Fri. Jun 14th, 2024

جس وقت استاد سیکھنا چھوڑ دیتا ہے اس وقت سے وہ استاد نہیں رہتا ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کسی تالاب میں ٹہرا ہوا پانی کچھ وقت کے بعد بدبودار ہوجاتا ہے اور وہ  مضرِصحت  ہوجاتا ہے اس کے برعکس بہتاہوا پانی زندگی کی علامت ہوتاہے اور جہاں سے بھی گزرتاہے زندگی دیتا جاتاہے۔ جہاں تک اساتذہ  کی تعلیمی مہارت کا تعلق ہے اگر ہم سیکھنا چھوڑ دے تو کچھ وقت کے بعد ہم اپنے طلباء کے لئے مفید ہونے کے بجائے ان کے لئے نقصان کا باعث بن جائیں گے اور ہماری تدریس میں علم و حکمت کے جدید رجحانات کا فقدان نظر آئے گا اس لئے کامیاب استاد ہونے کے لئے دوسری بہت سی خصوصیات کے ساتھ مسلسل سیکھنا ضروری ہے۔

پچھلے 30 سالوں میں سا ئنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑی تیزی کے ساتھ ترقی ہوئی جس کا اثر زندگی کے دوسرے شعبوں  کے ساتھ تعلیم اور تدریسی طریقہ  کار پر بھی ہوا۔ وہ طریقہ کار اور مواد جو 90 کی دہائی میں موثئر تھے  سا ئنس و ٹیکنالوجی کی تیزی سے ہوتی ترقی نے ان کو بدل کر رکھ دیا ہے مثلاً اُس وقت انٹرنیٹ کا استعمال اپنی ابتدائی شکل میں تھا جب کہ آج  انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر شعبہ میں جگہ بنالی ہے اور ساتھ ہی ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے طریقہ کار بھی بدلتے جارہے ہیں۔ اب استاد کے علاوہ بھی سیکھنے کے بہت سے دوسرے ذرائع مثلاً آن لائن وڈیوز، ایل-ایم-ایس اور مختلف سافٹ ویئر موجود ہے جن کو استعمال کرتےہوئے لوگ سیکھتے ہیں۔ ہمیں بحثیت اساتذہ یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان تمام مواد کو تیار کرنے کے لیے اچھے اساتذہ کی ضرورت پڑتی ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں اور اپنی علم ومہارت کو اس بدلتی ہوئی صورت حال کے لیے تیار کریں اور تعلیم میں ٹیکنالوجی کے کردار کو سمجھتے  ہوئے اپنی درس تدریس کی صلاحیت کو بڑھاتے ہوئے  ٹیکنولوجیکل پیڈاگوجیکل کونٹینٹن نالج کی سطح تک لے جائیں تاکہ ہم وقت  کی رفتار اور ضرورت کے مطابق اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں احسن  طریقہ سے پوری کر سکیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی پیشہ وارانہ تعلیم کو بھی جاری رکھیں اور اس کے ذرائع تلاش کریں ۔ آج سے 20 سال قبل رویتی طور پربڑے شہروں میں سال میں تین سے چار تعلیمی کانفرنس ہوتی تھیں جس میں لوگ ورکشاپ، پینل ڈسکشن  اور پیپر پریزنٹیشن میں شرکت کرے تعلیم میں جاری جدیدروجحانات سے آگہی حاصل کرتے تھے۔ اسطرح کچھ لوگ مختلف اساتذہ تنظیموں جیسا کہ اسپلٹ کے سہہ ماہی نیوز لیٹرکی مدد سے مضامین پڑھ کے اپنے علم و حکمت کو بڑھاتے رہتے تھے۔ ہمیں ان روایتی طریقوں  کو بھی جاری رکھنا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف آن لائن پیلیٹ فارم جیسا کہ canvas.net،Philanthropy University (philanthrophyu.org)،یاTED talks (ted.com)سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی پیشہ وارانہ تعلیم کو جاری رکھنا چاہیےان پلیٹ فارم میں اپنی ضرورت کے مطابق دنیا کی مانی ہوئی یونی ورسیٹز کے اساتذہ کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہوئے معیاری اور مفت کورسسز کرسکتے ہیں۔ اور اپنی تدریس میں تبدیلی کے عمل کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

اسطرح ہمیں درس و تدریس کی طرح نفس مضمون میں جو تبدیلیاں وقت کے ساتھ رونما ہوتی جارہی ہیں ان پر ہمیں اپنے علم کو تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاًایک کمپیوٹر پڑھانے والے استاد کو ضرورت  ہے کہ بنیادی سافٹ ویئر کے میدان میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہوتے ہوئے اپنے کورس نفس مضمون میں بھی تبدیلیاں لاتے رہیں تاکہ طلباء بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں استعمال ہونے والی جدید تکنیک سے واقف ہوتےرہیں۔ اسطرح  یونی ورسٹی اور مارکیٹ کے خلا کو کم کیا جاسکتاہے۔اسطرح اگر ہم بچوں کو پڑھانے کے بجائے ان کو سیکھنے کے طریقوں کی تربیت دیں تو ان کی سیکھنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی کیونکہ آج کے موجودہ دور میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے سیکھنے کے طریقہ کار سے واقف ہونا زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ اگر آپ کو سیکھنا آتا ہے تو کسی بھی قسم کی تعلیم، کسی بھی موقع پر اور ضرورت کے مطابق مختلف ذرائع سے حاصل کرسکتے ہیں۔

اس لئے مضمون کے آخر میں دوبارہ زور دینا چاہوں گا کہ آپ اپنے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے لئے مفید اور کارآمد ہونے کے لئے مسلسل سیکھنے کے عمل کو جاری رکھیں ۔   اسطرح نہ صرف آپ اپنے آپ کو آگے بڑھائیں گے بلکہ اپنی آمدنی کو بھی بہتر بنا سکیں گے۔ مسلسل پیشہ وارانہ تعلیم کو جاری رکھنے والے اساتذہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ اور اُن کا علم  وقت کی ضروریات سے مطابقت رکھتاہو، اور وہ تدریس میں بدلتے ہوئے رجحانات اور سمتوں سے آگاہ ہو۔ 21ویں صدی میں تبدیلی کی رفتار پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزہے یہ اس نئے زمانے کی ایک نمایاں خصوصیت ہے جس میں اس وقت ہم رہتے اور سیکھتے سکھاتے ہیں۔ اگر ہم ٹہر جاتے ہیں تو ہم علم ومہارت کی قدر  میں دنیا میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

5 thoughts on “جس دن استاد سیکھناچھوڑ دے، اُس دن وہ استاد نہیں رہتا۔”
  1. You are absolutely right without updating our knowledge, skills we do not influence the learners towards effective learning and practices. Content and pedagogy are part and parcel for meaningful outcomes. These both can be improved through continuous learning and seeking new information and relate them with our teaching techniques and methods. That is why teaching is a long life learning process.

  2. You right , learning is a continuous process ,we can improve our methodologies by learning different techniques of teaching.it is very necessary for a teacher ,he will meet the challenges of 21st century

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *