Fri. Jun 14th, 2024

“کیا آپ  اپنے بچوں کے لیے کھلونے خریدتے ہیں؟” ، “کیا آپ نے کبھی مشاہدہ کیا کہ بچے ان کھلونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔” اگر آپ ان کا بغور مشاہدہ کریں تو اکثر بچے  پہلے تو ان کے ساتھ  جی بھر کر کھیلتے ہیں اور پھر ان کو توڑنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اگر ہم ایساسوچتے ہیں تو غلطی پر ہیں کیونکہ وہ ان کو توڑتے نہیں ہے بلکہ وہ متجسس ہوتے ہیں کہ یہ کام کسطرح کرتاہے؟ وہ اُسے کھول کر ایک ایک  پرزہ دیکھنا اور سمجھنا چاہتےہیں۔ یہی وہ فطری تجسس ہے جو ہر انسان  کو تمام عمر نئی چیزوں کو سیکھنے کے لیے آمادہ کرتا ہے اور  سیکھنے کےعمل کو پر لطف بناتا ہے۔

اساتذہ کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ تجسس سیکھنے کے عمل کو زیادہ موثئر بناتاہے کمرہ جماعت میں اکثر ہم دیکھتےہیں کہ متجسس طلباء نہ صرف سوالات پوچھتے ہیں بلکہ فعال انداز میں جوابات بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ تجسس ہی تھا جس نے نیوٹن کو طبعیات کے قوانین کو سمجھنے اور وضع کرنے میں مدد دی۔ اسطرح مادام کیوری کی علمی تحقیق بھی تجسس کی وجہ سے وجود میں آئی۔

اگر ہم اپنے زمانہ طالب علمی میں  سیکھے گئے مضامین کو یاد کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تجسس ہمیں ایسی معلومات کو  سیکھنے میں بھی مدد کرتا تھا جو ہمارے لئے دلچسپ یا اہم نہیں ہوتا تھا لہذا بحثیت  استاد اگر ہم طالب علموں میں کسی ایسی چیز کے بارے میں  تجسس  پیدا کرنے کے قابل ہو جائیں جسے وہ مشکل سمجھتے ہو ں تو وہ ایسی چیزوں کو بھی سیکھنے کے لئے تیار ہو جائیں گے ۔ مثال کے طور، اگر کوئی بچہ ریاضی کے سوالات کو سمجھنے میں جہدوجہد کرتا ہے تو انھیں نصابی کتاب کے سوالات کے بجائے ریاضی کے مسائل کو ان کی ذاتی زندگی سے جوڑیں تو وہ بہتر طریقے سے یاد رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے مسائل حل کر سکے گا۔

اس کے برعکس اگر ہم اپنے اسکولوں کے ماحول  کو دیکھتے ہیں تو لگتاہے کہ” اسکول بچوں کے تجسس کو مار دیتے ہیں” اور بھول جاتے ہیں کہ تجسس تعلیم کی ماں ہے۔ پرائمری اسکولوں میں بچے زیادہ متجسس ہوتے ہیں اور اساتذہ سے سوال پوچھتے ہیں۔ لیکن اکثر اساتذہ انہیں چپ کروادیتے ہیں اور انہیں پڑھنے(سیکھنے) پر مجبور کیا جاتا ہے اسطرح آہستہ آہستہ بچوں میں تجسس ختم ہو جاتا ہے سیکھنےکا عمل ایک غیر دلچسپ سرگرمی بن جاتی ہیں۔

تجسس طلباء کے سیکھنے کے عمل کو زیادہ فائدہ مند بناتاہے۔ طلباء کے تجسس کو اُبھارنے سے انہیں نفس مضمون کو یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے جوکہ عام حالات میں ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے باہر چلی جاتی ہے۔ طلباءکے تجسس کو اُبھار کر سیکھنے کے عمل کو آئس کریم  جیساخوشگوار بنایا جاسکتاہے۔کیونکہ متجسس   طلباء کا دماغ متحرک  رہتاہے۔ وہ جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ تجسس انہیں سیکھنے اور تخلیقی انداز میں انجام دینے کے لیےاُکساتاہے بہ نسبت ان طلباءکے جن میں تجسس کا فقدان ہوتا ہے۔

ہم طلباءکے تجسس کو اُبھارنے کے لیے Project Based Learningکو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتےہیں جو طلباء میں کلاس کے شروع ہوتے ہی انہیں مشغول کر دیتاہے۔ اس کا ایک اہم جز طلباء سے یہ پوچھتاہے کہ وہ پہلے سے کیا جانتے ہیں اور انہیں کیا جاننے کی ضرورت ہے؟ اور یہی وہ مقام ہوتاہے  جس سے اِن کو سیکھنے کی جستجو اور تحریک پیدا ہوتی ہے۔

طلباء کے تجسس کو اُبھارنے کے لیے سوالات ایک  اہم اوزار ہو سکتے ہیں۔ ایک اچھا سوال ذہن کو سیکھنے کے لیے ایک سمت متعین کر سکتا ہے۔ طلباء کو بے چین لیکن سوچنے پر مجبور کرتے ہوئے مفکر بنانے میں مددگار ہوسکتاہے۔ اکثر ہم طلباء کی سوالوں کے جواب دینے کی صلاحیت کی قدر کرتے ہیں لیکن تعلیم  کے عمل میں تجسس سے مجبور ہو کر سوالات پوچھنا زیادہ اہم صلاحیت ہے۔کیونکہ متجسس لوگ سوال پوچھتے ہیں، پڑھتے ہیں، اور دریافت کرتےہیں ۔ وہ اپنے سوالات کے جواب جاننے کے لیےسرگرم رہتے ہیں اور اپنی دلچسپی کے موضوعات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات کرتے ہیں اور انہیں گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جس کو پروان چڑھانا ہماری تدریسی ذمہ داریوں میں اہم ذمہ داری ہے۔

اسطرح گھر کے افراد اور برادری کے ممبران کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تجسس کو دبانے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ بچوں کے سوالات کو غور سے سنیں اور اِن پر اُن  کے ساتھ بحث کریں۔ اگرچہ ایک والد اور چچا کی حثیت سے میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دقت طلب کام ہے مگر یہ ضروری ہے  اگرہم اپنے بچوں کو ایک کامیاب طالب علم کی حثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ بچوں کو ایسی کتابیں یا ذرائع مہیا کریں جو ان کے بہت سارے سوالوں کے جوابات پیش کرسکیں۔ اسطرح یہ ان کی لئے مثال بنتی ہے کہ متجسس اور پُرجوش لوگ جو کچھ سیکھتے اور تجربات حاصل کرتے ہیں  اِن تجربات کو  لکھ کر شائع کرتے ہیں تاکہ دوسرے لوگ اِس سے مستفید ہو سکیں۔

 میں اس مضمون میں ایک مرتبہ پھر دُہرانا چاہوں گا کہ بچے فطرتاً ہر چیز کے بارے میں متجسس رہتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کی حیثیت سے ، ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ سوالات پوچھیں ، نئی چیزیں سیکھیں ، کتابیں پڑھیں ،  اور ان کی تجسس کی آگ کو روشن رکھیں تاکہ سیکھنے کی عمل میں ان کی دلچسپی  برقرار رہ سکیں۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

One thought on “تجسس تعلیم کی ماں ہے۔”
  1. Mashallah and bht he achi bat learn ki hum ny sir Mohmmad Yousif thank yoou tajasus k bary m bht he acha sekhny ko mila or ya bat mny har bachy mn note ki hai Bachy aksar apny chezon sy khel kr unhn wapis tor k phr jora krty hn same wesy he class m ab inshallah m activity k Zarya bachon ko esy samjhongy and thank you sir bht he achi bat aj mny sekhi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *