Tue. Jun 25th, 2024

یہ بڑی مشہور کہاوت  ہے کہ بادام کھانے سے عقل آتی ہے۔ ایک بڑی آبادی اس پر یقین رکھتی ہے اور بادام کھانے کو عقل مندی سے جوڑتی ہے۔ اس لیے آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ وہ والدین جو موجودہ دور کی مہنگائی میں بادام خریدنے کی استعداد رکھتے ہیں اپنے بچوں کو زور وشور سے بادام کھلاتے ہیں تاکہ ان کا دماغ(عقل) تیز ہو اور اسکول میں ان کی کارکردگی نمایاں ہوسکیں۔ کیا یہ واقعی سچ ہے کہ”بادام کھانے سے عقل آتی ہے۔”لیکن ہم اگر سائنسی طور پر جائزہ لیں تو بادام کھانے سے دوسرے فوائد کے ساتھ بادام میں موجود وٹامن ای اور فیٹی ایسڈ دماغ پر عمر کے اثرات کو جھاڑنے میں مددگارہوتاہے۔ بادام کھانے کا علم وحکمت سے دُور دُور تک  کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کہاوت کی تبدیل شدہ شکل “عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ ٹھوکر کھانے سے آتی ہے”حقیقت کے قریب ترین لگتی ہے۔ آیئے کہاوت  کی اس تبدیل شدہ شکل کو دیکھتے ہیں کہ اس کا اطلاق بچوں کی تعلیم میں کسطرح ہوسکتاہے۔

میں نے اس کہاوت “عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ ٹھوکر کھانے سے آتی ہے” کا عملی مظاہرہ اپنے 25 سالہ پیشہ وارانہ زندگی میں ریاضی پڑھنے اور پڑھانےکے دوران دیکھاہے کہ جب بھی میں نے کوئی مسئلہ ایسا حل کیا جس کا طریقہ کار میں پہلے سے جانتاتھا تو میرے علم و حکمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی لیکن اس کے برعکس جب ریاضی کے کسی سوال کو حل کرتے ہوئے غلطی کرتا یا  کسی مقام پر پہنچ کر اٹک جاتا تو وہاں سے میرے دماغ میں ایک تحریک پیدا ہوتی اور میرا دماغ  ممکنات پر کام کرنا شروع کر دیتا اور وہ تمام علم و حکمت کو  برؤے کار لاتے ہوئے اس حل کی طرف لے آتا تھا۔ اس لئے اساتذہ جب بچوں کے لئے سرگرمیاں ترتیب د یں یا  طالب علموں کو ایسے مسائل دیئے جائیں  کہ وہ ان مسائل کو حل کرتے وقت جدوجہد یا غلطیاں کریں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ سوچنا پڑے تاکہ ان کے دماغ/عقل کی نشوونما ہو۔

ہم سب جانتے ہیں کہ تھامس ایڈسن نے تقریباً سوسال پہلے بلب ایجاد کیا تھا۔ کیا وہ بہت ذہین تھا کہ یہ ایجاد اس نے پہلی کوشش میں کرلی تھی۔ نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہدکا نتیجہ تھا جس کے لئے وہ تقریباً 2000مرتبہ باکام ہوا لیکن اس نے کوشش جاری رکھی۔ جب ایک صحافی نے اُس سے سوال کیا کہ آپ کو ہزار بار ناکام ہونے پر کیسا محسوس ہوا۔ اُنہوں ایک دلچسپ اور یادگار ہنے  والا جواب دیا کہ وہ ناکام نہیں ہورہے تھے بلکہ کامیابی کی جانب قدم اٹھارہے تھے۔ اوراِسطرح اُنھوں نے ایک حیرت انگیز چیز بنالی۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ کامیابی کے لئے 1٪ ذہانت اور باقی 99٪ پسینہ بہانا(یعنی ٹھوکرکھانا) پڑتا ہے۔ اس لئے تعلیمی عمل کے دوران  طالب علموں کو غلطیوں کا موقع دینا چاہیے۔ اُنھیں یہ سیکھانا چاہیے کہ یہ غلطیاں ناکامی کی علامت نہیں بلکہ سیکھنے کی جانب ایک اور قدم ہے کیونکہ عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ ٹھوکر کھانے سے آتی ہے۔

اسطرح اساتذہ کی بڑی تعداد یہ سمجھتی  ہے کہ جب تک ہم نہیں بتائیں گے طالب علم نہیں سیکھ سکیں گے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ 45 منٹ کے ایک سبق میں 30 سے 35 منٹ صرف اساتذہ عنوان سے متعلق بول رہے ہوتے ہیں یا کچھ اچھے اور جدید اساتذہ بولنے کے ساتھ ساتھ اپنے سبق میں کچھ ویڈیو یا تصاویر کی مد دسے عنوان کی وضاحت کرہے ہوتے ہیں یعنی وہ طالب علموں کو بادام کھلارہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ بادام کھانے سے ہی عقل آئے گی جبکہ تقریباً تمام ہی تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہے کہ سیکھنے کے عمل میں فعال شمولیت انتہائی ضروری ہے یعنی کلاس میں بچوں کو ایسی سرگرمیوں میں شامل کیاجائے کہ جہاں وہ خود اپنے تعلیمی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے عنوان سے متعلق سوالات کو ترتیب دے کر ان کے جوابات تلاش کریں اسطرح وہ غیر یقینی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوسکیں گے۔

اسطرح مختلف اسکولوں کے دورے کے دوران میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد سوال نہیں پوچھتی ہے کیونکہ وہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ سوال پوچھنے یا سوچنے اور تلاش کرنے کے بجائے بادام کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں یعنی انتظار کرتے ہیں کہ کوئی مسیحا آئے اور اُن کو اُن کے مسائل کا حل بتائے اور وہ اُس کی پیروی کرتے ہوئےعقل کا نایاب ہیراپاتے ہوئے اپنے مسائل حل کرلیں۔ اور یہ عادت  وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوجاتی ہے۔ طالب علم متحرک شہری بننے کے بجائے ایک غیر متحرک شہری بن جاتے ہیں۔

اسطرح بادام کھاتے کھاتے ہم اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں اور ایک کے بعد دوسرے مسائل میں پھنستے چلے جاتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں طالب علموں کو بادام کھانے کا عادی بنانے کے بجائے ان کو مسلسل کوشش کرنے اور اپنے مسائل کو خود حل کرنے کا عادی بنائے تاکہ وہ اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں غیر یقینی صورت حال کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر سکیں۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

10 thoughts on “عقل بادام کھانے سے نہیں بلکہ ٹھوکر کھانے سے آتی ہے۔”
  1. Excellent article and agreed we should encourage students to ask questions but there are two types of questions 1) constructive and 2) Destructive. So we should encourage constructive questions

  2. Great sharing . Dear Sir you have provided a lesson of learning along with an interesting example and very simple wa. Regards. Siyal Hayat

    1. Thank you Sir Hayat for your comment. I hope these small and simple examples help teachers rethink their teaching strategies and attitude.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *