Fri. Jun 14th, 2024

کےپی کے اسمبلی سے اسکول کے بستے کے وزن میں کمی کا قانوں پاس کرنے پر اکثر لوگ  اس قدم کو  سراہتے ہو ئے اسے اپنی مثال آپ  قرار دے رہے ہیں۔ بحثیتِ ایک استاد،  اور  منتظمِ اسکول اس قانون کو کئی دانشوروں کی تحریروں کو پڑھنے اور کئی اساتذہ کرام سے بات چیت کرکے  سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ اس سلسلے کے اخذ شدہ نتائج کے اعتبار سے یوں لگتا ہے کہ تعلیمی میدان میں ماضی کے کئی اور قوانین کی طرح یہ بھی ایک سطحی قانون کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کو سطحی قانون کا نام دینے کے  کئ عوامل کارفرما ہیں- سب سے پہلے یہ کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جس کی وجہ سے آج کل کے بچوں کے بستے وزن میں بھاری ہو چکے ہیں؟ فی لحال  ایسی کوئی وجہ ابھی تک اس قانوں کے دفاع میں سامنے نہیں لائی گئ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا صرف قانون کے زور پر بھاری بستہ ہلکا کرنے سے کیا متوقع نتائج حاصل ہونگے اگر ہاں تو کیسے؟

در اصل تعلیمی میدان کے دانشواروں کا کہنا ہے کہ اسکول  کےبستے کے حجم میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی قومی نصاب سے نا واقفیت ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی اکثریت آج بھی درسی کتب کو قومی نصاب سمجھتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ  درسی کتب شائع کرنے والے اداروں کی پالیسی بنانے والے اداروں کے ساتھ مضبوط روابط ہے۔ تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اکثر اساتذہ طالب علموں کو قومی نصاب کے حاصلاتِ تعلم کی بنیاد پر پڑھانے کے فن سے ناواقف ہیں اسلیے درسی کتب کو ہی رہنما سمجھتےہیں۔

تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر حقیقی معنوں میں اسکول  کےبستے کا وزن کم کرنا ہے تو اساتذہ اور اسکول منتظمین کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو وسعت دینی ہوگی تاکہ وہ قومی نصاب میں تعین کردہ حاصلاتِ تعلم کو سامنے رکھ کر پڑھانا شروع کریںگے تو یقینی طور پراسکول  بستہ وزنی نہیں رہے گا اور طالب علم حقیقی معنوں میں علم حاصل کرسکیں گے ۔     

By Syed Wali Shah

The author is the owner and director of Curiosity School Islamabad Pakistan. Currently, he is pursuing his MS leading to a PhD in Project Management. He is holding a Master Degree in Teacher Education from the Aga Khan University Karachi.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *