Fri. Jun 14th, 2024

بچوں کو دیے جانے والا پیار کسی بھی صورت میں ضائع نہیں ہوتا ہے۔ ہم والدین ہونے کے ناطے اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ پیار دینے کی بات تو کرتے ہیں مگر ہماری زبان کے الفاظ اور ہمارا عمل آپس میں متضاد دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارا دماغ اتنی طاقت کا متحمل ہی نہیں ہوتا کہ ہم اپنے بچوں کی چھوٹی موٹی باتوں اور غلطیوں کو نظر انداز کر کے ان کی شخصیت کو بہتر راستے پر گامزن کرنے کے لیے اپنے غصے پر قابو پائیں اور ان کے مستقبل کو مدنظر رکھ کر ان کی رہنمائی کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں غصے کی حالت میں ہمار ے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہمارے بچے کے تخلیقی ذہن کو احساس کمتری کا شکار نہ کر ڈالیں۔ یہ وہ سوچ ہے جس کا ہونا ہمارے بچوں کے  روشن مستقبل بنانے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب سے پہلے اس بات کو جان لیں کہ ہم کیوں ایسا کر گزرتے ہیں جو الفاظ کی حد تک تو ہمیں ازبر ہوتا ہے مگر جب اس کے پریکٹیکل  اطلاق کا وقت آتا ہے تو ہم اس کا ذرہ بھر بھی لحاظ کیے بغیر بچوں کو ایسے رویے سے  بازپرس کرتے ہیں کہ وہ آئندہ کے لیے کچھ کرنے کی بات تو دور کی بات ہے وہ اس کی طرف سوچنے سے بھی  دور بھاگنے لگتے ہیں۔ دراصل اس سارے معاملے کے پیچھے جو اہم عناصر اور عوامل ہیں ان میں سے ایک انتہائی اہم یہ ہے کہ ہمارے بڑوں نے بھی صرف باتوں کی حد تک ان چیزوں کا پرچار کیا ہے مگر جب بھی ان باتوں کے اطلاق کی بات آئی ہے تو انہوں نے  وہی کچھ کیا جو ان کے جذ بات نے کرنے کا عندیہ دیاتھا۔ اس لمحے میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کوئی تو ایک ایسی نسل ہونی چائیے جو اپنےجذبات کی یہ سوچ کر قربانی دے کہ اس سے میری اگلی نسل میں  جذباتی فیصلے، جذباتی غبار اور بھڑاس  نکالنے کی بجائے ٹھہراؤ اور ٹھنڈے دماغ سے چلنے کی عادی ہوگی اور اس سے بہت سے فوائد ہوں گے جو کہ نہ صرف ان کی اپنی ذاتی زندگیوں کو پرسکون بنائیں گے بلکہ ان کو معاشرے میں ایک پراعتماد شہری، کارآمد انسان اور مددگار ساتھی کے طور پر ابھارنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اب اس عنصر کی طرف چلتے ہیں جس کی اہمیت کا احساس ہم میں سے بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے بچوں سے ایک خاص فاصلے پر رہ کر ان کی تربیت کرنے اور ان پر اپنا رعب رکھ کر ان کو صحیح راستے پر رکھنے کے عقیدے  کے قائل ہوتے ہیں۔ ہم اس خوش فہمی کا شکار  ہوتے ہیں کہ اس طرح ہمارے بچے ہم سے ڈر کر ہمارے سوچنے کے انداز کو اپنائے رکھیں گے اور کل کو ہماری سوچ کے عین مطابق نتائج دیں گے۔ ہماری یہی سوچ ہمیں بہت بڑے دھوکے میں رکھ رہی ہوتی ہے اور ہم اپنے بچے کی شخصیت کو دن بدن کمزور کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارا دھیان اس بات کی طرف ذرا سا بھی نہیں جارہا ہوتا کہ ہمارے بچے کو ہم سے پیار، اعتماد دینے والے الفاظ اور دماغی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے محبت بھرے لمس کی کتنی ضرورت ہے۔

اگر ہم اس   احساس کو سمجھ کر اپنے بچوں کو ایک پراعتماد انسان اور ایک تخلیقی شخصیت کے طور پر ابھارنے کی طرف اپنی کوششوں کو مبذول کرنے لگ جائیں تو وہ دن ہمارے بچوں کی شخصیات کو بہتری کی طرف لے جانے  و ا لا  پہلا مثبت قدم ثابت ہو گا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں لگے گا کہ ہمیں اپنے غصے پر قابو پانے سے اپنے بچوں میں انتہائی اچھی پیش رفت نظر آنے لگ گئی ہے۔ یہ وہ احساس ہے جس کی تلاش میں لوگ کہاں سے کہا ں بھٹکتے رہتے ہیں اور انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ تو ان کے اپنے اندر موجود تھا اور صرف اپنی ذات کے غبار اور انا کے جھوٹے غلاف کو ہٹا کر  سائیڈ پر رکھ دینے سے ان کے بچوں نے کتنی رفتار سے سیکھنا شروع کر دیا ہے۔

 ہم والدین ہونے کے ناطے اپنے بچوں کے ساتھ پیار کے مختلف انداز اپناتے ہیں جو کہ اپنے لیول پر اپنی اپنی افادیت اور نقصانات رکھتے   ہیں۔

ہم میں سے کئی والدین اپنے بچوں کو ہر وقت ان کی غلط باتوں کے طعنے دے دے کر ان کی مثبت اقدامات اٹھانے کی ہمت کو روک دیتے ہیں اور ان کو اس قابل ہی نہیں ہونے دیتے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی ذات کو منوا سکیں۔

ہم اپنے بچوں کو کبھی کبھار زبان سے اچھے اور شاباش دینے والے الفاظ استعمال کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا کردار بخوبی ادا کر دیا ہے لیکن ہم نے اس سے کہیں زیادہ مرتبہ بچوں کو اتنا ڈانٹا   ہوتا ہے کہ ہمارے منہ سے نکلنے والے اچھے الفاظ بچوں کی شخصیات پر کوئی بڑا مثبت اثر نہیں ڈال پاتے۔

تیسری سٹیج پر ہم میں سے کئی والدین ایسے ہوتے ہیں جو کہ اپنے بچوں کے بارے میں یہ سوچ رکھتے  ہیں کہ ان کو نہ ہی تو زیادہ ڈانٹنا ہے اور نہ ہی ان کو زیادہ سر پر چڑھانا ہے۔ اس میں دونوں طرح کے رویے کی شرح پچاس فیصد یا اس کے ارد گرد تک کی ہی رہتی ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں اس چوتھی طرح کے والدین کے رویے سے  یوں لگتا ہے کہ یہ والدین یا تو اچھی تعلیم کی وجہ سے یا اپنے والدین سے متاثر ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی پیار کے رویے کو لے کر چل رہے ہوتے ہیں۔ اس میں پروان چڑھنے والے بچے کی شخصیت انتہائی مثبت تنائج دے رہی ہوتی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو پیار کرنے کے لیے اپنے ساتھ لگاتے ہیں، والدین کا دیا ہوا لمس،ان کا بچوں کو چومنا، ان کو گلے لگا کر پیار کرنا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں کو سننا اور ان   کی  با توں پر ایسی حیرت کا اظہار کرنا کہ جیسے اس سے پہلے وہ اس بات سے واقف نہ تھے یہ بچوں کے اعتماد کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا  کر تا ہے۔

اب یہ بات تو ثابت شدہ ہے کہ بچوں کو دیا جانے والا پیار دراصل والدین کا اپنی ذات پر جبر اور بچوں کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے کا ثمر ہوتا ہے۔ اگر والدین یہ اپنی ذات تک برداشت کر لیں تو ان کا یہ مثبت رویہ ان کی آئندہ نسلوں میں بڑی آسانی سے منتقل ہوتا چلا جائے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایسی راہ پر گامزن کرنے کی سعی کرنی چاہیے جو کہ کل کو اس معاشرے کے لیے کسی فائدہ کا موجب بنے نہ کہ ہمارے بچے اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مشکلات اکھٹی کرتے دکھائی دے رہے ہوں۔

By Dr. Sarfraz Ahmed

The author is a PhD Scholar, principal at The Educators (A project of Beaconhouse), Teacher Trainer, Mentor & Academics Expert.

2 thoughts on “والدین کا پیار اور بچے کی پراعتماد شخصیت”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *