Fri. Jun 14th, 2024

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب آپ کوئی نئی کتاب پڑھتے ہیں  یا کسی مضمون میں تدریس سے متعلق کوئی نئی بات سیکھتے ہیں اور اُسے کسی دوسرے دوست یا عزیز کو سیکھانے یا اس پر بات چیت  کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں آپ سیکھانے  یا بات چیت کے دوران خود اس تصور کو دوبارہ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس عمل کے دوران آپ اس تصور پر زیادہ باریکی سے غور کرتے ہیں۔ اپنے الفاظ میں وضاحت کررہے ہوتے  ہیں  پوچھے گئے سولات کو اپنے ذاتی تجربات سے جوڑ کر مثالوں سے  وضاحت کر رہے ہوتے  ہیں  اسطرح دراصل آپ اس تصور کو نہ صرف سمجھا  رہے ہوتے ہیں بلکہ خود دوبارہ سیکھ رہے ہوتے  ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ قول “سکھانا دوبارہ سیکھنے کے برابر ہے” تعلیم کے عمل میں ہمارے لئے کسطرح مفید ہوسکتا ہے۔

سب سے پہلے ہمیں بحثیت استاد اس قول کو اپنے آپ پر استعمال کرنا چاہیے۔ ہم اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کئی طرح کی تدریسی حکمتِ عملیاں یا نظریات مختلف ورکشاپ، کتابیں اور مضامین پڑھ کر سیکھتے ہیں اور ان میں سے بہت سی ہمیں متاثر کرتی ہے۔ چونکہ وہ ہمیں پوری طرح سمجھ نہیں آئی ہوتی ہے تو ہم اُن کو اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں استعمال کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے ہیں۔  یہ ہماری یاداش میں “میں جانتی /جانتاہوں” ، “ہاں میں نے پڑھا ہے” کی حد تک رہ جاتی ہے  اور کچھ عرصے کے بعد ہم اُنھیں بھول جاتےہیں۔ اسطرح ہماری پیشہ وارانہ تعلیم کی کوشش اکثر ضائع ہوجاتی ہے۔لیکن اگر ہم ان حکمت عملیوں کے متعلق اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کریں یا اُن کے ساتھ مل کر اُن حکمت عملیوں کو کلاس روم کی سطح پر استعمال کریں اور نتائج پر غور و فکر کرتے ہوئے ان میں مقامی سطح کی تبدیلیاں لائے تو یقیناً ان میں سے بہت سی سرگرمیاں/حکمتِ عملیاں ہماری پیشہ وارانہ زندگی کا حصہ بن جائیں گیں جوکہ ہر تعلیم اساتذہ پروگرام کا مقصد ہوتا ہے۔

اسطرح اگر ہم تعلیم اساتذہ پروگرام میں اس قول “سیکھانا دوبارہ سیکھنے کے برابر ہے” کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ان پروگرام میں ماہر تعلیم کی جانب سے  تصورات کی پیشکش کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں کو بھی  لازماً شامل کرنا چایئے جہاں اساتذہ کو گروپ یا پیئر ورک میں ان تصورات پر بحث کرنے کا موقع دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے الفاظ میں ان تصورات کو   اپنے ساتھیوں کے سامنے وضاحت کرتے ہوئے  دوبارہ سیکھے۔ اِسطرح اگر یہ عمل کئی مرتبہ دُہرایا جائے گا تو  ماہر تعلیم کی جانب سے سیکھایا گیا تصور، شریک اساتذہ کی سمجھ میں آجائے گا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ “جو سمجھ آتا ہے وہی پسند آتا ہے اور جو پسند آتا ہے اُسے ہی استعمال کیاجاتاہے۔”  اسطرح کورس کے دوران حقیقی ماحول سے متعلق اسائمنٹ دیے جائے تو شریک اساتذہ کو صرف ایک یا دو صفحات کی  رُپورٹ   لکھنے کے ساتھ ساتھ اُن کو اپنے سیکھے گئے تجربات کی وضاحت گروپس کی صورت میں اور تمام دوسرے  شریک اساتذہ کے سامنے پیش کرنے کا موقع دیں تاکہ وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو اپنے تجربات سیکھانے کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی دوبارہ سیکھ سکیں گے کیونکہ “سیکھانا دوبارہ سیکھنے کے برابر ہے۔”

اگر آپ سوچ رہے کہ یہ قول “سیکھانا دوبارہ سیکھنے کے برابر ہے۔” کو ہم بچوں کو پڑھاتے ہوئے بھی استعمال کر سکتے ہیں  تو بالکل درست سوچ رہے ہیں۔ ہم  بچوں کو  گروپ ورک اور اپنے کام   کی پیشکش کا موقع دے  کر ،اس قول کو بچوں کی  سطح پر استعمال کر سکتے ہیں۔ جہاں گروپ ورک کے دوران بحث کرکے اساتذہ کی جانب سے سیکھے گئے تصورات کو دوبارہ سیکھ سکیں گیں بلکہ طالب علم کے پاس اُسی تصور کو سمجھنے اور سیکھنے کے لئے ایک سے زیادہ زاویے ہونگے جس  کی مدد سے وہ سیکھ پائیں گے۔

اگر ہم یہ  یقین رکھتے ہیں کہ “سیکھانا دوبارہ سیکھنے کے برابر ہے۔” تو ہمیں اپنے اِرگرد ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں طالب علم اپنے سیکھے گئے علم پر بغیر کسی دباؤ کے بحث و مباحثہ کرسکیں۔ ایک دوسرے سے آزادنہ ماحول میں سوالات کر سکیں۔ اسطرح سیکھنے کا عمل تیز اور پختہ ہوجائے گا اور ساتھ ساتھ تصور کو سمجھنے کے لیے ایک سے  زیادہ زاویے موجود ہونگے۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

3 thoughts on “سیکھانا دوبارہ سیکھنے کے برابر ہے”
  1. ? شاہین کبھی ہار نہیں مانتا ?

    ايک عقاب کی تقریباً 70 سال عمر ہوتی ہے, اس عمر تک پہنچنے کے لئے اسی نہایت تکلیف و مشکلات اور کٹھن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے جب اس کی عمر چالیس سال ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کی پہنجے جس وجہ سے شکار دبوچتا ہے کند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اس مضبوط چونچ ٹیڑی ہو جاتے ہیں, عمر کی گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پر جسی وہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا ہیں وہ اتنی بھاری ھوجاتے ہیں کی اس کی سینے کی ساتھ چپک جاتی ہیں ان سب مشکلات کی ہوتی ہوئی. شاھین کی پاس صرف دو راستے ہوتے ہیں پہلا راستہ کی وہ اپنی موت کو تسلیم کرلے ہمت ہار جائے ہار مان جائے اور مر جائے دوسرا راستہ ایک سو پچاس دن کی محنت یعنی پانچ مہینے کے محنت کے لئے تیار ہو. جائے آپ کا کیا خیال ہے, شاہین کون سا راستہ اختیار کرے گا جی بلکل شاہین ہار نہیں مانتا وہ اپنی آپ کو پانچ مہینے ایک سو پچاس دن محنت کے لئے تیار کرتا ہے وہ پہاڑوں میں چلا جاتا ہے وہ پہاڑوں میں جاکے اپنے چونچ کو پھتروں پی مارتا ہے وہ اپنے چونچ کو پھتروں پی مار مار کے اسی توڑ دیتا ہے جب نئ چونچ نکلتے ہیں تو چونچ کی مدد سے وہ اپنا ایک ایک ناخون اکاڑ کی پھینک دیتا ہے جب نئے ناخن نکلتے ہیں تو ناخن اور چونچ مدد سے اپنا ایک ایک بال اکاڑ کی پھینک دیتا ہے اس طویل عرصے میں اسے پانچ مہینے لگتے ہیں جب پانچ مہینے بعد وہ بہاڑ کی چوٹی پہ کھڑی ہوکے نہی پرواز بھرتا ہے ہواؤں میں اڑتا ہے نئی چونچ نہی بالوں کی ساتھ اور پروں کی ساتھ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے دوسرا جنم لیا ہو نیا جنم لیا ہو اس طرح وہ مزید زندگی کے تیس بہاریں دیکھ پاتا ہیں عقاب کی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ باز اوقات ہمارے لئے زندگی کو بدلنا بہت زیادہ ضروری ہے گرچہ اس کیلئے ہمیں سخت محنت جدوجہد کیوں نہ کرنے پڑے یاد رکھیے گا زندگی کے ماہ سال بدلنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا جب تک آپ اپنے آپ کو نہیں بدلتے دنیا نہیں بدلتے مجھ ناچیز سمیت ہر پاکستانی نوجوان تبدیلی کو باہر کی دنیا میں دیکھا جاتا ہے حالانکہ اصل تبدیلی اندر کی تبدیلی ہے سب سے تبدیلی اندر آتی ہیں پھر باہر کی دنیا میں تبدیلی نظر آئے گی مثبت تبدیلی کے لئے اپنے آپ کو بدلنا ہوگا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے خود کو کیسے بدلا جائے خود کو بدلنے کی فلسفے کا مطلب یہی ہے اپنی کمیوں، کوتاہیوں،کمزوریوں کو جاننا چاہیے تلاش کیا جائے فر ان کو بہتر سے بہتر بنانے کے کوشش کہی جائے خود کو بہتر بنانے کی فلسفے کا مطلب یہی ہے self growing کی جائے اپنی آپ کی اوپر کام کیا جائے self investment اللّٰہ پاک نے جو آپ کو صلاحیتوں سے نوازا ہے جس talent سے نوازا ہے اس کو پاش ضرور کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. Yes it is right. when we discuss or teach some points to someone actually we are making our mind stronger to memorise these points.

    1. Sure, Ghulam Sb, you pick the purpose of this piece of writing. We all should encourage a culture of sharing our skills and knowledge for a better future for ourselves and the nation.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *