Tue. Jun 25th, 2024
Babar Khan

گزشتہ کچھ عرصے سے ٹیلی وژن کے مختلف پروگراموں میں خیبر پختونخوا  کا ایک بچہ  بہت مشہور ہوا  اور اس  کا ایک جملہ”پیچھے تودیکھو” کافی مقبول ہوا۔اس بچے کو ٹیلی وژن کے علاوہ سماجی میڈیا پر بھی بہت وقت دیا جاتا رہا۔ میں اس پہلو پر سوچتا رہا کہ ان مختلف ٹیلی وژن پروگراموں اور  دیگر سماجی میڈیا کا اس بچے کو تقویت دینا  اس کی ذاتی زندگی پر کیا اثرات مرتب  کر ے گا؟کسی نے شاید ہی سوچا ہوگا،اس بچے کی سوچ،شخصیت،رویے،دیگر بچوں کے ساتھ برتاوٗ یہ سارے وہ پہلو ہیں جن کو شائد یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔عمر کے اس ابتدائی حصے میں شہرت اور پزیرائی ملنے سے کیا یہ بچہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ تو نہیں جائے گا؟ کہیں غرور وتکبر کے پہلو  اس کی شخصیت میں نمودار تو نہیں ہونگے؟کیا اس بچے کو یہ پروگرام اس طرح ہی توجہ دیتے رہیں گے؟اگر نہیں دیں گے تو پھر کیا ہو گا؟ اس طرح کے بہت سارے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا اور اپنے معاشرے کو ان پہلوؤں کے بارے میں  آگاہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اس  ناسور سے  متاثرہونے والا  دوسرا  طبقہ ان  بچوں کا بھی ہے  جو ان پروگراموں کو دیکھتے ہیں اور اس بچے کی عادات و اطوار کو اپنا رہے ہیں۔ یا اسی طرح کے کوئی جملے یا حرکتیں کرنے کی کوشش میں مصروف ہونگے تاکہ ان کو بھی اس طرح کی شہرت ملے ۔ ان کے بھی بولے جانے والے جملے گھروں اور گلیوں میں دہرائے جائیں۔یہاں پر میرا مقصد قطعی اس بچے پر تنقید کرنا نہیں ہے بلکہ ایسے پروگرام ترتیب دینے والوں کی کم عقلی،محدود نقطہ نظر،اوربچوں کی نفسیات سے لاعلمی  پر تعجب  کا اظہار کرناہے۔ان کے اندر احساس کو اجاگر کرنا ہے، اوران کو بتانا ہے  کہ  ہم اپنی نئی نسل کو کیا سیکھا رہے ہیں اور  ہم انہیں تباہی  کی کس نہج کی طرف دھکیل رہے ہیں۔غیر ضروری شہرت،بدتمیزی اور تربیت کی کمی ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل رہے ہیں۔ہم اپنے بنیادی اصولوں، فرائض اور  ذمہ داریوں سے کوسوں دور نکل چکے ہیں۔ہم اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے راستوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ہم دین کی اہم ہدایات  کو بھلا بیٹھے ہیں۔ہم نے قدر کرنا چھوڑ دی ہے۔ ہم  تعلق توڑ چکے ہیں۔ہم اپنے ایمان  کو جھوٹ ،چوری ،غیبت  اور حق تلفی جیسی   بیماروں کی  نظر کرکےکھوکھلا کر چکے ہیں۔ تعلیم سے تربیت کا عنصر نکل چکا ہے۔ہمارے واعظ و نصیحت سے عمل نکل چکا ہے۔الغرض ہم   دیمک زدہ ہو گئے ہیں زنگ آلود ہو گیا ہے ہمارا اندر اب ہمیں محسوس نہیں ہوتا کہ ہم   کس تباہی کی جانب گامزن ہیں۔ویسے بچے کا بولے جانے والا جملہ “پیچھے تو دیکھو”  خود میں یہ ایک  سبق ہے دراصل ہم سب کو پیچھے دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ بحثیت مسلمان نبی کریم ﷺ نے کن اہم ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی تھی۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہماری بنیادیں کیا ہیں،ہمارےفرائض کیا ہیں۔ کیا ایسی چیزیں ہیں  کیا ایسے پہلو  ہیں جن پر عمل کرنے میں  ہی ہماری بقا ہے۔ہم تو بہت دور نکل آئے ہیں اپنے مقصد سے ،ہم دین کے اصولوں سے دست بردار ہوئے  جا رہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہمارا علم بے عمل اور بے اثر تو نہیں ہے؟کہیں تعلیم کاروبا ر تو نہیں بن گئی؟ کہیں ہمارا ایمان پیسے کے سامنے کمزور تو نہیں پڑ گیا؟کہیں انصاف کا پرچار کرنے والے ہمارے منصف بک تو نہیں گئے؟ کہیں استاد اپنے فرض کو بھول کر بے  حسی اور بد نیتی کی راہ پر تو نہیں چل  پڑا ؟کہیں ہمارے حکمران بے عمل اور  بے ایمان تو نہیں ہو گیا؟ اگر ان کا جواب ہاں میں ہے تو  اصل میں   یہاں ہمیں ضرورت ہے پیچھےدیکھنے کی   اپنے عمل کو بہتر کرنے کی اور اس راہ کو اختیار کرنے کی جس کی ہمارے نبی پاکﷺ نے ہمیں  تاکید کی ہے۔

اپنے دین کے بنیادی احکامات کو،قران و سنت کو، بزرگان دین کو، اللہ  پاک کے نیک بندوں  کی دی جانے والی ہدایات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنے آپ کو درست سمت کی جانب گامزن کریں تاکہ ہم معاشرے کو سدھار سکیں اور ہمارا معاشرہ سلامتی والا،امن والا،محبت والا، سکون والا اور خلوص والا بن جائے۔

By Babar Khan

Mr Babar is an Educational Professional with a hallmark experience in education, particularly in Teacher Education, and contributes to the enhancement of capacity and productivity of the organization, with an excellent set of leadership skills and commitment.

19 thoughts on “پیچھےتو دیکھو”
  1. بابر صاحب،

    آپ نے ایک عمدہ نباض کی طرح معاشرے کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے، نہ صرف ہاتھ رکھا ہے بلکہ پاؤں رکھ کر مَسل دیا ہے۔

    ریٹنگ کے بھوکے چینلز اُس بچے کی نجی زندگی اور تعلیمی سفر کو کب کا کھوکھلا کر چکے ہیں۔ ہر سال رمضان میں وہ سارا سارا دن اور آدھی رات تک مختلف پروگراموں میں نظر آتا ہے، جس سے اُس کی صحت بھی بہت متاثر ہوگی۔ یہی نہیں بلکہ اب تو اُس کے بھائی بھی ساتھ آتے ہیں۔ کچھ چینلز میں اسے جان بوجھ کر غصہ دلایا جاتا رہا ہے اور اُس سے غصہ کرنے کی فرمائیشیں کی جاتی رہی ہیں۔ ظاہر ہے ایسے افعال اور کرداروں سے آپ معاشرے میں موجود دوسرے بچوں کو بھی غصہ کرنا اور بدتمیزی سے پیش آنا سکھا رہے ہوتے ہیں۔

    میڈیا میں آکر جہاں وہ راتوں رات سٹار بن گیا ہے اور بہت اچھا کمانے لگا ہے وہاں اُس کی پڑھائی اور صحت بری طرح متاثر ہوگی۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مختلف لوگوں سے بات چیت کرکے اس کا اعتماد بڑھے گا اور اس کی کمیونیکیشن اسکل بھی بڑھے گی لیکن اس کی شخصیت میں بہت سارے اور نقائص پیدا ہوں گے۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے، آمین۔

    1. Perfect analysis of current situation .I dont know why media is promoting such things.why media is not promoting such children who are intelligent brave and intellectual.

    2. Really impressive artical hopefully this artical will deeply effect on our society as well as on our media

  2. Well written uncle our media is lacking in quality of content and focusing on quantity of content.

  3. Media houses are playing with the future of the children just for rating. You have pointed out an important aspect of the media and its impact on children or in other words the future of this country.

  4. آپ نے حق ادا کیا ہے بابر صاحب۔

    بظاہر بے ضرراور معمولی سمجھے جانے والے کام سماجی اور معاشرتی اقدار پر کیسے اورکسقدر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

    اب آپ کا مثالی بچہ ہمارے خصوصاً لور مڈل اور غریب معاشرے کا معمول بن چکا اور اکثر چھوٹے بچے میں داخل ہوچکا ہے۔ اب خدا نہ خواسطہ صرف پیچھے ہی دیکھتے رہ جاٸیں۔

    ٹی وی اور سوشل میڈیا میں اشتہارات اور اس طرح کے مواد کو احتیاط سے پبلک کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی اور صوباٸی سطح پر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو سنجیدگی سے فوری غور اور ایکشن کی ضرورت ہے۔

  5. Very nicely and rightly narrated. It is food for thought for our younger generations in particular and all in general. Keep writing Babar Khan Sb.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *