Fri. Jun 14th, 2024

تعلیم کے بنیادی تصورکے مطابق مدرسہ، سکول بچوں  اور طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیارکرتاہے۔ تعلیم کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جاتاہے اور اس طرح ان کے علم، مہارت اور بصیرت میں اضافہ کیاجاسکتاہے۔ یہ عمل اساتذہ اور شاگرد دونوں کے اشتراک سے ہی ممکن ہے۔ یعنی اساتذہ اپنے بہترین علم، تدریسی مہارت اور غوروفکر سے طلبہ کو سیکھنےمیں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ شاگرد خودآزماہی  ، تجسس اور آمادگی سےسیکھنے کے عمل کومذید پختہ بناتے ہیں۔  اس لیے اساتذہ اورطلبہ کا تعلیم اور سیکھنے کے ہمہ جہت تصورات سے بخوبی واقف ہونابہت ہی ضروری ہے۔ ان میں سے ایک اہم تصورجائزہ( جانچ ) ہےجو کہ پاکستانی نظام تعلیم میں یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

حقیقت میں جانچ ایک ایسا تصور ہے جس کے ذریعے انفرادی طور پرطلبہ کے علم، مہارت ، صلاحیت، سوچ، فکر، تعلم اور نفس مضمون  سے متعلق معلومات کو اکھٹا کرنا،  تجزیہ کرنا اور فیصلہ کرنا ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ کومعلوم ہوسکے کہ درس و تدریس کے کون سے پہلو بہتر ہیں  اور طلبہ ان میں اچھی کارکردگی پیش کررہےہیں۔  اور یہ بھی معلوم ہو سکے کہ کن پہلووں پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور ان میں کیسے بہتری لائی جاسکتی ہےجانچ کے نتائج کی بنیاد پر اساتذہ اپنے تدریسی طریقوں میں تبدیلی کرکے، نئی،جدید اور مختلف حکمت عملیوں کا استعمال کر کے طلبہ کے سیکھنے کے طریقوں سے مطابقت پیدا کرسکتے ہیں جبکہ طلبہ کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کن پہلووں میں بہتر ہیں اور کن پہلووں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اور یوں  اس سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ  کمرہ جماعت میں ایک بہت ہی مثبت اور  صحت مند ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں اساتذہ اور طلبہ دونوں سیکھتے ہیں۔  لیکن یہاں ہمارے ذہینوں میں ایک اور اہم سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے سکولوں میں یہ مثالی مشق اسی انداز سے کی جاتی  ہے؟  اگر یہ مشق باخوبی سرانجام دی جا رہی  ہے تو ہمارا معیار تعلیم اتنا کمزور کیوں ہے؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں تحقیق کا رجحان نہ ہونے کے برابر کیوں ہے؟  ہمارے ملک میں سوچنے والے لوگوں کی کمی کیوں ہے؟  پھر ہم سوچنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟    اگر نہیں ہورہا ہے ایسا تو ذمہ دار کون ہے؟  اساتذہ،  طلبہ،  منصوبہ ساز یا کوئی اور؟

میرے تجربے کے مطابق ہمارے  تعلیمی اداروں میں اس مثالی تدریسی مشق کی بہت کمی ہے اور اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں کیونکہ   مجموعی طور پرہم سوچنے والی قوم  نہیں ہیں، ہم آسان طریقے اور راستے ڈھونڈنے والے ہیں، ہم تکلیف نہیں اٹھاسکتے ہیں، ہم آرام طلب قوم ہیں ۔ شاید ہم کبوتر کے پیرو کار ہیں کہ آنکھیں بند کریں اور مصیبت ٹل جائے۔

اس کی ایک زندہ مثال ہمارے ملک میں رائج  جانچ، جائزہ اور امتحان کا طریقہ کارہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہےکہ امتحان میں ایک مضمون میں کامیابی کے لیے  درکار تینتیس   فیصد کا تعین کیسے  کیاگیا تھا اور آخر ہم نے ابھی تک اسے تبدیل کرنےکی زحمت کیوں نہیں کی؟

یہ بات ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قدرت نے ہربچے کو مختلف پیدا کیاہے، اس کی صلاحیتیں ، سوچنے کا انداز ، پرورش ، سیکھنے کے طریقے ، منزل ،  زندگی کوسمجھنے اور گزارنے کا نظریہ مختلف ، پھر  ہم نے یہ کیسے طے کیا ان کو پڑھانے اور جانچنے کا طریقہ ایک ہی  ہوسکتاہے؟  کمال ہے کہ طلبہ کوہم ڈالتے ایک سانچے میں اور امید مختلف ڈیزائن  حاصل کرنے کی کرتے ہیں۔  جانچ کا نظام فرسودہ اور امید سائنسدانوں اور فلسفیوں کے پیدا ہونے کی ہے۔  سکولوں میں سہولیات  ناپیداور مقابلہ یورپ اور امریکہ سے  کیا جاتا ہے ۔ کیوں  اور کس لیےاتنا دوہرا  معیار ہے ہمارا ؟  

کچھ عرصہ پہلے میں نے سوشل میڈیا میں ایک خبر کا مطالعہ کیا جس کہ مطابق  برصغیر میں   میٹرک کا پہلا امتحان  1858ء میں منعقد ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ برصغیر کے لوگوں کی عقل ہم  سے آدھی  ہے  اس لیے ہمارے  ہاں اگر ہر مضمون   میں کامیابی کے نمبر 65  فیصد ہیں تو برصغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے یہ فیصد 33 کر دیے گئے اور ہم اب بھی ان ہی 33 فیصد نمبروں کے حاصل کیے جانے سے ہی اپنے بچوں کی ذہانت کی پیمائش  کرنے میں مصروف ہیں۔

لہذا  ہمیں اپنے جانچ کے طریقہ کار اورنظام پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے بچوں کی مہارتوں اور صلاحیتوں کا درست ادراک کرسکیں  اور ان کو فوری اور مناسب  راہنمائی فراہم کرسکیں  اور وہ اپنی  ذاتی اور معاشرتی زندگی  میں کامیاب ہوسکیں اور قوم اور ملک  کے لیے بھی سود مند ثابت ہوں۔   اس تحریر کے ذریعے میں اہل اقتدار کی خدمت میں درج ذیل سفارشات پیش کرتا ہوں ؛

اپنے بچوں پر اعتماد کریں  اور یہ یقین رکھیں کہ پاکستان کے بچے بہترین صلاحیتوں کے مالک ہیں  اور وہ کسی  بھی لحاظ سےدوسروں سے کمتر نہیں ہیں۔

اس لیے ان کو چانچنے کے معیار کو ترقی یافتہ  ممالک کے برابر رکھیں کیونکہ  ہمارے بچے  دنیاکے تمام بچوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

جانچ کے  نظام میں عملی پہلووں کو زیادہ سے زیادہ شامل کیاجائے۔

ثانوی تعلیم کی سطح پر تحقیق کو شامل کیا جائے تاکہ  طلبہ میں سوچنےکی بہتر صلاحیت اجاگر ہو۔

اساتذہ کی تربیت میں جانچ  و جائزہ   پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اساتذہ  کو مختلف طریقوں پر عبور حاصل ہو۔

·         پرائمری سطح پر تشکیلی جانچ کو فروغ دیاجائے۔ ساٹھ فیصد کی بنیاد پر تشکیلی جائزہ لیا جائے  ہو اور چالیس فیصد تکمیلی  تاکہ طلبہ کی تعلم و آموزش کو مضبوط  کیا جاسکے۔  

By Babar Khan

Mr Babar is an Educational Professional with a hallmark experience in education, particularly in Teacher Education, and contributes to the enhancement of capacity and productivity of the organization, with an excellent set of leadership skills and commitment.

3 thoughts on “تعلیم، تدریس اور جائزہ( جانچ )”
  1. Yes, Babar Shahib, Assessment of students’ performance is very important and evaluation of academic activities in school is also essential to make a decision on improvement and change. It is all required to equip stakeholders with modern tools. Thank you for writing about such an essential aspect of education.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *