Fri. Jun 14th, 2024

ایک2018 میں پبلش کی گئ ایک بین الاقوامی رپورٹ میں تعلیمی میعار کی بنیاد پر  ممالک کی درجہ بندی کرتے ہو ئے ہمارے پیارے ملک پاکستان کو  137 میں سے 49 ویں نمبر میں رکھا گیاہے ۔ بلعموم بین الاقوامی اور بلخصوص پاکستانی ماہرینِ تعلیم اور محقیقین نے اس انتہائی پست میعار کی کئی وجوہات بیان کر چکے ہیں۔ ان وجوہات میں سے ایک وجہ درسی کُتب کی بنیاد پر پڑھانا شامل ہے۔ اس تحریر میں زیرِ نگاہ نقطہ کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

سب سے پہلے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درسی کُتب نصاب نہیں بلکہ نصاب میں تعین کردہ مقاصد کے حصول میں مددگار بہت سارے مواد میں سے صرف ایک ہے۔ جب نصاب میں حاصلاتِ تعلم کے تناظر سے درسی کُتب کو پرکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف درسی کُتب کی بنیاد پر پڑھا کر کھبی بھی قومی نصاب کے متوقع  حاصلاتِ تعلم کا ہمہ گیر حصول ممکن نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی درسی کتاب اتنی جامع ہو ہی نہیں سکتی کہ جس کے ذریعے  قومی نصاب میں وضع کردہ تمام حاصلات ِتعلم کا حصول ممکن ہو۔

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ہمارے اسکولوں میں تعلیمی سال میں جو کچھ پڑھایا جاتاہے  وہ  سلیبس، اسکیم آف اسٹڈیز یا احداف وغیرہ کے  نام سے موجود ہوتا ہیں۔ نام جو بھی ہو پر مقصد سب کا یکسان ہے یعنی ایک تعلیمی سال کے اندر طالب علموں کو کیا پڑھایا جائیگا۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ درسی کُتب کے عنوانات کو من و عن ہفتوں، مہنوں اور سال میں تقسیم کرکے “سلیبس برائے سالِ 2021” رکھ کر پورا سال اس کے مطابق پڑھانے کو ترجیع دی  جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اساتذہ کرام سلیبس میں طے شدہ وقت کے مطابق پڑھا کر  فخر سے کہتے ہیں کہ “میں سلیبس کے مطابق یا اسے آگے جا رہا/رہی ہوں”  اور خدا نخواستہ اگر طے شدہ وقت کے سے پیچھے ہو تو ندامت سے کہتے ہیں کہ “جناب سلیبس رہتا ہے ابھی”

جنونِ تکمیلِ سلیبس، تعلیم و تربیت کے دوسری ترجیحات یعنی طلب علموں کی جسمانی، ذہنی، جذباتی، اخلاقی ترقی کے مواقع نا پید کر دیتا ہے جس کی وجہ سےطالبِ علموں میں پڑھنے کی صلاحیت اور عادت میں کمی،تخلیقی سوچ کا فقدان، مستقبل میں مشکل وقت سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت سے نا آشنائی جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتیں ہیں۔  نتیجتاًانسانی صورت میں طوطے اسکول سے نکل کر معاشرے پر بوجھ بنتے ہیں۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ اتنے سارےنقصانات کے باوجود بھی درسی کُتب کے بنیاد پر  پڑھانے کو ہمارے ملک میں آخر کار ترجیع کیوں دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے آنے والی تحریر میں تفصیل سے لکھیں گے۔

By Syed Wali Shah

The author is the owner and director of Curiosity School Islamabad Pakistan. Currently, he is pursuing his MS leading to a PhD in Project Management. He is holding a Master Degree in Teacher Education from the Aga Khan University Karachi.

6 thoughts on “درسی کُتب کی بنیاد پر پڑھانے کے نقصانات”
    1. Thank you Junaid Bhai. InshaAllah very soon you will see the next one. I am sure you would love the theme.

  1. Sir it surely depicts the reality behind our educational failure. The authorities must consider it to have transition to our traditional system which was priory framed by those who never want us to be creative rather to be stuck to the bookish knowledge telling the past only. That’s why we always look into the past and miss the future…!

    1. Dear Shahzada Akbar, thank you very much for your kind words. In addition, I liked your critical comments regarding the emerging need to transition from book based to Curriculum based approach in teaching and learning.

      Regards

  2. جناب آپ نے ھمارے ملک کی تعلیمی معیار نصابی نقائص اور ان سے پیدا ھونے والے نقصانات کی بہترین نشاندہی کی ھے۔۔
    بہترین تحریر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *