Fri. Jun 14th, 2024

” جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند نہیں آتا” پچھلے دنوں جب یہ کہاوت میری نظر کے سامنے سے گزری جس نے مجھے بحثیت استاد سوچنے پر مجبور کیا کہ کیوں بہت سے طلباء مختلف مضامین کو پسندنہیں کرتے جب کہ ان ہی مضامین کو دوسرے طلباء دلچسپی سے پڑھتے اور پسند کرتے ہیں۔ اسطرح جب اساتذہ کے پیشہ وارنہ تعلیم کے پروگرام میں نئے رجحانات کو متعارف کروایا جاتاہے تو اساتذہ کی بڑی تعداد ان کو پسند نہیں کرتے ہیں یا اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں نہ بنانے کے مختلف بہانے تراشتے ہیں۔ لیکن جب ہم اس پرانی کہاوت ” جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند نہیں آتا”کو دیکھتے ہیں تواس سے  ہمیں بحثیت استاد سوچنے کا ایک نیا زاویہ ملتاہے۔

طلباء کی ایک بڑی تعداد ریاضی کے مضمون میں کمزور ہوتے ہیں۔ یہی کمزوری ان کو ریاضی سیکھنے کے عمل میں دلچسپی لینے سے دور کردیتی ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا رجحانات ہے جس کی وجہ سے ان کی ریاضی میں کارکردگی دوسرے مضامین سے کم ہوتی ہے۔ میں ریاضی کے اساتذہ سے درخواست کروں گا کہ وہ دوسرے زاویوں کے ساتھ ساتھ ” جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند نہیں آتا” پر بھی ضرور غور کریں۔ اپنے تدریسی ماڈل  کا جائزہ لیں کہ وہ طلباء کو ریاضی سیکھنے اور سمجھنے میں کس حد تک مددگار ہے۔ ہم اپنی تدریس میں کیا تبدیلیاں لائیں  کہ ریاضی کے سوالات اور اصلاحات اتنی سہل ہوجائیں کہ ہر کوئی اس کو اپنے روزمرہ زندگی سے جوڑتے ہوئے ان تصورات کو سمجھ جائے کیونکہ ” جو سمجھ آتا وہ پسند آتا”۔

اسی طرح میں نے دیکھا ہےکہ اساتذہ کے پیشہ وارانہ تعلیم کے پروگرامز میں بہت سے نئے رجحانات پیش کئے جاتے ہیں۔ اساتذہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان رجحانات کو اپنے روزمرہ کی تدریسی سرگرمیوں کا حصہ بنالے۔ جب پروگرام کا جائزہ  لیا جاتاہے تو پتہ چلتا ہے کہ  متعارف کئے گئے رجحان اساتذہ اور اسکول کی روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ نہیں ۔ تو بہت سے پروگرام یہ الزام اسکول اور اساتذہ پر ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ “لوگ تبدیل ہونا نہیں چاہتےہیں۔” اکثرتعلیم اساتذہ پروگرام میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ  کسی کتاب یا گوگل سےکسی ورکشاپ کے مواد کو چن کر اساتذہ کے سامنے پیش کرتےہیں جس کی پڑھانے والے کی خود کی فہم پختہ  نہیں ہوتی ہے۔ آپ بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ تصورات اساتذہ تک کسطرح منتقل ہوتے ہوں گے۔ جب کہ ہمیں اساتذہ کے پیشہ وارانہ تعلیم کے پروگرامز میں متعارف کروانےوالے رجحانات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پہلے خود سمجھنا اور پھر  دوسروں کو سمجھانا چاہیئے ۔   کیونکہ جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند نہیں آتا اور جو سمجھ اور پسند نہیں آئے گا وہ کسطرح کسی فرد کی روزمرہ سرگرمیوں کا حصہ بن سکتا ہے ۔

اساتذہ کے پیشہ وارانہ تعلیم کے ملک  گیرپروگرام میں پوسٹ آفس ماڈل استعمال کیا جاتا ہے جہاں ماہرین کی ایک  ٹیم پیشہ وارانہ تعلیم کا مواد تیارکرتی ہے۔ اس مواد کو اساتذہ تک پہچانے کےلئے مینٹر کی ٹیم کو مواد رٹایا جاتا ہے ۔ اگلے مرحلے میں یہ مینٹر جز وقتی طور پرملازم رکھے گئے پڑھے لکھے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو جو خود تدریس  کاکوئی قابل ذکر تجربہ نہیں رکھتے ہیں کو ماسٹر ٹرینر کی حثیت سے رٹواتے ہیں ۔ آخر  مرحلے میں اساتذہ کے لیےایک ورکشاپ کی صورت میں پیشہ وارانہ تعلیم کا اہتمام کیاجاتا ہے جس میں یہ ماسٹر ٹرینر رٹے ہوئے مواد کو ترتیب وار اساتذہ کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔ اسطرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ تدریس کے عمل میں جو نئے رجحانات پروگرام کے ذریعے لانا چاہتے تھے حاصل ہوگئےلیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہمارے ملک میں تقریباً 30 سالوں سے اسطرح کے اساتذہ کے پیشہ وارانہ تعلیم کے پروگرامز مختلف ڈونر کے تعاون سے حکومتی یا غیر سرکاری تنظیموں کی مددسے چلائے گئے مگر ہم  اپنے اسکولوں میں خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرسکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت سی دوسری وجوہات کے ساتھ ان پروگرام میں شامل کئے گئے مواد کا پہلے مرحلے سے لےکر آخری مرحلے تک  ایک جیساسمجھنا ایک بڑی وجہ ہے کہ وہ رجحانات اسکول/کلاس روم کے معمول  کی سرگرمیوں کا حصہ نہ بن سکے۔کیونکہ اگر ہمیں سمجھ آئے گا تو پسند آئے گااور پسند کریں گے تو اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔

اس لئے میں اس مضمون کے ذریعے میں  کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بحثیت اساتذہ ایک ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے کہ کسطرح وہ اپنے بچے کی ضرورت اور صلاحیت کے حساب سے اس کے لئے خوراک کا انتظام کرتی ہے۔  وہ غذا کو مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لئے غذا کا کھانا آسان کردیتی ہے۔ اسطرح ہمیں بھی پہلے مواد کو باریکی کے ساتھ خود سمجھنا چاہیے تاکہ ہم طلباء یا اساتذہ کو مواد پیش کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں کے حساب سے اتنا سہل کردے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ “میں نے دیکھا، میں سمجھ گیا/گئی، اور میں کرسکتا/سکتی ہوں” کیونکہ یاد رکھیں کہ “جو سمجھ آتا ہے وہی پسند آتا ہے اور جو پسند آتا ہے اُسے ہی اپنایاجاتاہے۔”

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

2 thoughts on “جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند نہیں آتا”
  1. یوسف
    ماشااللہ بحد اصلاحی تحریر ہے آپ کی ۔ اکثر تعلیمی اداروں یا ورکشاپ میں یہی دکھا گیا ہے کہ جو معلومات طلباء کو سمجھ نہیں آتا ۔اس
    معلومات کو طلباء سیکھ نہیں پاتے
    اور وہ مضمون انہیں پسند بھی نہیں
    آتا یہ جملہ صرف تعلیمی اداروں یا ورکشاپ کےلیے ہی نہیں ہے بلکہ
    زندگی کے ہر شعبے میں استعمال کیا جاتا ہے
    ” جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند نہیں اتا” چاہے وہ کوئی استعمال کی اشیاء ہو یا کوئی انسانی رشتہ
    “جو سمجھ نہیں آتا وہ پسند بھی نہیں اتا ”
    میری دعا ہے کہ اللہ آپ کی تحریر میں ارو نیکھر لائے امین

    1. سر میں نے آپ کی تحریر کا بغور مطالعہ کیا ھے۔ عام طور پر اس پہلو پر توجہ نہیں دی جاتی۔ میرے خیال میں بہت اہم ہے یہ کہ بحثیت استاد اور والدین بچوں کی پسند نا پسند کا خاص خیال رکھا جاۓ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *