Tue. Jun 25th, 2024
Uzman Rehman

 آٹزم جسے آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر  بھی کہا جاتا ہے دماغ کی نشونما کا ایک ڈس آرڈر  ہے          

ایسی پیچیدہ کیفیت کا نام ہے جس میں باہمی رابطوں اور رویوں سے متعلق مسائل شامل ہیں۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق آٹزم ایک پیچیدہ بیماری ہے جو عام طور پر بچپن میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ ایک انسان کی معاشرتی زندگی، تعلقات اور اظہار خیال کی اہلیت کو متاثر کرکے اس پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔

آٹزم  سے متاثرہ شخص میں ایسے رویے پائے جاتے ہیں جو معاشرتی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہوتے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے سے پورا جسم متاثر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے شکار  بچوں کو اضطراب، ڈپریشن اور نیند کی کمی کی شکایت بھی ہو سکتی  ہے ۔

آٹزم کی علامات کیا ہیں؟

نفسیاتی ماہرین کے مطابق آٹزم کی علامات میں سینکڑوں قسم کے رویے شامل ہیں، تاہم یہ رویے مائلڈ اور شدید دو طرح کے ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے نیشنل آٹزم ایسوسی ایشن کے مطابق آٹزم کے شکار بچے سماجی لحاظ سے نارمل بچوں سے مختلف ہوتے ہیں۔

اس بیماری میں مبتلا کچھ بچے ایک یا دو سال کی عمر سے پہلے معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن بعد کے سالوں میں ان کے رویوں میں اچانک تبدیلی رونما ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں۔

•سماجی تعلقات سے کترانا

•طبیعت میں جارحانہ پن۔

•نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔

•ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔

•بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔

•توجہ دینے میں دشواری ۔

•تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔

•بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔

•الفاظ اور جملوں کو دہرانا۔

•ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔

•اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری۔

•آنکھوں کے کونوں سے دیکھنا ۔

•کانوں کو اپنے ہاتھوں سے بند کرنا ۔

•اپنے ہاتھوں کو بار بار لہرانا یا چہرے پر مارنا شامل ہیں۔

•محدودمشاغل یا بعض موضوعات میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی۔

•گانا گانے کے انداز میں یا سپاٹ اور مشینی آواز میں بات کرنا۔

•ایک ہی عمل بار بار کرنا، جیسے الفاظ یا جملے دہراتے رہنا، آگے پیچھے ہلنا۔

•کچھ آلات یا اشیا مثلاً بجلی کے سوئچ، پنکھے اور گھومنے والے پرزے یا کھلوں کے ساتھ غیر معمولی لگاؤ۔

•گرمی اور سردی کے احساس سے عاری ہونا۔

•آٹزم سے متا ثر بچے بعض غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل بھی ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ان کی یادداشت بہت اچھی ہو سکتی ہے، وہ حساب یا ریاضی میں مہارت رکھ سکتے ہیں یا گانے بجانے اور موسیقی کے آلات استعمال کرنے میں اپنے ہم عمر بچوں سے بہت زیادہ بہتر صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتے ہیں ۔

آٹزم معاشرتی زندگی، تعلقات اور اظہار خیال کی اہلیت کو متاثر کرکے اس پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے ۔اس میں کوئی بھی بچہ ایک جیسا رویہ اختیار نہیں کرتا مختلف  بچوں میں مختلف رو یے ظاہر ہوتے ہیں یا  مختلف چیلنجز ہوتے ہیں۔اور یہ ایک لائف لانگ کنڈیشن ہے ۔

آپ کو کیسے معلوم ہو کہ آپ کا بچہ یا آپ کی کلاس میں بچہ  آٹسٹک ہے؟

آٹسٹک بچے بظاہر تو نارمل نظر آتے ہیں ۔اور ان کی بیماری کو پکڑنا اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ جب تک کہ یہ سوشل نہ ہونا شروع ہو جائیں جیسے بولنا  یا آ ئ کونٹیکٹ وغیرہ ۔ استاد یا والدین ان میں سے کوئی بھی یا اسکے علاوہ اپنے بچے میں کوئی  غیر معمولی تبدیلی محسوس  کریں تو فوری نفسیاتی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اساتذہ  کو چاہیے بچے کے والدین سے بات چیت کر کے انکو کونسل کیا جاۓ کیوں کہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ میں نے ایک بچے کی والدہ سے جب بات کی تو انہو ں نے اپنی بچی کو اسے کسی سایہ یا اثر سے منسوب کر رکھا تھا ۔ کہ اس پر جنات کا اثر ہو گیا ہے ۔

ماہرین سے کب رجوع کیا جائے؟

ہر بچّے کی نشوونما کے اپنے مراحل ہیں، جو اکثر مروّجہ وقت سے کم یا زیادہ عرصے میں طے پاتے ہیں۔ عمومی طور پر آٹسٹک بچّے دو سال کے عرصے میں ذہنی نشوونما کی تاخیر کا شکار نظر آتے ہیں، جیسا کہ باہمی رابطے میں کمی اور بول نہ پانا۔ اگر بچّہ چھے ماہ کی عُمر تک خوشی کا اظہار نہ کرسکے، اپنے قریبی افراد کو دیکھ کر ان کی جانب جوش سے نہ لپکے۔نو ماہ کی عُمر تک آوازوں کو دہرانے کی کوشش نہ کرے ،چہرے سےتاثرات ظاہر نہ کرپائے۔ بارہ ماہ کی عُمر تک چھوٹے چھوٹے الفاظ بولنے کی کوشش میں مختلف آوازیں نہ نکال پائے۔ چودہ ماہ کی عمر تک سلام، ٹاٹا، بائے بائے نہ کر ے، کسی جانب اشارہ کرکے دوسروں کی توجّہ مبذول نہ کرواسکے۔ سولہ ماہ تک ایک لفظ بھی نہ بول پائے۔ ڈیڑھ سال کی عُمر میں مختلف اشیاء کو کھلونا بنا کر نہ کھیلے۔ دو سال کی عُمر تک چھوٹے چھوٹے دو الفاظ پر مشتمل جملے نہ بولے، تو یہ تمام تر علامات تشویش کا باعث ہیں، بہتر ہوگا کہ فوری طور پر ماہرینِ آٹزم سے رابطہ کرلیا جائے۔ اس کے علاوہ اگر بچّہ عُمر کے کسی بھی حصّے میں بات چیت اور دیگر صلاحیتیں کھو بیٹھے، تو بھی ماہرین سے رابطہ ازحد ضروری ہے۔ زیادہ تر بچّوں میں چار سال کی عُمر میں آٹزم تشخیص ہوتا ہے، حالاں کہ ابتدائی دو سال کی عُمر میں بھی تشخیص کیا جا سکتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اکثر والدین آٹزم کی علامات کو بچپنا یا شرارتیں سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن جب بچّے کی باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوتا ہے، تو پھر کئی طرح مسائل سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔

 لہذا  تشخیص میں دیکھا جاۓ  ، تو اس ضمن میں مستند سوال نامے، چیک لسٹس، بچّے کی آبزرویشن اور والدین کے انٹرویوز معاون ثابت ہوتے ہیں، جو تربیت یافتہ ماہرین ہی کی نگرانی میں انجام پاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *