Tue. Jun 25th, 2024
Muhammad Yusuf Co-founder & Head Marketing

ہم روزانہ  کی بنیاد پر بچوں کے مختلف رویوں کی  وجہ سے غصہ کا اظہارکرتے ہیں، ان پر چیختے چلاتے ہیں، بلکہ کچھ حد تک ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟ وہ کیوں عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں؟ دوسرے بچوں کو تنگ کرتے ہیں یا خاموشی سے اپنے آپ کو ناکام سمجھ لیتے ہیں ہمیں ان رویوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے  نہ کہ ان سے الجھنے کی۔ اسطرح ان رویوں کو سمجھ کر ہم اپنے آس پاس کے بچوں کے لیے ایک مثبت ماحول بنا سکیں گے جس میں  رہتے ہوئے  بچے اپنے علم و مہارتوں کو پروان چڑھا سکیں گے۔

بچے بنیادی طور پر بڑوں اور اپنے ساتھیوں کی توجہ جاہتے ہیں۔اکثر ان کی نفسیاتی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں، لطیفے بناتے  ہیں ،الگ طرح کے لباس پہنتے ہیں، روتے ہیں ،شور مچاتے ہی، اچھل کو د شروع کردیتے ہیں ،یعنی ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ان کو توجہ حاصل ہو سکیں۔ بچوں کے ان رویوں کی وجہ سے اکثر والدین اور اساتذہ چڑچڑاپن اور غصہ کرتے ہیں لیکن کبھی کھبی ان مضحکہ خیز حرکتوں کی وجہ سے ہنسی بھی آتی ہے۔ ان رویوں کی وجہ سے والدین اور اساتذہ بچوں سے باربار شکایت کرتے ہیں اور اُنھیں روکنےکی کوشش کرتے ہیں ۔آپ کے غصہ یا شکایت کی وجہ سے یہ بچے عارضی طور پرتو  رک جاتے ہیں لیکن توجہ حاصل کرنے کے لیے وہی رویہ دوبارہ دوہراناا شروع کر دیتے ہیں اگر آپ اس طرح کا رویہ اپنے بچوں میں بار بار مشاہدہ کر رہے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو چاہیے کہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ان بچوں کے ساتھ گزارے۔ بچوں کو احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے کتنا اہم ہیں اور ان کے کئے گئے کام پر اپنی رائے کا اظہار کریں انکی  کامیابیوں پر ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ناکامیوں پر ان کے ساتھ  مل کر غور و فکر  کریں اور بہتری کے لیے حکمت عملی تیار کریں۔

اس طرح کچھ بچوں کو اپنی طاقت دکھانے کا شوق ہوتا ہے یعنی وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کتنی طاقت رکھتے ہیں یا  دوسروں سے کتنے بہتر ہیں۔ یہ بچے اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے لڑائی کرتے ہیں، دوسرے بچوں کو چھیڑتے ہیں ، نافرمانی  کرتے ہیں ،اساتذہ اور والدین سے تعاون نہیں کرتے ،ضد کرتے ہیں ،اور اگر کوئی کام کہا جائے تو  مزاحمت  کرتے ہیں۔  بچوں کے ان رویوں کی وجہ سے  اکثر والدین اور اساتذہ  ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں اوراُنھیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی طاقت کو چیلنج کیا جارہا  ہے۔  رد عمل کے طور پر بچوں کو جسمانی سزا دی جاتی ہے یا ان پر چیخ و پکار کی جاتی ہے ۔بچے ان اقدامات کے جواب میں زیادہ سختی سے مزاحمت کرتے ہیں یا ہچکچاتے ہوئے  کچھ وقت کے لئے ہماری بات مان لیتے ہیں۔ بچوں کی اِس نفسیاتی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اساتذہ اور والدین دونوں کو ان بچوں کے ساتھ مسلسل کام کرنے کی ضرورت  ہے۔ہمیں ان بچوں کو زیادہ سے زیادہ با معنی  کام میں  مشغول کرنے کی ضرورت  ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرسکیں  اسطر ح نہ صرف وہ  پرسکون  رہ سکے گے بلکہ اُنھیں  کامیابی کا احساس ہو سکےگا۔ ان کے ساتھ ایسی سرگرمیاں  کریں جس   میں  وہ اپنے جذبات کو بہتر انداز میں منظم کرنا سیکھ سکیں۔

اس طرح بچوں  کے منفی رویہ کی ایک بنیادی  وجہ بدلہ لینا بھی ہے اس کے لئے وہ دوسرے بچوں پر تشدد کرتے ہیں ،بدتمیزی کرتے ہیں، آس پاس کی چیزوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، آس پاس کے لوگوں کو غصے یا حقارت سے دیکھتے ہیں منفی رویوں کی وجہ سے ہمیں بچوں کی جانب سے مسترد ہونے کا احساس ہوتا ہے اور ہم بھی بچوں سے بدلہ لینے یا صلح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جوکہ علاج کے بجائے مزید بگاڑ کا باعث بنتا ہیں۔ یہ بچے ماضی میں خود اس طرح کے منفی رویے کا شکار ہوئے ہوتے ہیں جس کا وہ بدلہ لے رہے ہوتے ہیں ۔ہمیں چاہئے کہ ان بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار کر ماضی کے اس بُرے تجربے کو بھلانے میں ان کی مدد کریں ۔ منفی اور مثبت رویوں کے درمیان فرق اور اس کے نتائج کو سمجھنے میں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ اور ان کے ساتھ ایسی سرگرمیاں کریں جس سے اُن کے اندر زیادہ سے زیادہ مثبت سوچ اُبھر سکے۔

 بچےاپنے آس پاس کے لوگوں پر بھروسا کرتے ہیں ہم اپنی لا علمی کی وجہ سے بعض اوقات یا تواتر کے ساتھ بچوں پر منفی رائے کا اظہار کرتے ہیں جیسے کہ” میرا بچہ  ریاضی کبھی  نہیں  سیکھ سکتا”،”اس کی انگریزی کبھی بہتر نہیں ہو سکتی”۔ بچے چونکہ آپ (والدین یا اساتذہ) پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اس لئے انہیں یقین ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لیے اسطرح کے  بچے آسانی سے اپنی شکست مان لیتے ہیں اور کوشش ہی نہیں کرتے بلکہ بہت سی سرگرمیوں میں حصہ  ہی نہیں لیتے ہیں۔ اس طرح وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں، منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں  اور خطرناک حد تک مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہمیں اِن بچوں کو احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح سب کچھ کرسکتےہیں ۔اُنھیں چھوٹے چھوٹے مقاصد دے جنھیں وہ تھوڑی بہت جدوجہد کے ساتھ حاصل کر سکیں۔ اِن بچوں کو احساس دلائے کہ آپ اُن کی کامیابیوں سے خوش ہیں۔۔ اُنھیں منفی تنقید سے زیادہ زیادہ سے دور رکھیں کیونکہ منفی تنقید ان کے کام کرنے کے جذبہ پر منفی انداز میں اثر انداز ہوسکتا ہیں۔

ہمیں بچوں کے منفی رویوں  پر ان کو جسمانی اور روحانی سزا کے بجائے ان کے رویوں کو سمجھے کی ضرورت ہیں تاکہ مناسب حکمت عملیوں کے ذریعے ان منفی رویوں کو مثبت رویوں میں تبدیل کرسکیں۔ ورنہ ہم اپنے  منفی ردعمل(سزائیں)کے ذریعے مزید بگاڑ پیدا کردے گے۔  اس لئے ضروری ہے کہ ہم اساتذہ اپنے کمرہ جماعت میں ایک  مثبت ماحول ترتیب دیں جہاں ہر بچہ سیکھنے کے عمل میں شامل ہوسکیں، آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرسکیں،  بغیر کسی خوف کے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکیں۔

By Muhamamd Yusuf

The writer is Pedagogy Expert at SIPD. He can be reached at m.yusuf.edu@gmail.com

17 thoughts on “بچوں کے منفی رویے اور ہمارا ردعمل”
  1. Sir, this article is really admirable and very informative to know the consequences of negative behavior of children. An interesting thing in this article is that you have shared such good ideas on how to deal with this kind of behavior and to do it with positive and learning-oriented activities.
    Sir, I would be very happy if you write an article on a subject that little confused me. Parents of children and their teachers often complain that children often steal things from the children of their classmates, siblings, relatives, and also neighbors. needless to say that This is a good habit. I hope you will review this topic and tell us a positive solution. Thanks

  2. It is nice to read the article. It helps me as a parent to reflect the behavior of my children. Dear Editor please keep publishing such article which gives us practical inside.

  3. It is nice to read the article. It helps me as a parent to reflect the behavior of my Children. Dear Editor please keep publishing such articles which give use practical knowledge.

  4. Its true as parents and teachers we are not aware about children’s needs especially emotional need,
    The write up is food for thought!! ?

  5. Behtreen article parents aur teachers k lie bht mufeed article parents ka bachon ko proper time na dena aur teachers ka bachon ko only parhana tabiyat na krna bachon ko alag track pr le ja rha he
    Parents ko apne bachon ko time dena chahiey discussion krni chahiey hr sahi aur galt bat pr taky unhen pata chale mere lie kia galat he aur kia sahi tabhi un k andar confidence peda ho ga,..

  6. بہت خوب ۔ اپ نے بہت ہی ا ہم
    موضوع کا انتخاب کیا ہے میرے خیال میں
    اس قسم کے بچے بڑے ہو کر بھی نہیں بدلتے . بلکہ ارو زیادہ مشکل اور پریشان کن ہو جاتے ہیں اور دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے دوسروں کی زندگی میں مداخلت کرتے ہیں اور دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں سے الگ ارو اہم ترین سمجھتے ہیں اور قسم کے لوگ آپ کے اور ہمارے آس پاس نظر آتے ہیں آپ کے افس ارو کے ملنے جلنے والوں میں ! زار غور کرنے کی ضرورت ہے

  7. یہ بات بالکل بجا ہے کہ ہر بچے میں ایک ضدی فطری رجحان موجود ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ والدین کا اپنی بات کو زبردستی منوانا ہے .ضد بچہ نہیں کر رہا ہوتا وہ ہم خود بچے سے کر رہے ہوتے ہیں۔ اور بچہ یہ سمجھتا ہے کہ ماں یا باپ مجھ سے ضد کر رہے ہیں۔کیونکہ بچے یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جائے۔بچوں کے خیال میں جو وہ چاہتے ہیں انہیں کرنے دیا جائے لہذا اگر آپ بچے کے ساتھ تنقید کریں گے تو وہ بھی آپ کو اسی طریقے سے جواب دے گا لہذا آپ کے گھر میں بچوں کے لیے یا بڑوں کے لئے کچھ قوانین واضوابط یا اصول ہونے چاہیے۔ like develop some routines in ur child.کچھ اصول بنے ہونے چاہیے اور ہر شخص کو اس کو لازمی عمل کرنا چاہیے ۔اور اس طرح جو چھوٹے بچے ہیں وہ سب بڑوں کو دیکھ دیکھ کر ہی سیکھ جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے گھر میں اس مقررہ وقت پر یہ کام ہوتا ہے اور یہ کام نہیں ہوتا رات دس بجے گھر کی لائٹ بند ہوجاتی ہیں اس کے بعد کوئی بھی بچہ یا ٹی وی ٹی وی نہیں دیکھتا ۔آپ کو بھی ایک کنٹرول انوائرمنٹ میں بچے کو آزادی دینی چاہیے جیسا کہ یہ کمرہ ہے اور بچے کو اجازت ہے کہ وہ اسی کمرے میں جو مرضی کریں لیکن اسے وہ باہر نہیں جا سکتا لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ آپ کے اصول بہت زیادہ strict ہوں ۔اور ایسا بھی نہیں کہ بچے کو بالکل ہی کھلی چھوٹ دے دی جاے کہ وہ جو مرضی کرتا رہے۔اس کے لئے Limitations میں رہ کر proper چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ آپ کے گھر میں کچھ اصول سیٹ ہونے چاہییں ۔جن پر عمل کرنا ہر ہر فرد کی ذمہ داری ہے ۔
    2۔بچوں کو وقت دیں
    3۔بچوں کے ساتھ مناسب اور مثبت رویہ اختیار کریں ۔
    4۔اپنی اور بچے کے درمیان ایک رابطہ بنائیں ۔
    5۔بچے کی اچھی باتوں کو سراہیں ۔
    6۔بچوں کو اپنی بات منوانے کے بجائے ان کو دوسرے آپشن دیں ۔
    7۔گھر کا ماحول پرامن اور پرسکون رکھیں ۔
    8۔بچے کی ضد پر صبر اور پرسکون ہونے کا مظاہرہ کریں ۔ان کی رائے لے ۔ان کے خیالات کا احترام کرتے ہوئے اور سچویشن کو ہینڈل کرتے ہوئے پھر آپ اپنی رائے نقصان یا فائدہ بچے کو سمجھاسمجھائیں ۔
    These all suggestions from my side.
    uzma Rehman

    1. Thank you Ms Uzma for your suggestion. It looks that you have ideas and experience of Education Sector. Why don’t you write some of reflection on experience for this web magazine. Regards

  8. Sir i have appricate for your written views. So satisfactory for you .poisitive way pyscology but teachers learning process skill a good out of children’s. Teachers attitudes shall effect for mind It is interest for seeking a good improved and knowledge fifty percent teachers not knowledge class room is learning methods. I hope yours views wiritten read affect of postive ways.perssons.❤❤❤❤❤

  9. There are examples where parents pay their due time to their children; still, the children need more time. That irritates parents as they need rest time after tiring work hours. One parent shared with me that he arranged coaching for his children to have rest time. Means handing over children to tutor to have some rest time. One aspect of increasing coaching in our society.

  10. It is an excellent write-up which every parent should read and try to fix themselves in the discussed situations. The given article made me to reflect upon my own practices.

  11. This article is very informative for teacher’s and parents .they could not understand their children,s psychological problems after read this article they guide properly

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *