Fri. Jun 14th, 2024
Muhammad Yusuf Co-founder & Head Marketing

میں  بحثیت ٹیچر سیکنڈری جماعتوں کو ریاضی پڑھاتا تھا۔ اور ہر سال  نئے طلباء کا سامنا کرنا پڑتا تھا میں نے یہ سن رکھا تھا کہ دیرپا تاثر پہلے تعارف کے پہلے 15یا 30 سیکنڈ میں بنتا ہے جس کو میں نےاپنے لئے دو سے تین کلاسوں میں  تبدیل کرلیا تھا میں کوشش کرتاتھا کہ ابتدائی ماحول سیدھا سادا  رکھوں، اور گیمزاور آسانی دینا اور لینا بعد کی کلاسوں  کے لئے رکھتا تھا۔ جلدہی میں یہ تاثر  کامیابی سے قائم کر لیتا  کہ کلاس کا انچارج کون ہے اور یہ کہ بچے بھی یہ بات سمجھ جاتے تھے۔اس عمل کے دوران اہم بات یہ تھی کہ میں اپنے آپ کو بچوں  کے ذہنوں میں ایک منظم، پر اعتماد، مضبوط اور ریاضی کے ماہر کے طور پر پیش کر سکوں اور ساتھ ساتھ میری کوشش یہ  بھی ہوتی تھی کہ بچے میری کلاس میں خود کو محفوظ اور آرام دہ محسوس کر سکے۔ میں اس مضمون میں چند ایسی حکمت عملیوں کا ذکر کروں گا جو تعلیمی سال کے آغاز میں مثبت تعلیمی ماحول قائم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں

طالباء میں غیر یقینی صورت حال کو کم کریں۔

تعلیمی سال کے آغاز میں طلباء  غیرواضح ہوتے ہیں کہ آپ ان سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ وہ پچھلی جماعتوں میں دوسرے اساتذہ کے ساتھ اپنے تجربات کی بنیاد پر کچھ اندازہ تو لگاسکتے ہیں جو آپ سے  مختلف ہو سکتےہیں۔ اس لئے میں یہ تجویز کروں گا کہ اسکول کے پہلے چند دنوں میں طلباء کے کام اور رویے کے لیے اپنی توقعات کا تعین کریں ۔ اسکول کے پہلے چند دنوں میں کورس کے مواد پر توجہ کے ساتھ ساتھ کلاس کے اصولوں، طریقہ کار اور تقاضوں کو واضع اور ٹھوس طریقے سےبیان کریں تاکہ طلباء کو واضع طور پر معلوم ہو سکیں کہ آپ کی کلاس سے کیا توقع رکھنا ہے۔

 کلاس روم کے قواعد میں  طلباء کی رائے کو شامل کریں۔

طلباء کو کلاس روم کے قواعد تیار کرنے میں شامل کرنے سے  اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ قواعد کو سمجھیں گے اور ان کی تعمیل کریں گے۔  گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے   میرے طلباء  اکثر  انہی اصولوں کے ساتھ آتے تھے جو میں نے خود ان کو حکم دینے کے لئےانتخاب کیا ہوتاتھا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں، تو ان کی وہاں رہنمائی کرنا نسبتاً  آپ کے لیے آسان  ہوگا۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ طلباء آپ کے ساتھ کامیابی کا تجربہ کریں

میں اپنے ساتھ طلباء کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے ، اسکول کے پہلے ہفتہ میں ریاضی کی ایسی سرگرمیوں کا انتخاب کرتاتھا جن کو طلباء آسانی سے سمجھ سکیں اور اس کا تعلق اپنی عام زندگی سے جوڑ سکیں۔ اسطرح اسائنمنٹس کو اس طرح ڈیزائن کرتا تھا کہ طلبہ اُنھیں کرنے میں کامیاب ہوجائے۔ تاکہ اُنھیں یہ احساس ہو سکیں کہ میرے ساتھ اُن کے سیکھنے کا سفر آسان ہوگا۔ اس سے طلباء کو مثبت رویہ پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے اور انہیں بعد میں مزید مشکل کاموں سے نمٹنے کے لیے اعتماد فراہم ہوتا ہے۔

دستیاب اور نمایاں رہیں۔

کلاس ورک یا گروپ  ورک کے دوران، اپنی میز پر جانے اور کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے بجائے خود کو دستیاب اور نمایاں رکھیں۔ تاکہ جب بچوں کو معلومات کی ضرورت ہو وہ آپ سے رابطہ کر سکیں۔ کمرے میں گھوم پھریں، طلباء کی پیشرفت پر نظر رکھیں، اور ضرورت پڑنے پر رہنمائی کریں۔

اپنی کلاس کے انچارج رہیں۔

اگر چہ پہلے ہفتہ میں اپنی کلاس کے قوانین اور توقعات کو واضح طور پر بیان کر دیا  کرتاتھا لیکن  وقت گزرنے کے ساتھ کچھ طلباء بھول  جاتے تھے  اور دوسرے  مجھےیہ دیکھنے کے لیے جانچتے تھے  کہ آیا  میں ان قواعد کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایسا آپ کے ساتھ عموماً اسکول کے پہلے کئی ہفتوں میں ہوگا۔ آپ کی  کلاس روم میں کیا قابل قبول ہے اور کیا ناقابل قبول ہے کے درمیان حدود کو مستقل طور پر قائم کرنا جاری رکھیں اور تمام کلاس کو یہ احساس  رہنا چاہیے کہ آپ اس کلاس  کے انچارج ہیں۔

مستقل مزاج رہیں

 طلباء کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ سے کیا امید رکھنا ہے۔ اگر آپ اپنی توقعات اور قوانین کے نفاذ میں مستقل مزاجی سے مطابقت رکھتے ہیں، تو  بچے آپ کی کلاس میں زیادہ محفوظ اور زیادہ آرام دہ محسوس کریں گے۔

اپنے طلباء کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں۔

احترام باہمی  ہوتاہے۔ میں  نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں دیکھا ہے کہ  اگر طلباء کو یقین ہے کہ آپ انہیں پسند کرتے ہیں اور اُن کا احترام کرتے ہیں تو ان کے آپ کے ساتھ احترام کے ساتھ برتاؤ کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ طلباء کو کلاس روم کے اصولوں میں رائے دینے کی اجازت دینا آپ کے احترام کا اظہار کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اِسی طرح کچھ دوسرے فیصلہ سازی کے عمل میں آپ اُنھیں شامل کر سکتے ہیں۔

میں اپنے مضمون کے اختتام پر یہ زور دینا چاہوں گا کہ تعلیمی سال کے پہلے چند دنوں اور ہفتوں کا محتاط استعمال کلاس روم کی پیچیدگی کو سنبھالنے کاایک بنیادی نقطہ ہے۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے، آپ کو تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے موثئرمنصوبہ بندی میں مشغول ہونا پڑے گا۔اس بات کا تعین کریں کہ آپ پہلے دن اور اس کے بعد کلاس روم کا انتظام کیسے کریں گے۔یعنی اسکول کے آغاز میں، آپ (1) کلاس کو اپنے اصولوں اور طریقہ کار سے آگاہ کرنا چاہیں گے اور ان پر عمل کرنے میں طلباء کا تعاون حاصل کرنا چاہیں گے، اور (2) طلباء کو سیکھنے کی تمام سرگرمیوں میں مؤثر طریقے سے مشغول کرنے کے لیے ترغیب دیں۔ ان توقعات، اصولوں اور معمولات کو قائم کرنے کے لیے اسکول کے پہلے ہفتے میں وقت نکالنا آپ کی کلاس کو آسانی سے چلانے میں مدد کرے گا اور کلاس روم کے مثبت ماحول کو تیار کرنے کے لیے ایک اہم سنگِ میل گا۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

21 thoughts on “نئے تعلیمی سال کے پہلے ہفتہ  کی سرگرمیاں”
  1. No doubt that u have shared ur valuable experience regarding teaching of Maths in an effective way..

  2. It shows active involvement and participation towards students.After1 week our new session year will start .Insha ALLAH And these all stratigies definatly helps me alot to persue my academic goal
    Thank you SIr for sharing.

  3. Sir you articulate it in good a manner but I humbly request to suggest some strategies to imply these rule. Nice effort

  4. I do appreciate,these types articles should be published.Teacher is Nation Builder .If he himself is not clear that what is his Role for the Building of Nation.,then Nation will be mentally sick and abnormal as in these is.You are Role Model for the Teachers.

    1. Thank you for your appreciation Behrani sb., Sure sir, I will continue writing. Try to be model for other teachers and students.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *