Fri. Jun 14th, 2024
Darvesh Karim

کہتے ہیں کہ کسی بھی ا سکول کی تعمیر و ترقی کے لیے کئی عوامل  درکارہوتے ہیں، ان عوامل میں بچوں کے لیے بہتر اور مساوی تعلیم و تربیت کے مواقع ،  اسکول میں بہتر نظم و نسق چلانے کے لیے  مضبوط لیڈرشپ،    تدریسی عملے کی موجودگی، موثر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد،  والدین  کا اعتماد اوراسکول کی سرگرمیوں میں  ان کی شمولیت ،  جس  کو یقینی بنانے کے لیے ایک فعال ایس ایم سی کی موجودگی، جو ہر وقت اسکول کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیشہ ا سکول کی مدد کے لیے تیار ہوں۔

   اگر یہ تمام عوامل خواہ کسی گاؤں میں   ہوں   یا شہر  کےا  سکول میں   ، اگر پورا سال  مسلسل مہیا رہیں تو کوئی وجہ ہی نہیں کہ وہ اسکول ترقی نہ کرسکے،  بچے معیاری تعلیم حاصل نہ کر سکیں، اور اسکول معیاری تعلیم کا ادارہ نہ بن سکے۔


دور  د  راز اور آب و ہوا کے لحاظ سے سخت  ترین، لیکن ضلع استور کا  خوبصورت  ترین  گاؤں جو  ۷۰ گھرانوں اور ۴۰۰ نفوس پر مشتمل ہے۔

میں پچھلے دو سالوں سے ایک تعلیمی منصوبہ  جو گلگت بلتستان کے دور و دراز  علاقوں  میں خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم میں شراکت کے حق  اور اس میں اضافے  پر کام کر رہا ہے، کے ساتھ منسلک ہوں۔ یہ منصوبہ تعلیمی سال 2019-2020 کے دوران گلگت بلتستان کے  دو اضلاع، ضلع گھانچے اور  ضلع استور میں چلایا گیا۔ اس پہاڑی خطے میں سرکاری شعبے کی اسکولوں  میں تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد  کے لئے  یہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔  اس منصوبے کے مخصوص مقاصد  میں  اسکولوں کی ظاہری خدوخال کو جاذب بنانا اور  سیکھنے سکھانے کے عمل کو مزید موثر  بنانے  کے ساتھ ساتھ معاشرتی تحریک  میں اضافہ کرنا اور اسکول کے سرگرمیوں میں والدین کی شرکت کو یقینی بنانا  شامل تھا۔  ان مقاصد کے حصول کے لیے ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ،جن میں اساتذہ  کرام کی تربیت ، ایس ایم سی / ایم ایس جی کی تشکیل ۱ور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے تربیت کے مواقع، اسکولوں میں بچوں کو بیٹھنے کی سہولیات  کی کمی کو دور کرنے کے لیے  انڈر لے سمت  کارپٹ  اور چھوٹے گرانٹ کی فراہمی کےعلاوہ تعلیمی وسائل کی فراہمی وغیرہ بھی شامل تھیں۔

اس تعلیمی منصوبے کے مجموعی اثرات  بھی  اسکولوں میں نظر آنا شروع  ہو گئے  ہیں،  کیونکہ پروجیکٹ اسکولوں میں پہلی بار خود کے  بنائے ہوئے  اسکول ڈویلپمنٹ پلان آویزاں ہو  چکے ہیں اور اساتذہ تعلیمی سال کے آغاز سے ہی اس پلان  کی پیروی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ، والدین کی شرکت پر  خاص توجہ  دی گئی ہے،  جس  کے نتیجے میں، پروجیکٹ اسکولوں میں والدین اور کمیونٹی  کا کردار بڑھ رہا ہے،  گھر اور اسکول کے تعلقات کو خاطر خواہ  فروغ  مل رہا ہے۔  ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بچے  کو کامیاب کرنے  میں  مجموعی طور پر  پورا  گاؤں ، آس پاس کا ماحول ،  والدین کی مدد اور تعاون بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں خاندان ،  کمیونیٹی اور اسکول کا تعاون ہمیشہ بچے کی نشوونما  کے لیے بہت اہم ہیں۔ جب کنبے کے افراد اور کمیونیٹی  اسکول کے ساتھ سیکھنے والے طلباء و طالبات کے مدد  میں شامل ہوتے ہیں،  تو ، طلباء و طالبات اپنی تعلیمی کارکردگی اور سیکھنے کے نتائج میں بہتری لاتے ہیں۔ اسکولوں کے لئے کمیونٹی کی شمولیت ہمیشہ ہی توجہ کا مرکز رہی ہے اور مذکورہ پروجیکٹ نے بھی تعلیم میں بہتری کے لیے  اسی اہم طبقے پر توجہ مرکوز کیا۔ تاہم ، اس طبقے کی تعلیم میں شمولیت  ہمیشہ مختلف سیاق و سباق میں مختلف رہی ہے۔ کچھ اسکول کمیونیٹی کی شمولیت کے عمل میں بہت کامیاب  رہے ، جبکہ کچھ کو  کامیابی کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر اسکول،  کمیونیٹی کو شامل کرنے میں کامیاب ہیں ، تو  طلباء و طالبات کی سیکھنے کے عمل میں تیزی کے ساتھ ساتھ ، روزمرہ کے معمولات اور تعلیمی عمل میں بہتری لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اسی پروجیکٹ پر کام کے سلسلے میں مجھے اکثر اسکولوں میں جانے کا موقع ملتا  رہا۔ اور مختلف کمیونیٹیز کے ساتھ کام کرتا  رہا ہوں۔ ایک بار مجھے گلگت بلتستان کےبہت ہی خوبصورت ضلع استور کے ایک  دور افتادہ   گاؤں  میں موجود  واحد  گورنمنٹ پرائمری اسکول میں جانے کا اتفاق ہوا۔  اسکول کے اندرمجھے کچھ سرگرمیوں کو پورا کرنے کی خاطر سارا دن رکنا پڑا۔ یہ دن  خوبصورت  اور یادگار دن تھا۔   جو ماحول، جو سرگرمیاں اور جو تعلیمی نظارے سکول میں دیکھنے کو ملے وہ   یقیناً مثالی تھے۔  میں سمجھتا ہوں کہ   اسکول کی تعمیر و ترقی کے لیے اسطرح کے دن اور سرگرمیاں  اگر  مسلسل جاری رہیں تو یہ اسکول علاقے کی بہترین اسکولوں میں سے ایک اسکول بن سکتا ہے۔


اسکول کے اساتذہ بہت شوق سے کلاس کا مشاہدہ کررہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سیکھنے کی  بے حد چاہت رکھتے ہیں

اساتذہ اکرام کے ساتھ میٹنگ

یہ مئی کا خوشگوار مہینہ تھا،    اکتوبر کے بعد سردیوں کی ٹھنڈک اور برف کے تہہ در تہہ سطحوں سے کچھ عرصہ پہلے ہی اس علاقے کو چھٹکارہ مل چکا تھا۔ عموماً اس گاؤں میں سردیاں  اکتوبر سے شروع ہوتی ہیں اور اپریل تک برفباری اور سردی کا زور برقرار رہتا ہے۔ یوں سال میں تقریباً سات مہینے ٹھنڈ کا راج رہتا ہے اور مئی کے مہینے سے کھیتی باڑی اور دیگر سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے۔   اور موسم بہار کی خوبصورتی اپنی عروج پر  پہنچ جاتی ہے۔ آج کا دن ایک خوبصورت چمکتی  دھوپ کا دن تھا۔   اور سورج کی مدہم سی تپش زمین کو اور جسموں کو حرارت پہنچا رہی تھی۔ اسی طرح کے موسم میں دھوپ سینکنے کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے۔ اس لیے گاؤں کے سارے بزرگ، خواتین و حضرات گھر سے باہر نکل کر دھوپ سے لطف اندوز ہو  رہے تھے، اور کچھ کھیتی باڑی میں مشغول تھے۔   چونکہ پرائمری اسکول میں ویسے بھی کلاس رومز کی کمی تھی تو اساتذہ کرام نے  بھی تمام بچوں کو باہر دھوپ میں کلاس بندی کرائی ہوئی تھی اور دھوپ کے مزے لیتے  ہوئے تعلیم و تربیت  کا سلسلہ جاری تھا۔  اسی دوران میں سکول پہنچا۔  اساتذہ اور بچوں سے میری شنا سائی پہلے سے ہی تھی، لہذا  انہوں نےنہایت ہی گرمجوشی سے  مجھے خوش آمدید کہا۔

اسکول دورے کے        کئی       مقاصد تھے۔ جن میں سے اہم مقصد بچوں کے درمیان  آرٹ کا مقابلہ کروانا تھا۔ اور ایک دو اساتذہ کی    کلاس کا مشاہدہ کرنا تھا۔ ان  مقاصد کے  حصول کے لئے ماحول خاصہ ساز گار تھا۔ لہذا میں نے اساتذہ کرام کے ساتھ مل کر کلاس تیسری، چوتھی، اور پانچویں سے کچھ طلباء و طالبات کو چُنا جو ڈرائنگ مقابلے میں حصہ لینے کے خواہش مند تھے۔ اُن کو ڈرائنگ میٹریل دے دیا اور ایک خاص موضوع  پر  اپنی ا پنی    ڈرائنگ بنانے کے کام پر لگا دیا۔ اسکے بعد متعلقہ استاد کی  کلاس کا مشاہدہ اور ان کو فیڈ بیک دیا ۔  اسی دوران  سکول کی  تعلیمی  ماحول اور  عمل ایسے جاذب ہو گئے تھے کہ دوسرے اساتذہ کرام کو بھی بلا کر میں نے ایک ڈیمو لیسن کا اہتمام کیا ۔ کلاس رومز کی کمی کی وجہ سے ہم نے پہلے ہی اساتذہ کرام کو ملٹی گریڈ ٹیچنگ متعارف کروائی ہوئی تھی۔ اس لئے اسی انداز کے ٹیچنگ کے حوالے سے کلاس دوسری، تیسری، چوتھی اور پانچویں کے طلباء  کو ملا کر ملٹی گریڈ انداز کا ایک  ڈیمو لیسن لینا بڑا موثر رہا۔


ڈراَئنگ کے مقابلے میں انتہائی شوق کے ساتھ حصہ لینے والے طلباء و طالبات

چھوٹا سا گاؤں  ہونے کی وجہ سے گھروں میں بھی میرے وہاں پہنچنے کی خبر پہنچ چُکی تھی۔ لہذا اسی دوران کچھ والدین اور ایس۔ایم۔سی ممبران بھی ا سکول تشریف لے کر آئے۔ ا سکول میں بچوں کو بیٹھنے کے لئے فرنیچر کی کمی کی وجہ سے چند دن پہلے ہی   اسکول میں انڈر لیر   کارپٹ  ہم نے پہنچا دیا تھا۔  اور اسی کارپٹ اور انڈر  لیر  کو کمروں میں لگانے کے لئے اساتذہ کی مدد کے لئے والدین آ گئے تھے۔   انہوں نے آتے ہی کلاسوں کا ناپ تول ، پھر کارپٹ کی کٹائی اور لگانے کا کام شروع کیا۔ یوں  اسکول میں  ایسا مخلوط تعلیمی ماحول  اور سماء بنا کہ ایک طرف بچے ڈرائنگ میں مشغول ہیں،  تو دوسری طرف اساتذہ کرام ٹیچنگ /کو  ٹیچنگ اور ڈیمو لیسن لے رہے ہیں۔  اور اس وقت ہم سب کی یعنی اساتذہ کرام ،  والدین،   ایس ایم سی ممبران اور میری سوچ  غالباً یہی تھی کہ زیادہ سے زیادہ ہم بچوں کی سمجھ اور آگاہی کو کیسے بڑھا سکتے ہیں، ان کو ہم سب اپنی اپنی بساط کے مطابق کیسے تعلیم میں مدد اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں، تاکہ وہ اچھی تعلیم حاصل کر سکیں، اور کچھ نیا سیکھ  سکیں۔   


اسکول انتظامیہ کی مدد کے لئے کمیونٹی کی فعال شمولیت کا ایک انداز۔

جب والدین اور ایس۔ ایم۔سی اپنا کام کر چکے تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے پروجیکٹ اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے ان کے ساتھ  نشست کا اہتمام کیااور  یہ ایک عمدہ نشست  رہی، جس میں تعلیم کی اہمیت، بچوں کو سکول صاف صفائی کے ساتھ بیھیجنے اور گھرپرا سکول کے  کام کی نگرانی  کے حوالے سے بات چیت کی۔ اسی دوران ڈرائنگ میں مصروف بچوں کے پاس بھی جاتا رہا۔  اور ان کے کام کے حوالے سے ان کو مدد اور راہنمائی فراہم کرتا رہا۔  والدین اور ایس۔ ایم۔سی سے فارغ ہو کر مختلف کلاسز میں  بچوں  اور بچیوں کے ساتھ ان  کے کام  میں مدد فراہم کرتا رہا۔  اور آخر میں تمام اساتذہ  کرام کے ساتھ میٹنگ کی جس میں اسکول کے تعلیمی نظام کو اور بہتر کرنے  پر  گُفت و شنید کی۔ والدین کی شمولیت کو مزید موثر بنانے اور کلاس میں ٹیچنگ کے انداز کو  بھی مزید پر کشش بنانے پر بات چیت کی۔ پھر بچوں سے اُن کا ڈرائنگ کا کام جمع کیا ۔ اور بچوں کو اس سرگرمی میں  شوق کے ساتھ حصہ لینے  پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس وقت بچوں کی خوشی حقیقت میں دیدنی تھی۔الہذالقیاس،   گاؤں میں موجود واحد پرائمری اسکول کی تعلیم و تربیت کا معیار، والدین کی شمولیت،  نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں  اور خاص طور پر کثیرالجماعتی تدریس کے حوالے سے تعلیم و تدریس  کے معیار کو جب ایک ساتھ وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھا تو مجھے ایسا لگا کہ آج کا دن ایک خوبصورت ترین  اور یاد گار دن ہے۔  جب میں ان تمام سرگرمیوں کو مکمل کر کے  اسکول سے نکل رہا تھا تو ایک بچی کے یہ  الفاظ اور زیادہ خوش کر گئے۔  اُس بچی نے پوچھا کہ “سر آج اسکول میں بہت مزہ آیا ۔ اور سر آپ پھر کب آئیں گے”۔  انہی الفاظ کی چاشنی کو دل میں  محسوس کرتے ہوئےا سکول سے اور خوبصورت گاؤں سے  روانہ ہوتے ہوئے  تمام  اساتذہ کرام اور بچوں کا شکریہ ادا کیا اور ایک احساس ا طمینان کے ساتھ  روانہ ہو گیا۔


طلباء طالبات اپنےاپنے ڈرائنگ کے ساتھ

By Darvesh Karim

The author is an educationist and working as a Senior Instructor at the Aga Khan Univeristy.

2 thoughts on “بحیثیت استاد،اسکول کا ایک یادگار دن”
  1. You are a change agent Darvesh sab. Our system needs people like you. God bless you and God bless AKU for taking valuable initiatives in educational development.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *