Fri. Jun 14th, 2024

پڑھنے(ریڈنگ) کی بہترین صلاحیت اعلیٰ تعلیم و تربیت کا ضامن مانی جاتی ہے۔ جیسے کہ فریڈرک ڈگلس کا کہنا ہے ” بس ایک دفعہ آپ نے پڑھنا سیکھا تو سمجھ لیں کہ زندگی بھر کے لیے آزادی مل گئی”  اسی طرح   ڈاکٹر سیوس  کا ماننا ہے کہ “جتنا زیادہ آپ پڑھو گے اتنا زیادہ خبردار ہوجاوگے”۔ جیکولین کینڈی    کا کہنا ہے ” اپنی دنیا کو وسعت دینے کے کئی چھوٹے چھوٹے طریقے موجود ہیں،ان میں سے  کتابوں سے محبت سب سے بہترین طریقہ ہے”۔ مارگریٹ فیلر   ” آج کے قارین، کل کے قائدین” کے فارمولے پر یقین رکھتا ہے۔  ٹیلر سیوفٹ کہتا ہے کہ ” کتابیں بہتر سوچنے کےلیے ذہن کی تربیت کرتیں ہیں” اور میری میکلوڈ بیھتن  کہتی ہے کہ “جب میں نے پڑھنا سیکھا تو محسوس کیا کہ میرے لیے پوری دنیا ہی کھُل گئی”۔ ذکر کردہ دانشوروں  کی راےَ سے پڑھنے کی اہمیت کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔  اب آئیں دیکھتے ہیں کہ پڑھنا کیا ہے؟ پڑھنا کیسے سِکھانا چاہیئے؟   اور ہمارے معاشرے میں بلعموم، اوراسکولوں میں بلخصوص، بچوں کی تعلیم و تربییت میں کلیدی کردار کی حامل پڑھنے کی صلاحیت کو پروان چڑھایا جاتا ہے اور اسکا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

ماہرین لسانیات زباندانی کو کل چار بڑے اجزا میں تقسیم کر چکے ہیں جوکہ سننا، بولنا، پڑھنا اور لکھنا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ لسانی اعتبار سے ان چار حصوں کو دو الگ الگ یعنی سننے اور بولنے کو فطری اورپڑھنے اور لکھنے کو غیر فطری عمل سمجھا جاتا ہے۔ سننا اور بولنا اس لیے فطری عمل کہلاتے ہیں کیونکہ یہ دونوں مہارتیں معاشرے میں پیدا ہونے والے بچے فطری طور پر خود بخود سیکھتے ہیں ان کو سننا اور بولنا سیکھانے کے لیے کوئی خاص اہتمام یا منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے – اس کے برعکس اگر بچوں کو اہتمام اور منصوبہ بندی کے تحت پڑھنا اور لکھنا نہ سیکھایا  جائے تو شاید وہ اپنی مادری زبان کو پڑھ کر سمجھنے یا لکھ کر بتانے کے فن سے قاصر رہیں گے۔

مذید براں، اگر زباندانی کے چار مہارتوں کو ترتیب کے اعتبار سے پرکھا جائے تو صورت یوں بنتی ہے کہ بولنے کا انحصار سننے پر ہے اور لکھنے کا انحصار پڑھنے پر ہے۔ وضاحت کے لیے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگرایک متوقع عمر کے بعد بولنے میں دشواری کی وجہ سے جب بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جاتا ہے تو ڈاکٹر کبھی بھی بچے کی زبان سے معائنہ شروع نہیں کرتا بلکہ سب سے پہلے کان کا معائنہ کرتا ہے۔ وہ اسلیے کہ بولنے کا اول ترین انحصار قوتِ سماعت پر ہے۔  اس لیے ماہرینِ لسانیات کہتے ہیں کہ بولنا سیکھنے سکھانے کے لیے بچے کو سننے کے ذیادہ سے ذیادہ مواقع کا فراہم کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ 

ٹھیک اسی طرح لکھنے کا انحصار پڑھنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ جس بچے کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی ہے وہ ایک بہترین لکھاری بھی ہو سکتا ہے۔ نمایاں بات یہ ہے کہ جس طالب علم میں پڑھنے اور لکھنے کی بہترین صلاحیت پائی جاتی ہے وہ پڑھائی کے میدان میں اعلٰی درجے کا طالب علم ثابت ہوتا ہے۔  

اب اتے ہیں کہ پڑھنے کی صلاحیت سے کیا مراد ہے اور اس صلاحیت کو کس طرح بہتر کیا جا سکتا ہے؟ تعلیمی عمل میں پڑھنے کی صلاحیت سے مراد پڑھنے کے تعین کردہ پانچ اجزا یعنی صوت، صوتی آگاہی، روانی، ذخیرہِ الفاظ اور تفہیم میں مہارت رکھنے کو کہتے ہیں۔  ان پانچ اجزا کو پڑھنے کا نفسِ مضمون بھی کہا جاتا ہے۔ بچے کی ابتدائی تعلیم میں اگر  “پڑھنے” کو ایک  مکمل مضمون کی حثیت سے بہتر منصوبہ بندی اور ترتیب کے ساتھ نہ پڑھایا جائے تو بہتر پڑھنے کی صلاحییت رکھنے والے طالب علموں کا پیدا ہونا صرف خواب دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ اس عمل میں اساتذہ کو پڑھنے کے نفسِ مضمون پر عبور اور نفسِ مضمون کو پڑھانے کے طریقوں میں مہارت ہونا بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔  

یہ بات مشاہدے سے ثابت ہے کہ جن بچوں کو پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے وہی بچے اکثر امتحانات میں یا تو بہت کم نمبر حاصل کرتے ہیں یا تو وہ پاس ہی نہیں ہوتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے اکثر ایسے بچے اسکول کو ہی خدا حا فظ کہہ جاتے ہیں یا تو انتہائی بد دلی سے وقت ٹالتے ہوے اسکول اتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ اسلیے ہوتا ہے کہ اول تو جب بھی کوئی ٹیسٹ یا امتحان ہوتا ہے اس میں تحریری صورت میں سوالنامہ دیا جاتا ہے جس کو پڑھ کر سمجھنا ہوتا ہے ۔ واضح ہوا کہ جس بچے کو پڑھنا ائے گا اسی کو ہی امتحانی سوالنامہ سمجھ آئے گا اور جو پڑھ کر سمجھے گا وہ کچھ نہ کچھ جواب میں لکھ بھی سکے گا اور جس بچے کو پڑھنے میں دشواری ہوگی اس کے لیے سوال کو ہی سمجھنا مشکل ہوجائے گا اگر سوال ہی سمجھ نہ ائے تو مناسب جواب لکھنا بہت ہی مشکل عمل ہوگا۔اگر سوال کا جواب متعلقہ اور اطمینان بخش نہیں ہوگا تو امتحان میں بہتر نتیجے کا حصول ناممکن رہےگا۔

By Syed Wali Shah

The author is the owner and director of Curiosity School Islamabad Pakistan. Currently, he is pursuing his MS leading to a PhD in Project Management. He is holding a Master Degree in Teacher Education from the Aga Khan University Karachi.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *