Fri. Jun 14th, 2024

ہمارے معاشرے میں آج کل بزرگوں کی زبان سے ایک جملہ “تعلیم یافتہ جاہل” اکثر سننے کو ملتاہے۔ پہلی بار سننا تو عجیب لگا لیکن جب متعدد بار سننا تو تجسس بڑھ گئی کہ کھوج لگائی جائے کہ اخر وہ کونسے محّرکات ہیں جس کی وجہ سے ایک ہی آدمی کےلیے بیک وقت بلکل تضاد القاب استعمال ہونے لگے ہیں۔ اس کھوج کا تقاضا کچھ یوں تھا کہ اُن ہی لوگوں سے رابطہ کیا جائے جو یہ جملے کو درست مانتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک طویل مدت سرگرمی ثابت ہوئی اور اس ضامن میں کئی لوگوں کے ساتھ رسمی اور غیر سمی گفتُ شُنید کرنے کا موقع ملا۔

بہت ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنے بھی لوگ اس جملے کو بولتے ہو ئے یا اس کو درست مانتے ہوے پائے گئے وہ سارے عمر رسیدہ تھے تقریباً سب کی عمریں ساٹھ سال سے زیادہ تھیں۔ یہ انکشاف نے معاملےکو اور بھی دلچسپ بنایا کہ اخرکار یہ ماجرہ کیا ہے ؟ اس سلسلے میں کچھ دن پہلے ایک بزرگ شہری سے ملاقات ہوئی جس نے ایک ہی جملے میں تمام مسلے کا حل بتا دیا۔ وہ جملہ کچھ اس طرح کا تھا “ہمارے نوجوان صرف تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی تربیت نہیں ہوتی اس وجہ سے بڑے بڑے سند یافتہ انتہائی بد اخلاق اور بد عنوان ثابت ہو رہے ہیں”

اب اتے ہیں اصل بات کی طرف کہ بد اخلاقی اور بد عنوانی کے پیچھے کئی وجوہات کارفرما ہیں۔ بحثیت معلم یا استاد ان وجوہات کو تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے اگر ہم وجوہات کا تعاقب کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان کا ممکنہ حل بھی ڈونڈھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

جب غور کرتے ہیں تو آج کل تعلیم و تربیت کی بات ہی نہیں ہوتی بلکہ صرف تعلیم پر زور دیا جاتا ہے یہ جانتے ہوے بھی کہ تعلیم تربیت کے بے غیر ایک نقصاندہ ہنر ثابت ہوسکتی ہے۔ جس کی مثالیں ہمارے معاشرے میں بھری پڑی ہیں۔ کون نہیں جانتا ہے بہت سے ہمارے تعلیم یافتہ ڈاکٹرز جعلی ادویات کے کاروبار کرنے  والے گروہوں کے کی پشت پناہی کرتے ہوے پائے جاتے ہیں اور کس کو نہیں پتہ کہ ہمارے یہ تعلیم یافتہ انجنیرز ہی  تو ہیں جو عمارت اور پل ناقص مواد سے تعمیر کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگوں کی جانیں جا چکیں ہیں، ملک میں کئی ہمارے اساتذہ ایسے بھی ہیں جو نہ پڑھاتے ہیں اور نہ ہی اسکول آنے کی زحمت کرتے ہیں لیکن تنخواہ برابر وصول کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ ہمارے منتخب تعلیم یافتہ نمائندے ہی تو ہیں جو ہر طرف سے بدعنوانی کو اپنا حق مانتے ہیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی ہے حتا کہ ہمارے ملک کے تعلیم یافتہ بڑے بڑے سرکاری اور غیر سرکاری عہدوں پر معمور حضرات جو باقی سب کو حقیر سمجھنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں۔ اگر مزید دیکھنا ہو تو ہمارے تعلیم یافتہ ججز اور وکالا کو دیکھ لو جو جس طرح کی سچائی اور مساوات و عدل کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

 اس لیے ہمارے بزرگوں کے نزدیک یہ سب “تعلیم یافتہ جاہل” کے ذمرے میں آتے ہیں۔

اب آتے ہیں ان محّرِکات کی طرف جس کی وجہ سے مِن حیثُ القوم ہم اس سطح تک اچکے ہیں۔ جب ہم اپنے بزرگوں سے بات کرتے ہیں وہ کھبی بھی صرف “تعلیم” کی بات نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ تعلیم و تربیت کو لازمُ ملزوم سمجھتے ہیں اور اس بارے دانشواروں کی اکثریت بھی اس بات پر یقین کرتیں ہیں کہ ذکر کردہ مسائل کی جڑ تعلیمی اداروں میں “تربیت” کو نطرانداز کرکے صرف “تعلیم” پر زور دینا ہے۔

تعلیم کے معاملے میں پھر بھی کچھ نہ کچھ کرنے میں کامیاب ہیں ہم مثلاً ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جن میں ڈاکٹرز، پروفیسرز، ٹیچرز، انجینیرز، آرٹسٹس وغیرہ وغیرہ لیکن یہ بات طے ہے کہ ان میں اکثریت اپنے پیشہ وارانہ زندگی میں دیانتداری، سچائی، صلہ رحمی، مساوات،عدل و انصاف اور اخوات و بھائی چارہ کا مظاہرہ کرنے سے قاصر پائے جاتیں ہیں۔

اگر باریک بینی سے درجہ بالا اوصاف پر غور کیا جائے تو ان سب کا تعلق “تعلیم” سے کم تربیت سے زیادہ ہے۔ مثلاً صرف تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر، انجینیر، استاذ یا جج بننا عین ممکن ہے پر اچھا ڈاکٹر، اچھا انجینیر، اچھا استاذ یا اچھا جج بننا شاید مشکل ہے، صفتِ اچھا  کو پانے کےلیے کردار کا ہونا بہت ہی ضروری ہے جو کہ “تربیت” کے بے غیر نا ممکن ہے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہو تو وہ تعلیم فائدہ مند ہونے کی بجاے نقصاندہ اور خطرناک ہو سکتی ہے۔

سوال یہ بنتا ہے کہ اخر کار تعلیمی ادارے تربیت جیسے اہم پہلو کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟ وہ اس لیے کے تربیت ایک مشکل عمل ہے۔ مشکل اسلیے کے ایک تو تربیت کے لیے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے دوسرا یہ کہ تربیت ایک طویل اور صبر ازما عمل ہے۔ مذید یہ کہ تعلیمی اداروں میں وقت کی کمی کا بہانہ اور سلیبس مکمل کرنے کی کوشش میں انگریزی، اردو، حساب، فیزکس، کیمسٹری، بایولوجی وغیرہ وغیرہ پر زور دیا جاتاہے جو کہ سب سے اسان کام ہے اور تربیت پر نہ کوئی توجہ دی جاتی ہے اور نہ کوئی اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

تعلیمی اداروں میں اکثر اساتذہ تربیت کو والدین کی ذمہ داری سمجھ لیتے ہیں اور تقاضا کرتے ہیں کہ والدین کو بچوں کی تربیت کرنی چاہئے۔ دوسری طرف آج کل والدین دو وقت کی روٹی کمانے کے خاطر اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ہی نہیں ملتا تربیت تو کجا۔

ایسی صورت حال میں ایک با اخلاق اور با کردار  قوم کا خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے حقیت میں بہت ہی مشکل بلکہ نا ممکن نظر آتا ہے۔ پھر تو ہمارے بزرگ “تعلیم یافتہ جاہل” کے جملے استعمال  کرنے میں حق با جانب ہیں کیونکہ وہ تعلیم کو ایک آدمی کی ذاتی اور کردار کو اجتماعی صفت مانتے ہیں اور ان کا موقف بلکل درست ہے۔   

By Syed Wali Shah

The author is the owner and director of Curiosity School Islamabad Pakistan. Currently, he is pursuing his MS leading to a PhD in Project Management. He is holding a Master Degree in Teacher Education from the Aga Khan University Karachi.

5 thoughts on “تعلیم یافتہ جاہل”
  1. انتہائی اعلیٰ جائزہ لیا سر اپ۔ایک استاذ کو شاگرد کو منشیات یا بداخلاقی سے روکنے کےلئے پہلے خود رول ماڈل بننا پڑتا ھے۔استاد کا پیشہ انتہائی اقابل قدر پیشہ ھے۔اگر استاد اپنے مقام سے انصاف کر سکے ورنہ بزرگوں کے اس قول۔۔تعلیم یافتہ جاہل۔۔۔کو 100% مارکس دینا چاہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *