Fri. Jun 14th, 2024
Muhammad Yusuf Co-founder & Head Marketing

میں نے ریاضی پڑھاتے ہوئے اپنی کلاس میں کسی نئے تصوریا مہارت کو سیکھاتے ہوئے اکثر دیکھا کہ کچھ طلبہ کو وہ تصور یا مہارت بڑی آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں اوروہ  اُس سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں مشغعول ہو جاتے  ہیں کچھ طلباء اُن تصورات کو نہیں سمجھ پاتے  ہیں  حالانکہ میں اپنی بہترین صلاحیتوں اور حکمت عملیوں کا استعمال کرتاہوں۔ آخر  کیا وجہ ہے کہ ہماری کلاس میں کچھ طلباء تو فوراً سمجھ جاتے ہیں۔ کچھ طلباء کو اُس تصور کو سمجھنے کے لئے ہماری رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے اور کچھ طلباء ہماری رہنمائی کے باوجود بھی نہیں سمجھ پاتے ہیں۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں ویگوسکی کے نظریہ میں پیش کئے گئے تصور زیڈ پی ڈی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔   اس تحریر میں میں زیڈ پی ڈی کیا ہے اور زیڈ پی ڈی کا ہماری کلاس میں کس طرح اطلاق ہوسکتاہے  پر بحث کروں گا۔

ویگوسکی کے مطابق طلباء کسی ٹاسک کو خود سے بغیر کسی مدد کر سکتے ہوں اور کسی ٹاسک کو کسی بڑے یا اپنے سے زیادہ جاننے والے ساتھی کی مدد سے کر سکتے ہوں کے درمیان فرق کو زیڈ پی ڈی کہتے ہیں۔ اگر ہم زیڈ پی ڈی کودرجات کی مدد سے سمجھنا چاہیں تو پہلے درجے میں وہ علم اور مہارت ہوتی ہیں جن کو طلبہ کسی مدد کے بغیر  خود سے کر سکتے ہیں یعنی انہوں نے  یہ علم اورمہارتیں سیکھی ہوئی ہوتی ہیں اگر ہم اس زون کے مطابق ٹاسک دیتے ہیں تو وہ انہیں ان علوم اور مہارتوں کی مشق کرنےکا موقع حاصل ہوتا ہے نہ کہ کوئی نیا علم یا مہارت سیکھنےکا۔  دوسرے درجے میں وہ ٹاسک ہوتےہیں جو وہ کسی بڑے یا ٹیچر کی مدد سے مکمل کر سکتے ہیں یعنی وہ علم اور مہارت ان کے لیے نئے ہوتے ہیں لیکن ان کو سیکھنے کے لئے  وہ بنیادی علم اور مہارت رکھتے ہیں مگر اُن کو مکمل کرنے کے لئے انہیں اپنے سے بڑے ماہر کی مدد یا رہنمائی کی ضرورت ہوتی  ہیں ۔ اگر ہم بچوں کو اس زون کے مطابق ٹاسک دیتے ہیں تو وہ نئے علم اور مہارت کو سیکھ پاتے ہیں اس طرح  تیسرے درجہ میں  جس میں وہ ٹاسک  یا علم ومہارت ہوتے ہیں جنہیں ہم نہیں  سیکھ یا سمجھ  پاتے ہیں  کیونکہ انھیں  سیکھنے کے لئے ہم بنیادی علم اورمہارت  نہیں رکھتے ہیں ۔ اس لیے اگر آپ طلباءکو اس  طرح کی صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے دیکھے تو آپ کو  چاہیے کہ ٹاسک میں ترمیم  کریں تاکہ  وہ بچوں کے زیڈ پی ڈی لیول کے ساتھ میچ کر جائیں اور درجہ بدرجہ آگے بڑھتے ہوئے وہ اس تصور کو سیکھ جائے گے۔

فرض کریں کہ آپ بطور ٹیچر انگریزی زبان پڑھاتے ہیں آپ  نئے الفاظ کوبورڈ پر لکھ کر بلند آواز میں خود پڑھیں پھر طلبہ کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ باری باری  ان الفاظ کی بلند خوانی کریں اس کے بعد آپ بچوں کو گروپ میں تقسیم کر کے انہیں ایک ساتھ پڑھنے کی مشق کروا سکتے ہیں۔ اس کے بعد بچوں کو آزادانہ پڑھنے کے لئے ہوم ورک دے سکتے ہیں۔

 اسی طرح اگر آپ ابتدائی جماعت کو پڑھاتے وقت حروفِ تہجی لکھنے کا طریقہ سیکھنے والے بچوں کو   ٹریس کرنے والی ورک شیٹ فراہم کر سکتے ہیں اور پھر  آپ حروف کو لکھنے کے لیے اٹھائے جانے والے مرحلوں  کونمونہ کے طور پر بورڈ پرلکھ کردکھا سکتے ہیں اگر کچھ طلباء پھنس جاتے ہیں یا پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں  یا انہیں لکھنے میں دقت ہوتی ہے تو آپ اُنہیں  اپنے ساتھ  بورڈ پر مشق کروا سکتے ہیں جب  تک کہ وہ خود سے لکھنے کی مہارت حاصل کر لیں۔

 اسی طرح اگر ریاضی کا ایک ٹیچر، بچوں کو عددی کسر کا تصور سیکھنے میں پریشانی کا سامنا کرتے ہوئے دیکھ رہا  ہے توضروری ہے  اس سے پہلے کی  ضروری  مہارتوں  کا جائزہ لیں کہ وہ کون سی بنیادی مہارتیں  جن کا سیکھنا اُن طلباء کے لئے عددی کسر  کے تصور کو سمجھنے کے ضروری ہے ۔ ان میں جوبھی کم ہیں اُنہیں سکھائیں ۔اس  کے لیےساتھ ساتھ آپ ماڈل یا تصویریں چارٹ کا بھی استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

اگر آپ  سماجی علوم، سائنس اور دیگر مضامین پڑھاتے ہیں آپ بہتر جانتے ہیں کہ آپ کے طلباءکو بہت زیادہ پڑھنے کی ضرورت پڑتی  ہیں، پڑھنا  اُنہیں ان تصورات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے جوآپ اُنہیں سیکھانے کی  کی کوشش کر رہے ہیں۔ متن کے بارے میں تنقیدی طور پر سوچیں جو آپ اُنہیں تصور کوسمجھنے  کے لئے طلباء کو فراہم کرتے  ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر متن کسی خاص ڈھانچے پر انحصار کرتا ہے، اور اگر طلباء کا ZPD اشارہ کرتا ہے کہ انہیں اس ڈھانچے کو سمجھنے  میں مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے، تو طلباء کو یہ جاننے کے لیے وقت فراہم کریں کہ وہ متن میں موجود مواد کی ترتیب کو سمجھ سکیں۔ یا، اگر متن مواد سے متعلق مخصوص الفاظ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور آپ کو لگتا ہے  کہ طلباء کا زیڈ پی ڈی لیول اُن   الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتاہے تو  ان الفاظ کوسبق سے  پہلے سیکھانے پر غور کریں ۔اس طرح طالب علموں کو متن کا بہترین معنی سمجھنے مدد ملے گی۔ مثلاً نباتات کی کلاس میں، متن کو پڑھنے کو دینے سے پہلے لفظ “فوٹو سنتھیسس” کی وضاحت کرنا ، تصور کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس طرح ہم کہ سکتے ہیں کہ طلباء کا زیڈ پی ڈی ہمیشہ متحرک رہتاہیں۔ طلباء کو ایسی سرگرمیاں یا ٹاسک دیں  جو وہ خود آسانی سے نہ کر سکتےہو لیکن اس کو کرنے یا سیکھنے کے لئے بنیادی علم و مہارت رکھتے ہوں۔ اور انہیں پورا کرنے کے لئے درکار رہنمائی یا مدد  فراہم کرکے اساتذہ بتدریج سیکھنے کے عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زیڈ پی ڈی میں موثر طریقے سے سیکھنے کے لئے، ہر طالب علم کو نتیجہ خیز جدوجہدیا سیکھنے کا تجربہ کرنا ضروری ہے۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

4 thoughts on “زیڈ پی ڈی کا  کلاس روم کی سطح پر اطلاق”
  1. ماشااللہ بہت اچھی کاوش ھے اساتذہ اور طلبہ دونوں استفادہ کریں گے۔ اللہ زور قلن اور زیادہ کرے آمین

  2. ماشااللہ بہت اچھی کاوش ھے اساتذہ اور طلبہ دونوں استفادہ کریں گے۔ اللہ زور قلن اور زیادہ کرے آمین

  3. A wonderful write up which is indeed a need of era . I appreciate yourvhighly esteemed work. Keep it up dear i hope it will be atrue service to nation.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *