Fri. Jun 14th, 2024

ہمارے تعلیمی نظام میں زیادہ تر وقت اساتذہ اور طالب علم اس بات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں کہ ہم کیا سیکھ رہے ہیں بجائے اِس کہ ہم اُسے کس طرح سیکھ رہے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ عادت پختہ ہوتی جاتی ہے اور ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم خود سے کوئی چیز سیکھ سکتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی ہمارے تقریبا سارے بچے اور بڑے سیکھنے  کے مختلف ذرائع ہونے کے باوجود کسی بھی چیز کو سیکھنے کے لیے کسی سکھانے والے کا انتظار کرتے ہیں جبکہ سیکھنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ہم ساری زندگی مصروف رہتے ہیں  ۔ لیکن  آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر کسی کو دوسروں سے مچھلی لے کر کھانے کی عادت ہوجائے تو خود سے مچھلی پکڑنے کا شوق ختم ہوجائے گا اور وہ ہمیثہ دستِ نگر ہی رہےگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ طالب علموں کومچھلی  (نفسِ مضمون بتانے)  دینے کے بجائے مچھلی  (کیسے سیکھا جاتاہے)پکڑنا  سیکھایا جائے تاکہ اُن میں خود ہی نئی صورتحال کی ضرورت کے مطابق  نئے علوم اور مہارت سیکھنے کی صلاحیت اور عادت پختہ ہوسکیں ۔

پاکستان کے تعلیمی نظام  میں ہم دو زبانوں یعنی اردو اور انگلش میں بچوں کو پڑھنا سکھاتے ہیں جس میں الفاظ کا درست تلفظ سیکھانے میں اساتذہ کا بہت وقت  اور محنت صرف ہوتا ہے اور دوسری جانب ہم طالب علموں کو وقت کی کمی اور بچوں کی تعداد کی وجہ   سے سارے الفاظ یا جملے پڑھا بھی نہیں سکتے لیکن طالب علموں کو اس کی تربیت دے کر کہ وہ کس طرح گوگل پر نئے الفاظ لکھ کر، مائیک کے بٹن کو دبا کر اس لفظ کا درست تلفظ سن کر، اُ س کی مشق کرکے سیکھ سکتے ہیں۔ یعنی خود مچھلی پکڑ سکتے ہیں۔

 اس طرح زبان کی کلاس میں اساتذہ ماڈل ریڈنگ کرتے ہیں تاکہ بچے  متن کا درست تلفظ اور لہجہ سے روشناش ہوسکیں  اساتذہ کو کاپی کرکے اُ س کو درست  انداز سے پڑھ سکیں۔ لیکن بچوں کے پاس ایک ہی موقع ہوتا ہے کہ وہ تلفظ اور لہجہ کو پکڑ سکیں ۔لیکن بحثیت   اُستاد  غور کیجیئے کہ کیا آپ ایک ایک کرکے انگریزی زبان  میں استعمال ہونے والے تمام ممکنہ جملوں کے تلفظ، لہجہ اور معنی بچوں کو سکھا یا پڑھا سکتے ہیں اور اس  کام  کو خوش اسلوبی سے کرنے میں کتنا      وقت لگ جائے گا۔ اس کا سیدھا سا مطلب  ہے کہ آپ کو  بہت سالوں تک اپنے طالب علموں کو مچھلی دینی پڑے گی اور طالب علموں کو ہر روز  اُس مچھلی کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ لیکن اگر آپ نے  طالب علموں کو صرف یہ سکھا دیا کہ کون کون سے فری آن لائن ایپلیکیشن ہیں جو کہ  ریڈنگ کی سہولت فراہم کرتیں ہیں تو طالب علموں کی سیکھنے کی رفتار تیز ہو جائے گی اور وہ اس کو بار بار  صرف بٹن کو دبا کر دوہرا سکتے ہیں کسی نئے لفظ یا جملے کو سیکھنے کے لیے اُنہیں آپ کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا  بلکہ جب بھوک لگے گی (نیا لفظ سامنے آئے گا) یعنی مچھلی کی ضرورت ہو گی تو مچھلی پکڑے گا اور کھا لے (سیکھ جائے)گا ۔

اس طرح دوسرے مضامین کے لیے بھی بہت سارے آن لائن وسائل موجود ہیں ہیں جیسے کہ پاکستان میں بہت سارے بچے انگلش میڈیم میں سائنس کے مضامین پڑھتے ہیں لیکن ان کی انگریزی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت  محدود ہوتی ہے جس کی وجہ سے اُنھیں متن کو  سمجھنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اگر اُن کو یہ سکھایا جائے کہ کس طرح وہ آن لائن وسائل کو استعمال کرتے ہوئےمتن کو اپنی مادری زبان میں ترجمہ کر کے پڑھے ہوئے  اُن تصورات کی فہرست تیار کرنا، جن کو اُنہیں سمجھنے کی ضرورت  ہے اور پھر باری باری ان کو یوٹیوب اور اس جیسے دوسرے  پلیٹ فارم میں  تلاش  کرکے انہیں سیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی تصور پر اچھی خاصی تعداد میں ویڈیو اسباق موجود ہوتے ہیں اور اس میں  ماہر اساتذہ مختلف انداز اور وسائل استعمال کرتے ہوئے  اُس تصور کی وضاحت کر رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی نظام جدید دور میں موجود وسائل سے استفادہ حاصل کرے اور اساتذہ کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرنے کی گنجا ئش پیدا کرے جہاں طالب علموں کو اساتذہ  مچھلی دینے  کے بجائے مچھلی پکڑنے (اُن تصورات کو کہاں کہاں اور کس طرح سیکھا جا سکتاہے) کی عادت  ڈالیں۔ اسطرح ہم زندگی بھر سیکھنے والے افراد تیار کرسکیں گے جو آنے والے  وقت میں نہ معلوم  چیلنجز کا  مقابلہ کر سکیں گے۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

2 thoughts on “مجھے مچھلی نہ دو بلکہ مچھلی پکڑنا سیکھاؤ”
  1. The best approach to teach Children and even families to become independent & contribute as a functional adult.
    Thank you

    1. Sure. To become independent and contribute as a functional adult, should be aim of each education system, parent and community.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *