Fri. Jun 14th, 2024
Principal Author: Tayib Jan Translator: Mohammad Yusuf

پاکستاں حکومت کے لئے اسکول سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد کو اسکولوں میں لانے اور اسکول  چھوڑنےوالے بچوں کی شرح کو کم کرنے کا چیلنج ،  ملک میں  بڑہتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کو کم کرنے جیسا دشوار معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان ایجوکیشن شماریات (2016-2017)کے مطابق  اس وقت ملک میں 22.84 ملین    بچے   اسکولوں سے باہر  ہیں جن کوا  سکولوں میں زیر تعلیم ہونا چاہیے۔ ورلڈ بینک نے ایک ملین مزید بچوں کا تخمینہ لگایا ہے ، جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں ، اسکولوں سے خارج ہونے کا خطرہ ہیں۔  اسطرح صرف ایک سال میں یہ تعداد 22.84 سے 23.84 ملین تک  پہنچ  سکتی ہے۔ مزید برآں ،  Covid  سے  پیدا شدہ حالات کی وجہ سے  بچوں کی ایک  بڑی  تعداد نجی اسکولوں سے  بھی خارج ہوسکتی ہے ، کیونکہ  اسکولوں کی بندش اور  والدین  کی آمدنی میں کمی کی وجہ اکثر والدین پر  تقریباً دس ماہ  تک  کے فیسوں کے بل    باقی ہیں۔  آج  ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اسکولوں سے خارج ہونے والے اور  اورا سکول سے باہر بچوں کے تعلیمی مسائل  سے نمٹنے کے لئے کوئی خاص اقدامات   ہوتے ہوئے نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔

 یہ موجودہ حکومت کو ان وعدوں کی یاد دہانی  کا صحیح وقت ہے جو 19 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان  نے قوم سے  افتتاحی تقریر میں  کئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ   ہم اسکولوں میں تعلیمی  معیار بلند کریں گے اور 22.5 ملین  اسکول  سے باہر بچوں  کے  مسائل کو حل کریں  گے ۔ اس مقصد کے لئے 2019 میں تعلیمی پالیسی مرتب کی گئی ہے  اس تعلیمی پالیسی کے فریم ورک کو پانچ ستونوں پر کھڑا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا  تھا، اول :قومی یکجہتی ، دوم:  معلومات کا موثر استعمال، سوم:  نظام تعلیم کی بہتر گورننس اور مالی استعداد  کو بڑھانا، چہارم: نئی ٹیکنالوجی کا استعمال ، اور ، پنجم:   فعال ابلاغی مہم۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوں  سکیں گیں۔ کیونکہ فی الحال ، مذکورہ بالا کوئی بھی  کام ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ، یا اگر کچھ  ہو   بھی رہا ہے ، تو قوم کے ساتھ یہ معلومات شیئر نہیں کی جارہی ہیں ۔۔ اسکول  سے باہر بچوں   کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔  

یہ ایک  تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تبدیلی ایک سُست عمل ہے لیکن جب تعلیمی تبدیلیوں کی بات کی جائے تو یہ اور بھی آہستہ ہوتا ہے۔ لہذا ، یہ ضروری ہے  کہ بنائے گئے منصوبوں پر عمل کو ہنگامی بنیادوں پر ممکن بنایا جائے آرٹیکل 25  الف ، تعلیم کا حق،  کا حصول  جو کہتا ہے ، ” ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مذکورہ طریقہ کار جیسا کہ قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی”  مشکل کام لگتا ہے۔اس آرٹیکل میں ایک اہم نقطہ معیارکاذکر نہیں  حالانکہ   اِسے” ۔۔۔۔ مفت اور معیاری تعلیم ۔۔۔” کی طرح لکھا جانا چاہیے تھا۔ اگر تعلیم معیار سے محروم ہوتی ہے تو یہ  فرد ، ملک اور  دنیاء عالم کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ معیاری تعلیم کا حصول اور اسکولوں میں تعلیم  جاری رکھنے   کی شرح   میں  گہرا  تعلق ہے۔   اسکولوں میں تدریسی معیار میں بہتری  آئے گی   اور بچے تعلیم کی مطابقت کو  اپنی روز مرہ کی زندگی کے ساتھ دیکھیں گےتو زیادہ سے زیادہ بچے  اپنی  تعلیم جاری رکھ سکیں  گے۔

 بچوں  کی اسکول کی تعلیم  کی راہ  میں صرف غیر معیاری   درس و تدریس، بچوں کی معاشی و اقتصادی صورتحال ، اسکولوں تک  رسائی، سیکیورٹی خدشات اور غیر معیاری تعلیمی ماحول  ہی نہیں بلکہ ان اسکولوں کا سخت نصاب اور  اسکولوں کے اوقاتِ کاربھی  رکاوٹ  ہیں ۔ ہم اس حقیقت کو کیوں نہیں  تسلیم کر سکتے ہیں  کہ سیکھنا کہیں بھی اور کبھی بھی ہو سکتا ہے؟ ہم  ایسی روایت کیوں نہیں متعارف کر سکتے جہاں مدرسہ ، یونیورسٹیوں ، اساتذہ ٹریننگ کالجوں ، پارکس ، شاپنگ مالز ، ورکشاپس ، فیکٹریوں ، گلیوں ، اسکولوں ، کیمپوں ، عدالتوں ، کالجوں اور ہاسٹل میں دن کے  کسی بھی  اوقات میں سیکھنے کے مواقع میسر ہو۔  ملک میں تعلیمی اصلاحات کو جنگی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے جس کے حصول کے لئے  ملک گیرسیاسی خواہش اور قومی محرک اہم جزو ہیں۔

 کرونا  نے تعلیمی  صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ یہ خدشہ بڑھتا جارہا ہے کہ کنبوں کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے ارادے سے زیادہ سے زیادہ  بچے خاص طور پر لڑکے غیر ہنر مند مزدور ی کا آغاز کر دے گے۔ اس سے ڈراپ آؤٹ تناسب  کے ساتھ ساتھ  چائلڈ لیبر میں بھی اضافہ ہوگا جو پہلے ہی سے کافی تشویشناک ہے پاکستان لیبر فورس سروے 2014 -15 کے مطابق 5 لاکھ بچے چائلڈ لیبر میں پھنسے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ  سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ، کیا ہماری سمت صحیح ہے؟ اور کیا ہم وقت کی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں؟ بلاشبہ ، وقت اہم ہے کیونکہ وہ انتظار نہیں کرسکتا  کہ  قوم کو پہلے اپنے معاشی بحرانوں سے نمٹنے دیں اور پھر بعد میں تعلیم سے نمٹنے کے لئے واپس آ جائیں۔ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لئے یہ ایک مشکل جنگ کی طرح  ہوگی کہ وہ اپنے باقی دور حکومت میں خاطر خواہ نتائج دکھائیں  جس کا انہوں نے ابھی تک آغاز  ہی نہیں کیا ہے۔

آخر میں ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو   مشورہ د ینا چاہتا ہوں کہ  (ا) حکومت کے زیرقیادت تعلیمی اقدامات کو عوام  تک  بروقت پہنچایا جائے (۲) وبائی مرض کے دوران چوکنا رہنا  چاہیے اور تعلیم کے بدلتے ہوئے حالات پر کڑی نگاہ رکھنا چاہیے۔(۳) جتنی جلدی ممکن ہو تعلیم کی اصلاحات کو شروع کرنا چاہیے(۴) قلیل مدتی اور طویل مدتی اہداف پر ایک ساتھ  کام کرنا چاہیے جیسے ،  تعلیم کے لئے ٹائیگر فورس جیسی ایک اور رضاکارانہ گروپ تشکیل دینا   چاہیے (۵) اگر ہم بچوں کو اسکول  تک نہیں لاسکتے ہیں  تو سکولوں کو بچوں تک  پہنچاننے کے جدید نظام  متعارف کروانا چاہیے ، (۶) تعلیی اصلاحات میں مدد کرنے کے لئے سول سوسائٹی ، غیر سرکاری تنظیموں ، اور نجی شعبوں سے مدد لینا چاہیے۔

One thought on “اسکول سے باہر بچے اپنے تعلیمی حق کے لئےنجات دہندہ کے منتظر”
  1. Excellent peice of thought! Our education system is already destroyed now there is immense need to improve it.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *