ بچوں کی آواز بنے نہ کہ ان کو چپ کروایں انکے سوالوں انکی سوچو ں اور ان کے احساسات کو ان کے اندر نہ رہنے دے اور اپنا کوئی بھی جارحانہ رویہ یا زبردستی ان پر مسلط نہ کریں
    بطور استاد کلاس میں جانے کے بعد آپ پچھلے دن کی پڑھائی کے حوالے سے سوالات کریں ایک revision کریں ۔دوسری بات نیا سبق پڑھانے کے دوران وقفے وقفے سے رک جائیں طلبہ سے سوالات کریں کیا یہاں تک سب کو سمجھ آ گیا ہے بچوں کو سوالات کرنے کا موقع دیں ۔میں نے اکثر دیکھا ہے کی کچھ استاد دوران سبق سوالات کرنے سے روک دیتے ہیں کہ جب میں پڑھا لوں تو آخر میں مجھ سے سوال کرنا۔(یا بعض اوقات استاد کا اپنا رویہ اتنا سخت ہوتا ہے یہ بچہ خود بخود سوال کرنے سے یا پوچھنے سے ڈرتا ہے کہ کہیں ٹیچر مجھے مارے نا یا مجھ سے غصہ نہ ہو جائے) اسے کیا ہوتا ہے دوران سبق اگر بچے کے ذہن میں کوئی سوال ابھی رہا ہوتا ہے تو وہ اسے بھول جاتا ہے جو کہ اسے بعد میں یا گھر جاکر پھر ذہن میں آجاتا ہے جس سے بچہ کنفیوز ہو جائے گا لہذا دوران نے سبق اور سبق کے بعد بچوں کو سوالات پوچھنے کا موقع دیں ۔بچے سے ایک حد تک دوستانہ ماحول رکھے کہ وہ آپ سے پڑھائی یا دیگر اپنے ایشوز پر بھی آپ سے بات کر سکے ۔
    شکریہ

  2. A very good article which reflects the society animosity with children. I think we should implement in whole like in working environment also. Asking questions make the mind more clever and creative and this important points are missing specially in schools.

  3. Protocols may be set before lecturing e.g. you may speak up but productive related to the topic so that other students benefit from variety of students response. Else, unnecessary chat would shake classroom discipline.. classroom discipline could also mean learning from one another in a peaceful way.
    Some students are proactive I mean they assemble topic-related info before lecture is delivered. So, they less focus on already learnt knowledge. Reluctantly, they make noise adding student next to him/her. That’s why, teacher has to say chup ho jao.

    1. Discipline is another thing .it is also necessary in the classroom while You Are Lecturing .
      لیکن یہاں پر بات بچوں کو سوال پوچھنے پر چپ ہو جانے کی ہو رہی ہے ۔اب اپنی کلاس میں ڈسپلن ضرور قائم رکھیں لیکن بچوں کو اتنا موقع ضرور دیں کہ وہ سوالات پوچھ سکیں ۔

  4. Wonderful n bitter reality…..No doubt questioning is a major part of knowledge…..weldone sir??

  5. Excelent Topic, sir, Teachers ask questions but in daily life or in classrooms most of the teachers discouraged students, we should rethink and provide opportunity to ask questions.
    Thanks sir Yousuf

  6. Assalamalaikum. Very thought provoking writing. Really sometime teachers treat very badly with students as they focus on only syllabus coverage. Atleast if they read this piece of writing may change the attitude inshaallah. Thanks sir Yousuf for opening the eyes of many teachers

  7. Zabardast topic
    We should encourage children to ask questions but in daily life or in classrooms most of the teachers discouraged students, we should rethink and provide opportunity to ask questions.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *