Fri. Jun 14th, 2024
Uzman Rehman

توجہ حاصل کرنے کی عادت عام طور پر ان بچوں میں  ہوتی ہیں  جو بچپن سے تنہائی اور نظراندازی کا شکار رہے ہوتے ہیں ۔ان میں توجہ حاصل کرنے کی طلب اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ اس کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کے تیار ہوتےہیں ۔

بچپن کا تقاضہ یہ ہے کہ اسے معصوم رہنے دیا جائے،جبکہ تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ایک صبر آزما اور وقت طلب ہوتی ہے۔اس لیے یہ ذمہ داری والدین، استاتذہ ،خاندان ہمسائے سب کی ہے کیونکہ یہ بچے پورےمعاشرے کا مستقبل ہیں۔کیونکہ ہر بچے کی اپنی ایک خاص جگہ ہے ۔توجہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے بچوں کو   حال  میں رکھیں گے ۔ماضی یا مستقبل  میں رکھ کر ہم ان کی اس نفسیاتی ضرورت کا احاطہ نہیں کرسکتے ہیں ۔

بطور استاد جب ٹیچر  کلاس میں جاتے ہیں تو کیا وہ ایک توجہ دینے والا استاد ہے ؟ کیا ان کی نظروں میں ہر بچہ ایک ہے؟اورتمام بچوں کو  برابری کا پیار اور عزت دیتا ہے؟ دوسری اہم بات بطور والدین کیا ہم اپنے بچے کو پوری توجہ کے ساتھ کوالٹی ٹائم دے رہے ہیں؟کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بچہ اپنی بات کہہ رہا ہوتا ہے اور والدین اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔یعنی کہ والدین بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے  اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اور بچے کو مکمل توجہ نہیں مل پاتا ہے ۔مثال کے طور پر بچہ جب اسکول سے گھر آتا ہے تو اس کے دماغ میں سارا دن کی مصروفیات یا روٹین چل رہی ہوتی ہے مثلا  اسکول میں آج یہ  ہوا ،دوستوں کی باتیں پڑھائی کی باتیں ،یا  فلاں بچے نے اس سے یہ کہا یہ تمام باتیں بچہ اپنی ماں یا والد سے شیئر کرنا چاہتا ہے  مگر آپ مکمل توجہ کے ساتھ آپ اسے وقت نہیں دے پا رہے ہوتے تو وہ بچہ کنفیوز ہو جائے گا کہ میں اپنی بات کہوں   یانہ کہوں ؟جس سے اس کی اٹینشن بھی جاتی ہے اور  کئی بار بچےایک بیماری کا شکار بھی ہو جاتے ہیں جسے attention deficit disorder کہتے ہیں جو بچے کی  تعلیمی زندگی  میں اور  بعد میں پیشہ وارانہ رندگی میں کافی نقصان  پہنچاتی ہے۔اور بچے  اٹینشن سیکر بن جاتے ہیں.لہذا ہمیں اپنے بچے کے لیے اتنا وقت نکالنا ضروری ہوتا ہے کہ انکو توجہ ملے اور وہ بھی اپنے اندر توجہ دینے کا عنصر پیدا کریں۔ تاکہ وہ بھی جب کسی کو سنیں  تو توجہ کے ساتھ سنیں ۔

آپ جب بچے کی بات سن رہے ہو تو مکمل طور پر اس لمحے اپنے بچے کےساتھ ہوں،توجہ کے ساتھ ہوں ،اس میں حصہ لیں اس کی بات میں حصہ دار بنیں۔ فوراًنتائج تک نہ پُہنچے  ۔مثال کے طور ہم  پر بچے کی بات کا پہلا جملہ سنتے ہیں اور جب ہی ہم اس کو جج کرنے لگ جاتے ہیں اس کو آگے بولنے سے روک دیتے ہیں یہ بچے کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے بہت ہی نقصان دہ ہوتا  ہے ایسا بالکل نہ کریں۔بچہ جب اپنی بات کہہ رہا ہے تو اس وقت کچھ خاص وقت کے لئے اپنا موبائل لیپ ٹاپ یا ٹی وی یا اپنی دوسری مصروفیات سے دھیان ہٹا کر تھوڑی دیر کے لیے اسی لمحے میں آجائیں اور اپنے بچے کی پوری بات سن لیں ۔اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ بچہ نے اسکول سے گھر آکر یہ دیکھا ہے کہ امی تو مصروف ہیں،اور شام تک مصروف ہیں۔اور ایسی بہت ساری باتیں جو وہ اپنی ماں سے شیئر کرنا چاہتا ہے جو اس کے دماغ میں چل رہی ہوتی ہیں اور جو اس نے سوچی ہوتی ہیں ماں کی مصروفیت کی وجہ سے کہہ نہیں پا رہا کیونکہ بچے زیادہ دیر تک باتیںاپنے اندر نہیں رکھ سکتے۔کیونکہ زیادہ تر باتیں رکھنے سے دماغ میں جگہہ بھرجاتی ہے۔جو کہ بچے کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے لہذا یہ نوبت آنے ہی نہ دیں ۔ لہذا بچہ گھر آئے اور آتے ہی  اپنی مصروفیات میں سے 10 یا 15 منٹ نکال کر بچے کی پوری بات سنیں ۔ فوراًنتائج تک نہ پُہنچے  ۔درمیان میں اپنی کوئی بات نہ رکھیں۔کیونکہ بچہ اپنی بات شیئر کرنا چاہتا ہے جو بھی اس کے دماغ میں بھرا ہوا ہے اسے خالی کرنے کا اس سے اچھا طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا ۔ بچہ آپکی زندگی کا بہت ہی پیارا حصہ ہے۔اس سے بڑا حصہ آپ کے لئے کوئی اور نہیں ہوسکتاہے۔اپنے بچے کو انجوائے کریں، اس سے بھی بڑی سیریل ،اس سے بھی بڑی کہانی ،جوآپ کا بچہ لکھ رہا ہوتا ہے اور اس کہانی کا پارٹ بھی آپ بنتے ہیں اور  اس کہانی میں ہیرو یا ہیروئن بھی آپ ہوتے ہیں کیونکہ بچہ آپکو اسی  زاویہ سے دیکھتا ہے۔جس زایہ سے آپ اس کو دیکھتے ہیں یا  اُسے دیکھاتے ہیں۔کیونکہ بچہ سب سے زیادہ آپ دیکھ کریا آپ کے ساتھ رہ کر سیکھ رہا ہوتا ہے ۔ لہذا مکمل طور پر مکمل توجہ اور مکمل بھرپور وقت   اپنے بچے کو دیں تاکہ اس کی بھر پور نشوونما ہو سکیں۔

جس لمحے میں بچہ آپ کے ساتھ بات کر رہا ہے یا آپ کے ساتھ مصروف ہو ،  بچے کو ایسامحسوس ہوناچاہیے کہ آپ کا دماغ کہیں اور نہیں چل رہا اور درمیان درمیان میں بچے سے پوچھتے رہیں اچھا پھر کیا ہوا؟ یہ کیسے ہوا؟ پھر تم نے کیا کیا ؟ درمیان میں اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔ “اچھا بہت خوب! “،”اور بتاؤ! “اسی طرح جب آپ بچے سے بات کرتے ہیں تو بچہ آپ کے سامنے کھل کر آ جائے گا اور اپنے دماغ کو فری کر پائے گا اور آپ کی مکمل توجہ  کا فائدہ لیتے ہوئے اپنی توجہ بڑھا پائے گا۔

مختصراًاِن بچوں میں مسلسل دسروں کی توجہ طلب کرنے کی جستجو ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے وہ ہرممکن کوشش  یا منفرد سرگرمیاں کرتےہیں۔ اس لئے بطور استاد یا والدین ہمیں بچوں کی اس نفسیاتی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے ان کو سننا چاہیے اور ان کی انفرادی کامیابیوں کو سرہانا چاہیے۔

15 thoughts on “بچوں میں توجہ طلبی کے مسائل  کا حل”
  1. Sometimes Children ask a question that we can not answer at that time?
    what we need to do at that time.

    1. Let us find the answer. If there is a questions which is researchable for the children, never answer. probe them and leads to the answer. or give him/her que to find the answer.

    2. بچے باز اوقات مشکل سوال بھی کرتے ہیں اور آسان سوال بھی ۔لیکن یہ سوالات آپ کے اور آپ کے بچے کے درمیان بات چیت اور اعتماد کا تعلق بڑھاتے ہیں ۔اگر آپ کا بچہ آپ سے سوال کرتا ہے تو اچھی بات ہے بچے کے دماغ میں کیا ؟کیوں ؟کیسے؟ کب ؟کہاں ؟جیسے سوالات جنم لیتے رہتے ہیں۔ کیونکہ بچہ مسلسل ایک تجسس کی حالت میں رہتا ہے .اس کی اپنی ایک خیالی دنیا ہوتی ہے ۔پہلے تو بچے کے سوال کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔کہ آپ کا بچہ آپ سے کیا کہنا چاہتا ہے۔ اس لئے بچہ اگر آپ سے کوئی سوال کرتا ہے اور آپ اس کا جواب نہیں دے سکتے تو ۔۔سچ تو یہ ہے کہ آپ جواب جانتے ہی نہیں ! یا اصل میں ہمیں خود ہی معلوم نہیں ہوتا کہ ہم نے اپنے بچے کو کیسے ہینڈل کرنا ہے ۔اور بعض اوقات اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ کا بچہ کس قسم کے سوالات کر رہا ہے؟کیا آپ سے وہ کوئی احمقانہ سوال کر رہا ہے ؟(اپکی نظر میں )یا کوئی سائنس بیسڈ سوالات کر رہا ہے ؟کیا جنرل نالج کے حوالے سے سوال کر رہا ہے؟اور آپکا بچہ کس ایج گروپ سے تعلق رکھتا ہے؟ لہذا بچے کو موجودہ صورتحال کے حوالے سے اور اس کی عمر کے حساب سے ہی handel کریں۔ اس کے لیے ایک بہترین مشورہ تو یہ ہے کہ والدین اپنے علم کے ذرائع کو بھی وسیع کریں۔اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ بچہ جو بھی سوال کرے اس کا جواب والدین یا استاد کو آتا ہوں ۔بطور استاد اگر میرے بچے مجھ سے کوئی سوال کرتے ہیں اور اس سوال کا جواب مجھے نہیں آتا ۔اور بچوں کو یہ جواب دوں کہ آپ کلاس کا ڈسپلن خراب کرتے ہو ۔۔خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ !اور میں ان کے سوال کو مسترد کر دوں ۔۔اس سے ایک تو بچے میں کانفیڈنس کی کمی ہوگی اور اس کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی اور ان کا کا تجسس بھی ختم ہوگا اور پڑھائی کی طرف موٹیویشن بھی کم ہو جائے گی ۔ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اپنے سوالات آپ سے پوچھ سکیں میں بجائے اس کے کہ بچوں کو غلط علم دوں میں ان سے کہتی ہوں آپ اس سوال کا جواب کل ڈھونڈ کر آنا ۔ اور پھر کل مجھے بتانا اس دوران میں مجھے بھی وقت مل جاتا ہے کہ میں اس سوال کو سرچ کر لو اور بچے کی صحیح انداز میں رہنمائی کر دوں ۔یا کبھی کبھی میں اس بات کو قبول کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتی کہ مجھے اس سوال کا جواب کیوں معلوم نہیں یا جواب نہیں جانتی ۔اور میں اپنے شاگردوں سے کہتی ہوں کہ اس کا جواب میں آپ کو کل دو گی۔ ۔ یا مثلا اگر آپ کے گھر کے بچے آپ سے کوئی سوال کرتے ہیں.So listen carefully and decide the best answer .سادہ آسان اور مختصر جواب دیں جتنا پوچھا ہے اتنا جواب دیں ۔سوال کا جواب دینے سے اس لیے نہ گھبرائیں کے آپ کو جواب آتا نہیں یا بچے کو انکار بلکل نہ کریں ۔ اور ان کی عمر بالکل چھوٹی نہیں ہے تو آپ اپنے بچے سے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ let we serch together
      ۔or
      let find out the answer together .
      شکریہ ۔

  2. Very well written as well explained it happens but we don’t care about that !
    Our children need us physically and mentally there growth is on us .
    Good work keep writing ?

  3. Masha Allah acha article tha aesa hota hai k mere Bache Apne khelo mein masruf hote Hain lekin Jese hi mein ya bacho ki Ami kisi se tawaju k Sath bat kerte Hain Hain to Bache Bache bar bar akar hum se bt se bech me bt kerne ki Koshish kerte Hain kia ye b alamat hai attention deficit disorder ki?

    1. Try to make some ground rules at your home and make sure for Kids Do Not Cross them.
      مثلا اگر آپ کسی سے بات کر رہے ہیں یا اپنی وائف کے ساتھ بیٹھےبات کر رہے ہیں اور بچہ اگر غیر ضروری کسی بات کو لے کر جان بوجھ کر آپ کو تنگ کرتا ہے اور بچے کی عمر بھی اگر سات سال تک ہے یا سات سال سے اوپر ہے اور اس عمر میں بچہ باتیں سمجھنے کے قابل ہو رہا ہوتا ہے تو بچوں کو پیار سے تنبیہ کر دی جائے کیا آپ ہماری بات چیت میں مداخلت نہ کریں اور یہ اچھا رویہ نہیں ہوتا ۔میں آپ کے سوال کا جواب دوں گا لیکن پہلے مجھے میری بات مکمل کر لینے دیں ۔یا میں آپ کی مما سے بات کرکے آپ کے پاس آتا ہوں پھر آپ کی باری ہو گی۔میں آپ کی بات سنوں گا ۔بار بار دہرانے سے بچے یہ باتیں سیکھ جاتا ہے ۔اور اگر چھوٹی عمر کے بچے ہیں چار پانچ سال کے اور غیر ضروری طور پر آپ کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔تبھی میرے خیال سے بچے کو صبر سیکھانا چاہیے ۔لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے بچہ آپ سے واقعی کچھ کہنا چاہتا ہو۔اور آپ اسے جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہوں ۔لہذا یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ سچویشن کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں ۔

  4. Dear MS Uzma, It is nice to read your article. you have beautifully covered the issue of attention seeker children. Hope you will write more from your classroom experience.

    1. ماشاءاللہ بہت بہترین آرٹیکل لکہا گیا ہے. میرے نزدیک بچے توجہ طلبی کا شکار تب ہوتے ہیں جب والدین اپنے بچوں میں فرق کرکے کسی ایک بچے کو زیادہ لاڈ پیار کرتے ہیں. دوسرا یے کے ورکنگ وومن اپنی مصروفیات کے وجہ سے بچوں کو موبائل اور دیگر الیکٹرانک گیجٹ دیگر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں. لہذا اپنے بچوں کو برابر وقت دیں اور برابری کے بنیاد پے سلوک کریں.

    2. Thank you sir for giving me this opportunity to explore or share my ideas.
      Yes definitely i will share more of my classroom experiences.

  5. Very informative and helpful for parents and teachers, who treat children badly without knowing its negative impacts on them.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *