Fri. Jun 14th, 2024

اس موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے بارہا سوچا کہ اس بے سروساماں زبان کے لیے بولنے کی طاقت اکٹھی کروں یا نہیں۔

پھر دلیل نے آواز دی  کہ “پابند سلاسل کو طوطی کی آواز کا سہارا اگر زندگی دے سکتا ہے” تو شاید میرے چند حروف کسی کے ذہن میں اس زبان کی اہمیت کواجاگرکرسکیں۔ آج کل اُردو بولنا خود کو کمتر سمجھنے کے مترادف ہو گیا ہے۔ جسے صاف لفظوں میں” مَعّیوب “سمجھا جاتا ہے۔ کہہ سکتے ہیں جب ہم اسے بولنا نہیں چاہتے پھر اِسے پڑھنا پڑھانا کیسا ۔یہ تو بعد کی باتیں ہیں کہ اِسے کیسے پڑھایا جائے ۔یہ ہماراقومی ورثہ ہے لہذا ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔

ان باتوں کے کرنے کا مطلب اساتذہ کو اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔ کیونکہ جب اہمیت نہ  ہو تو پڑھنے پڑھانے کا مقصد “فوت”۔

جہاں تک پڑھانے کی بات ہے تو حروف تہجی اس زبان کی بنیاد ہیں۔ سب سے پہلے اس بنیاد کو دیکھیں۔ ابتدائی کتابوں کے مطالعہ سے علم ہوا کہ بہت سے حروف تہجی ان کتابوں سے حذف کر دیئے گئے ہیں۔ جن میں “ھ” ،”ء” قابل ذکر ہیں۔ یہ تو تقریباً اب تختی میں ہوتے ہی نہیں ہیں۔ زبان کے بگاڑ میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اسی طرح “ژ” جوکہ فارسی زبان سے آیاہے اِسے بڑا ‘ز’ پڑھانا اور اسی طرح اور بہت سی غلطیاں نظر سے گذرتی ہیں۔ زبان کی روح کو مارا جارہاہے۔

ہم نے ہمیشہ اردو زبان کے لیے کہا ہے کہ کہ یہ مختلف زبانوں کا کا شِیرہ  ہے  جس نے بڑا ہاتھ عربی اور فارسی کا ہے  ان زبانوں میں الفاظوں کو بنانے کے لئے  زِیر ،زَبر، پیش، غُنّہ وغیرہ وغیرہ استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ الفاظ اپنے صحیح وزن کے ساتھ ادا کیے جا سکیں۔ جب ہم قرآن پاک پڑھتے ہیں تو اسے بھی بغیر اعراب کے صحیح پڑھنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ اعراب کے فرق سے معٰنی تبدیل ہو جاتے ہیں تو پھر آج کل کی کِتابوں س +ا+ر+ا  =سرا (سَرا ، سِرا) بریکٹ میں دیے گئے دونوں لفظوں کے معٰنی مختلف ہیں ہیں صرف اعراب کی وجہ سے اس طرح ج+ا+ل+ی=جالی/جالے یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ جالی ہے یا جالے۔ ظاہر ہے جناب ہی شناخت کر سکیں گے لیکن افسوس

ہم اس  زبان کی اہمیت کو نہ صرف ختم کر رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں اردو کو رومن اردو کے نام سے شناخت کروا رہے ہیں اور پھر دی گئی مثالوں سے میری بات کا وزن ثابت ہوگا اور یہ موبائل فون میں بے حد استعمال ہو رہی ہے

الفاظ کو اعراب کے ساتھ ان کے مکمل وزن کے ساتھ پڑھانے سے ہی ہم اصل اردو زبان کو زندہ رکھ سکیں گے۔ ہم اور ہمارے دل و دماغ اس زبان میں اظہار کے ساتھ جس تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ یہ ہم سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ اسی لئے آج اس زبان کے لئے قلم اٹھایا ہے

بقول شاعر

تونے جو پکارا ہے تو بول اٹھا ہوں میں ورنہ

میں فکر کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا تھا۔

لفظ کے اقسام لفظ کی آواز آواز اس کی ہیئت اگر دونوں اپنے خاص انداز کے ساتھ پڑھائے جائیں تو ہم اسے پھر سے زندہ کر سکتے ہیں ہیں
مثلاً چھوٹا “ک”اور بڑا”ق” یہ بھی ایک بڑی غلطی ہے بجائے آواز کے فرق کو بچوں کو پریکٹس کروانے کے، ہم اِسے پڑھا کر ان کی بنیاد میں کیل ٹھونک دیتے ہیں
آج خوبصورت انگریزی میں بولتے بچے ہمیں اچھے لگتے ہیں بالکل بولئے! وہ بھی ایک زبان ہے جسے سیکھنا چاہیے، بین الاقوامی ہے ،اس لیے لازمی سیکھئے ۔پر خود کی میراث کا گلا گھونٹ کر ہم کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور لاحاصل کی دوڑ میں اختتام ‘موت ‘پر ہوتا ہے پھر موت چا ہے ضمیر کی ہو یا احساس کی۔ اردو زبان ہمارے احساسات ،جذبات اور روح کی ترجمان ہے۔

بڑی اریسٹوکریسی ہے  اس زبان میں،

فقیری میں نوابی   کا مزہ دیتی ہے اردو ۔

ایک دور وہ بھی تھا جب داغ نے اردو کے لیے شعر لکھا کہ

اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ،

سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔

 اب تو دھوم دور کی بات، زبان ہی مردہ  ہوتی جارہی ہے ہم بحیثیت اساتذہ اردو کے تدریسی عمل میں نمایاں تبدیلی لا کر بچوں کو اردو زبان کی لطافت، شیرنی اور اس کے جز سے روشناس کروا سکتے ہیں ورنہ اردو زبان کے ساتھ ہماری شاعری ،ہمارا ادب ، ہماری تصنیفات  سب کی موت ہوجائے گی۔ نہ کوئی  میر تقی میر  ہوگا، نہ کوئی علامہ اقبال ،نہ کوئی قائد ہوگا نہ فاتح۔ ہم اپنی مثال ،اپنی شناخت کھو دیں گے۔ بحیثیت استاد اس پر محنت کریں تاکہ یہ شجر پھر سے باغ و بہار بن جائے۔

جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند،

کون کر سکتا ہے اس نخل کُہن کو سِرنِگوں۔

 اور ہاں آج کل یہ بات زدعام  ہے کہ بچہ تدریسی کِتابوں کے علاوہ کتاب ہاتھ میں نہیں لیتے۔جی بالکل  ٹھیک ! کیسے لے علاوہ کتاب ہاتھ میں جسے لے کر اسے دلی اور دماغی سکون میسر نہ ہو بیچارہ بچہ جو اس دور میں  نہ اردو کا رہا نہ انگریزی کا۔ اُسے تو آج کل انسانوں کے ادب کا علم نہیں وہ کیا جانے” اردو ادب ” مگر ابھی ہم زندہ ہیں  اور مشق جاری ہے۔ مایوسی کفر ہے اپنے حصہ کا کام کرتے جائیں ۔

ہو مشق سخن جاری تو جیت کا ڈر کیسا،

“دید کا ہونا تو نیت پر منحصر ہے۔

3 thoughts on “اُردو ہماری میراث”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *