Tue. Jun 25th, 2024
Muhammad Yusuf Co-founder & Head Marketing

بہترین انسان عمل سے پہچانا جاتا ہے۔ ورنہ اچھی باتیں تو دیواروں پر بھی لکھی ہوتی ہے۔ اگر آپ صبح  اُٹھ کر اپنے موبائل فون پر  واٹس ایپ   کا اِسٹیٹس کھولیں تو 80 فیصد آپ کو  طرح ظرح کی خوبصورت اور سبق آموز باتیں پڑھنے کو ملیں گیں۔ جس میں لوگ اپنی علمی قابلیت کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں ۔ اگر ان باتوں کو بھیجنے  والے افراد ان میں سے 10ٖفیصد باتوں پر عمل کرنا شروع کردے تو نہ صرف اُن افراد کی زندگی میں نمایاں فرق نظر آئے گا بلکہ ایک مثبت معاشرے کی تعمیر کا آغاز ہوجائے گا۔ اسطرح آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے پایا ہوگا کہ فلاں ٹیچر بہت اچھا /اچھی ہے کیوں کہ اس کا علم بہت ہی اپ ڈیٹ ہے یا اس نے بین  الاقوامی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے لیکن جب ہم ان کے متعلقہ اداروں میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ سوائے اپنی علمی قابلیت جھاڑنے، دوسروں کو حقیریا جاہل ثابت کرنے، یا محکمہ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے علاوہ کچھ کرتے نظر نہیں آتے ہیں۔ ایسے لوگ  صرف علمی گفتگو کے لیے تو کارآمد ہوتے ہیں لیکن اپنے محکمہ یا معاشرے کے لیے وہ بے کارفرد ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ آپ نے ایسے بھی افراد دیکھے  ہوں گے جو دوسروں کو بڑے پُرجوش انداز میں اچھے کام کرنے کے لیے آمادہ کرتے ہوئے نظر   آتےہیں اور اس کے لیے ان کے پا س دنیا کے کامیاب لوگوں کی مثالوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔لیکن جب خود کام کرنے کی باری آتی ہے تو اس میں وہ اپنی کارکردگی نہیں دِکھا پاتے اور اِس  ناکامی کو دوسروں کے سر ڈالنے کے لیے ان کے پاس بہت ساری وجوہات ہوتی ہے۔ بجائے وہ دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنے کے بجائے اپنی ہی علمی قابلیت کو قابل عمل کریں چاہے ان کو کسی بھی حد تک جانا پڑے تو کچھ دنوں میں یا ابتدائی ناکامیوں کے بعد وہ اپنی یا اپنے اداروں کی ایک پہچان بناسکتے ہیں جیسا کہ کامیاب لوگوں کی زندگی کے بارے میں پڑ    ھنے سے  پتہ چلتاہے کہ انسان کی زندگی  یا ادارے میں بہتری  باتیں کرنے سے نہیں بلکہ عمل کرنے سے آتی ہے۔

ہم روزانہ کی بنیاد پر ملک میں تعلیم اور تعلیمی اداروں کی بدحالی پر خبریں دیکھتے اور پڑھتے رہتے ہیں اور اس کی بہت ساری وجوہات میں اساتذہ اور افسران کی قابلیت سرفہرست ہوتی ہیں لیکن جب ہم دوسری طرف کسی تعلیمی سمینار یا ادبی بحث میں اساتذہ یا افسران سے ملتے ہیں تو ان کی قابلیت کا عملی مظاہرہ دیکھتے ہوئے حیرت ذدہ رہ جاتے ہیں کہ یہ افراد تو بہت قابل ہے لیکن اس کے برعکس ان کے اسکول ایک اسکول کی بنیادی تعریف پر بھی پورا نہیں اترتے ۔ اس کے برعکس میں کچھ ایسے اساتذہ کو جانتاہوں  جن کی تعلیمی قابلیت اور ان کے گریڈ تو بہت کم ہوتے ہیں لیکن جتنا وہ جانتے ہیں اسی کو بڑے پُرجوش انداز میں اپنے کام کا حصہ بنا لیتے ہیں اور ان کے اسکول نجی اور سرکاری اسکولوں کی صف میں علیحدہ نظر آتے ہیں ۔ اس  لیےضروری ہے کہ ہم  صرف  باتیں کرنا چھوڑ کراپنے علم  و مہارت کے خزانے کو عمل میں لائیں تاکہ ہمارے تعلیمی نظام میں بہتری آ سکے۔

اِس طرح اسکول میں بچوں کو سیکھنے کے مواقع دینے سے بچے سیکھتے ہیں نہ کہ ایک   ٹیچر کی  کلاس روم میں کھڑا کرنے سے۔ آپ نے دیکھا ہوگا  کہ اکثر اسکول اور کالج  فخر سے یہ کہتے ہوئے  نظر آتے ہیں کہ ان کے پا س دنیا کے بہترین اداروں سے تیار کردہ استاد ہیں   اسطرح اگر آپ کسی بھی تعلیمی وزیر کو سنیں تو وہ  یہ ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم نے پچھلے 15 سالوں میں  ٹیسٹ کے ذریعے بہترین لوگوں کا انتخاب کیا ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں 10 فیصد بھی بہتری نظر نہیں آرہی ہے۔ بلکہ اثر جیسے اداروں کی رپورٹ ہر گزرتے سال  میں بچوں کی کارکردگی کو نیچے جاتاہوا دیکھاتا ہے۔ اس  لیے ہمیں اِس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ بچوں کی کارکردگی بچوں کے اسکول میں ہونے اور اُن کو اچھی طرح پڑھانے سے  بڑھے گی نہ کہ  بڑی بڑی ڈگریوں یا بڑی اچھی اچھی باتیں کرنے والے اساتذہ کی تعداد کو بڑھانے سے۔ اِس لیے ہم سب کو چاہیے کہ باتیں کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دیں۔ کیونکہ بہتری عمل کرنے سے آتی ہے نہ کہ اچھی اچھی باتیں کرنے سے۔

اِسطرح ملک میں تربیت اساتذہ کے بہت سے پروگرام اور ادارے کام کر رہے ہیں یہ تمام ادارے مل کر پچھلے 25 سالوں سے (جب سے میں نے کام شروع کیا) سیکھنے کے لیے ایک بنیادی نقطہ “سیکھنے کے عمل میں بچوں کی شمولیت  ضروری ہیں اور ان کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے باہمی آموزش  استعمال کرنا چاہیے۔”پر اپنی تربیتی ورکشاپ تیارکرتے ہیں اور باہمی آموزش کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے اساتذہ کے لیے  ان تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ملک میں اساتذہ  کی ایک بڑی تعداد باہمی آموزش کے مختلف طریقوں اور اس کی اہمیت پر گھنٹوں بات کر سکتے ہیں بلکہ کچھ لوگ تو ان طریقوں کے ماہر(گفتگو کی حد تک) بن چکے ہیں۔ لیکن جب ہم ان اساتذہ کے اسباق کا مشاہدہ کرتےہیں تو وہ ویسے ہی پڑھاتے ہیں جیسے 40 سال پہلے پڑھایا جاتا تھا۔اِسطرح یہ ساری کاوشیں گفتگو تک ہی رہ جاتی ہے عمل کا سفر نہیں طے کر پاتی ہیں، اور نہ ہی  کلاس روم میں تدریس کے عمل میں  کوئی بہتری یا تبدیلی یکھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لمبے لمبے تربیتی پروگرام  کے بجائے مختصر دورانیہ کے چھوٹے چھوٹے پروگرام ترتیب دیئے جائیں جہاں صرف دو یا تین حکمت عملیوں کو سکھایا جائے اور اس بات کو یقینیً بنایا جائے کہ اساتذہ اِن حکمت عملیوں کو اپنی تدریس کے دوران عمل میں لائے      تاکہ کلاس روم میں بچوں کے سیکھنے  کے عمل میں آسانی  اور تبدیلی آسکے۔ ورنہ پچھلے 25 سالوں کی طرح ورکشاپ کی مدد سے اساتذہ کی نوٹ  بک، فائل میں  ہیڈ آؤٹ کی تعداد   اور شرکت کے سرٹیفکیٹ کی تعداد بڑھتی رہے گی عملی طور پر حالات جوں کا توں ہی رہیں گے۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

15 thoughts on “بہترین انسان عمل سے پہچانا جاتا ہے۔”
  1. very well said. We are not good enough but atleast when we enter in the classroom we should have an enthusiasum to give our best to our future. loyality and sincerety of each individual with his profession is extremely needed

  2. Very well sir. We have to justify our role in the society with sincerely as we can make the examples.

  3. Good points are highlighted sir, these are the factors in our society. It will be good we have to think critical as we can first adopt good practices in us then to transfer to others.

  4. بلکل سر انسان اپنے سے ھی پھچانا جاتا ہے أپ کی خوبصورت تصویر کے ساتھ أپ کا رسرچ صبح ھی أپ کا رسرچ تجزیہ پڑھا سر أپ کی نوازش جو اھم ٹاپک پے بات کی جس طرح ایک سکے کے دو پہلو ھوتے ھیں اسطرح علم اور عمل ایک دوسرے سے جڑے ھوے ھیں علم کے سوا عمل اور عمل کے سوا علم کچھ نھیں ھوتا أپ نے میرے خیالوں کی ترجمانی کی کہ کیوں اتنی ٹرینینگ پرگرامس یا بھترین ڈگریوں یا قابلیت کے باوجودھماری تعلیمی مجموعی کرکردگی وہ نھیں أگے بڑھ سکی اس کی بنیادی وجہ ھمارا ناقص تعلیمی نظام ھے اگر میں سرگرمی کی بنیاد پے اکیلے پڑھاتا یا اساتذہ کو ٹرینڈ کرتا ھوں تو باقی اساتذہ اسی تاڑ میں ھوتے ھیں کہ کس طرح یہ أدمی جو بھتر تبدیلی لانے کی کوشش کر رھا ھے اس کو نیچے گرایں یہ ٹیچر جیلسی ھے یا ایک پلانینگ کے طور پے سرکاری اداروں کی نجکاری کی سازش خیر جو بھی ھو ایک ٹیچر کے ناتے ھمیں ھر مشکل حالات سے لڑھنا چاھیے اور ٹيچنگ ایک ٹیم ورک بھی ھے ایک میں خامیہ ھو تو دوسرااس کو پر کرے ایک دوسرے کی مدد کرنا رفلیکٹ کرناپلانینگ کرکے پڑھانا ھمارہ فرض ھے پر ھمارے یھاں پڑھانے والے اساتذہ کو ڈی گریٹ کیا جاتا ھے اس کا سبب یہاں جاگیردارانہ نظام ھے وڈیرے کا بیٹا پراویٹ اسکول میں پڑھتا ھے وہ نھیں چاھے گا سرکاری اسکول کے بچے اس سے أگے بڑھے یہ ایک حقیقت ھے جب ھم اساتذہ نے ٹیم ورک میں پیرڈ واعز پڑہانا شروع کیا بھترین رزلٹ ملی أج وہ بچے ڈاکٹر انجنیر یا جج ھیں یا اچھے انسان ھیں پراویٹ اسکول سے بچے بھی ھمارٕے اسکول أنے شروع ھوگے تو پھلے ھماری ٹیم اساتذہ کی ایک سازش کے تحت توڑی گی اب اس اسکول سے ھماری جبری بدلی ھوگی پھر بھی گاوں میں ھم پڑھا رھے ھیں اور شھروں سے زیادہ گاوں کے بچوں کو تعلیم کی پیاس ھے کیونکہ وھاں کوی سھولت یا مقابلہ بازی نھیں میرا مشن اپنے اسکول کو أن لإن کلاسز میں تبدیل کرکے ایک ماڈل اسکول بنانا ھے جس پہ میں أپ سے بھی مدد چاھتا ھوں شکریہ سر

  5. اچھا لکھا ہے جناب
    سارا قصور فرد کا نہیں ہوتا۔ فرد کی عادات و اطوار طے کرنے میں طاقتور محرکات کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کو سپراسٹرکچر کہا جاتا ہے۔ اس لئے یہ ذمہ داری فرد کے ساتھ اس پورے نظام اور اس کے سرکردہ سپراسٹرکچر کے اوپر بھی آتی ہے۔

  6. جزاک الاللہ سر بہت شکریہ اس خوبصورت تحریر کیلۓ مجھ جیسے نالائق کیلۓ ایسی تحریر بہت ضروری ہے اللہ ہمیں استقامت عطا فرماۓ اور عملا جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرماۓ امین

  7. بہت خوب۔ عمدہ تحریر۔

    قرآن کریم میں سورہ الصف آية ۲ آیہ میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *